ہائی اسکورنگ ٹاکرا، بھارت بال بال بچ گیا

0 779

کئی اہم کھلاڑیوں کے بغیر ویسٹ انڈیز کے دورے پر پہنچنے والا بھارت پہلے مقابلے میں بال بال بچ گیا اور بڑی جان ماری کے بعد 3 رنز سے جیت پایا۔ یہ محمد سراج تھے جنہوں نے آخری اوور میں 15 رنز کا کامیابی سے دفاع کیا اور آخری گیند پر جب پانچ رنز درکار تھے تو عمدہ یارکر کے ذریعے روماریو شیفرڈ کو باؤنڈری سے محروم کر دیا۔

بھارت کا دورۂ ویسٹ انڈیز 2022ء - پہلا ون ڈے انٹرنیشنل

ویسٹ انڈیز بمقابلہ بھارت

‏22 جولائی 2022ء

کوئنز پارک اوول، پورٹ آف اسپین، ٹرینیڈاڈ

بھارت 3 رنز سے جیت گیا

بھارت 🏆308-7
شیکھر دھاون9799
شبمن گل6453
ویسٹ انڈیز باؤلنگامرو
گداکیش موتی100542
الزاری جوزف100612

ویسٹ انڈیز 305-6
کائل میئرس7568
برینڈن کنگ5466
بھارت باؤلنگامرو
شاردل ٹھاکر80542
محمد سراج100572

پورٹ آف اسپین میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میں ویسٹ انڈیز کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بھارت نے 308 رنز بنائے تھے۔ نئی سیریز میں پھر نئے کپتان کے ساتھ کھیلنے والا بھارت شیکھر دھاون کی کیپٹن اننگز کی بدولت یہاں تک پہنچا۔ دھاون نے طویل عرصے بعد کوئی لمبی اننگز کھیلی۔ وہ اسے سنچری میں تو نہیں بدل پائے بلکہ 97 رنز پر آؤٹ ہو گئے لیکن یہ میچ کی سب سے بڑ اننگز ضرور بن گئی۔

دھاون کے علاوہ شبمن گل نے 64 اور شریاس آیر نے 54 رنز بنائے، یعنی بھارت کے ٹاپ تین بلے بازوں کے رنز ہی 215 بنتے ہیں۔ باقی پوری ٹیم صرف 93 رنز کا اضافہ کر پائی۔ آخری 15 اوورز میں بھارت صرف 83 رنز کا اضافہ کر پایا، وہ بھی پانچ وکٹیں دے کر۔

آخر میں دیپک ہودا اور آکشر پٹیل نے بالترتیب 27 اور 21 رنز کی اننگز کھیلیں، لیکن 'رن اے بال' سے آگے کوئی نہیں بڑھ پایا۔ یہی وجہ ہے کہ اسکور 50 اوورز میں 7 وکٹوں پر 308 رنز تک ہی محدود رہا۔

تعاقب میں گو کہ ویسٹ انڈیز کا آغاز سست تھا، پانچویں اوور تک بھی صرف 16 رنز ہی بنے تھے، اس پر بھی شے ہوپ کی وکٹ گر گئی تھی۔ لیکن اس کے بعد معاملات سنبھل گئے۔ شیمار بروکس اور کائل میئرس کی دوسری وکٹ پر 117 رنز کی شراکت داری نے ویسٹ انڈیز کو وہ بنیاد فراہم کی، جس کی اسے ضرورت تھی۔

بروکس 46 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے اور کچھ ہی دیر بعد میئرس کی 68 گیندوں پر 75 رنز کی اننگز بھی تمام ہوئی۔ بعد میں جو بیٹسمین آئے، وہ بھی پیچھے نہیں رہے۔ برینڈن کنگ نے 66 گیندوں پر 54 رنز اسکور کیے جبکہ کپتان نکولس پورَن 26 گیندوں پر 25 رنز بنانے میں کامیاب رہے۔ سب کا مسئلہ یہ تھا کہ آؤٹ ہو گئے اور بہت ہی غلط وقت پر آؤٹ ہوئے۔

کپتان پورَن کی وکٹ تو اس وقت گری جب آخری 15 اوورز میں ویسٹ انڈیز کو 120 رنز کی ضرورت تھی اور اس کی سات وکٹیں بھی باقی تھیں۔ یہاں پر کچھ ہی دیر میں پورَن اور روومین پاول کی وکٹیں گرنے سے بھارت مقابلے میں ایسا واپس آیا کہ پھر جان توڑ کوشش کے باوجود ویسٹ انڈیز جیت نہیں پایا۔

آؤٹ ہونے والے آخری کھلاڑی برینڈن کنگ تھے، جو 252 رنز پر ویسٹ انڈیز کی چھٹی وکٹ بنے تھے۔ اس کے بعد عقیل حسین اور روماریو شیفرڈ کی بھرپور کوشش بھی ویسٹ انڈیز کے لیے کافی ثابت نہیں ہوئی۔ دونوں نے ساتویں وکٹ پر صرف 33 گیندوں پر 53 رنز کی شراکت داری کی۔ لیکن شیفرڈ 25 گیندوں پر 39 اور عقیل 32 گیندوں پر اتنے ہی رنز کے ساتھ میدان سے مایوس ہی لوٹے۔

اگر جیت جاتے تو اس میدان پر حاصل کردہ سب سے بڑا ہدف ہوتا۔

بھارت کی جانب سے محمد سراج، شاردل ٹھاکر اور یزویندر چہل نے دو، دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ سراج نے نکولس پورَن کی قیمتی وکٹ بھی حاصل کی اور فیصلہ کن دھچکا، یعنی روومین پاول کی وکٹ چہل نے دلائی۔