[آج کا دن] ایشین بریڈمین ظہیر عباس کا یومِ پیدائش

0 222

کرکٹ تاریخ میں جو مقام اور جو حیثیت آسٹریلیا کے سر ڈان بریڈمین کی ہے، دنیا کے کسی دوسرے بلے باز کو حاصل نہیں۔ آسٹریلیا سے لے کر ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ سے پاکستان تک ہر جگہ انہیں عظیم ترین بیٹسمین سمجھا جاتا ہے۔ تاریخ میں بہت کم ایسے بلے باز گزرے ہیں جنہیں بریڈمین جیسے بیٹسمین سے جوڑا گیا ہو، انہی میں سے ایک ہیں پاکستان کے ظہیر عباس، جو 1947ء میں آج ہی کے دن پیدا ہوئے تھے۔

ظہیر عباس نے اکتوبر 1969ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف کراچی ٹیسٹ سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ ٹھیک دو سال بعد پاکستان انگلینڈ کے دورے پر تھا، جہاں ظہیر اپنا دوسرا ٹیسٹ کھیلنے کے لیے میدان میں آئے۔ ایجبسٹن، برمنگھم میں موجود تماشائیوں کو اندازہ نہیں تھا کہ آج سے اُن کا ظہیر عباس کے ساتھ ایک خاص تعلق قائم ہو جائے گا۔

پھر اس میدان پر ظہیر کھیلے اور خوب کھیلے۔ 467 گیندوں پر 38 چوکوں کی مدد سے 274 رنز بنائے اور یوں رنز بنانے کی مشین چل پڑی۔ اس اننگز نے ان کی کاؤنٹی کرکٹ میں آمد کا راستہ کھولا، جہاں وہ اگلی ایک، ڈیڑھ دہائی تک اپنے جلوے دکھاتے رہے۔ انہوں نے طویل عرصے تک گلوسسٹرشائر کی نمائندگی کی اور 100 سے زیادہ کاؤنٹی میچز کھیلے۔

ویسے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ظہیر کو ایشین بریڈمین کیوں کہتے تھے؟ اس لیے کیونکہ وہ ایشیا کے واحد بلے باز ہیں جنہوں نے 100 فرسٹ کلاس سنچریاں بنائی تھیں۔ ایک ایسا کارنامہ جو ظہیر عباس کے سوا کوئي انجام نہیں دے پایا۔

پھر یہی نہیں بلکہ ظہیر بریڈمین کی طرح طویل اننگز کھیلنے والے بلے باز بھی تھے۔ ان کی 12 میں سے 4 سنچریوں نے 200 کا ہندسہ عبور کیا۔ ایجبسٹن میں تو وہ حنیف محمد کے بعد پاکستان کے دوسرے ٹرپل سنچورین بن جاتے، لیکن 9 گھنٹے طویل یہ اننگز 274 رنز پر تمام ہو گئی اور پھر دوبارہ انہیں کبھی ٹرپل سنچری کا موقع نہیں ملا۔

اس کے علاوہ ظہیر نے 1974ء میں انگلینڈ ہی کے خلاف 240 رنز کی اننگز بھی کھیلی اور پھر بھارت کے خلاف بھی دو ڈبل سنچریاں بنائیں۔ ایک 1978ء میں لاہور ٹیسٹ میں 235 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز تھی۔ یہ وہی سیریز تھی جس میں انہوں نے ایک سیریز میں سب سے زیادہ 583 رنز کا ورلڈ ریکارڈ بنایا، 176، 96 اور 42 رنز کی اننگز کھیل کر۔

دسمبر 1982ء میں انہوں نے لاہور میں ہی، بھارت کے خلاف ہی، 215 رنز کی صورت میں اپنی آخری ڈبل سنچری بنائی۔ قسمت دیکھیں کہ کراچی میں کھیلے گئے اگلے ٹیسٹ میں 186 پر آؤٹ ہوئے اور فیصل آباد میں 168 رنز پر، یعنی دو مزید ڈبل سنچریوں کا موقع ہاتھ سے نکل گیا۔ ورنہ تاریخ میں پہلی بار تین ٹیسٹ میچز میں تین ڈبل سنچریاں بنانے کا انوکھا ریکارڈ بھی ظہیر عباس کے نام  ہو جاتا۔

ظہیر عباس ون ڈے کرکٹ کے بھی بہت عمدہ بیٹسمین تھے۔ کیونکہ مزاجاً دفاعی کھلاڑی نہیں تھے اس لیے محدود اوورز کی کرکٹ میں خوب چلے۔ اُس زمانے میں 47 سے زیادہ کے اوسط سے رنز بنائے اور صرف 62 میچز میں 7 سنچریوں اور 13 نصف سنچریوں کی مدد سے 2572 رنز بنائے۔

ظہیر عباس کو ‏1982-83ء میں بھارت کے خلاف مسلسل تین ون ڈے میچز میں تین سنچریاں بنانے کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے ملتان میں 118، لاہور میں 105 اور کراچی میں 113 رنز کی اننگز کھیلیں۔ مسلسل تین مقابلوں میں سنچریاں بنانے کا یہ ریکارڈ بہت لمبے عرصے تک قائم رہا۔

حکومت پاکستان نے 1971ء میں ظہیر عباس کو تمغہ حسنِ کارکردگی سے نوازا تھا۔ 2020ء میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے انہیں "کرکٹ ہال آف فیم" میں شامل کیا اور اگلے ہی سال یعنی 2021ء میں وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے بنائے گئے "ہال آف فیم" کے ابتدائی اراکین میں شامل ہوئے۔

ظہیر عباس کے کیریئر پر ایک نظر

فارمیٹمیچزرنزبہترین اننگزاوسط10050
ٹیسٹ78506227444.791220
ون ڈے انٹرنیشنل62257212347.62713
فرسٹ کلاس4593484327451.54108158
لسٹ اے32311240158*40.721972