[آج کا دن] جب ڈان نے جنم لیا

0 174

کرکٹ ریکارڈز کا کھیل ہے، ہر روز، ہر مقابلے میں کوئی نہ کوئی ریکارڈ بنتا، ٹوٹتا رہتا ہے لیکن آسٹریلیا کے عظیم بلے باز سر ڈان بریڈمین نے کچھ ایسے ریکارڈز بنائے ہیں جو آج دہائیاں گزرنے کے بعد بھی جوں کے توں موجود ہیں اور کچھ ریکارڈز تو شاید کبھی نہ ٹوٹیں۔ آج آسٹریلیا کے انہی عظیم ترین بیٹسمین کا یوم پیدائش ہے، جو 27 اگست 1908ء کو پیدا ہوئے تھے۔

بریڈمین کو جس ریکارڈ کی وجہ سے آج تک یاد کیا جاتا ہے وہ ہے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ بیٹنگ ایوریج کا ریکارڈ ہے، جو ہے 99.94۔ اس ریکارڈ کے قریب بھی آج تک کوئی نہیں پھٹکا۔ پھر سب سے زیادہ 12 ڈبل سنچریوں کا ریکارڈ ہے۔ سری لنکا کے کمار سنگاکارا بہت غیر معمولی کارکردگی دکھا کر 11 ڈبل سنچریوں تک پہنچے لیکن اس ریکارڈ کو توڑ نہیں پائے۔ پھر انہوں نے ایک ہی سیریز میں 974 رنز بنانے کا کارنامہ بھی انجام دیا۔ یہی نہیں ایک ہی دن میں ٹرپل سنچری بنانے والے بیٹسمین بھی بنے۔

ڈان بریڈمین کے کیریئر پر ایک نظر

فارمیٹمیچزرنزبہترین اننگزاوسط10050
ٹیسٹ526996334292913
فرسٹ کلاس23428067452*11711769

ڈان بریڈمین نے 1928ء سے 1948ء تک 20 سال کرکٹ کھیلی۔ اپنے آخری ٹیسٹ میں ڈان کو صرف 4 رنز بنانے کی ضرورت تھی، جن کی بدولت ان کا بیٹنگ ایوریج 100 ہو جاتا لیکن قسمت دیکھیے کہ اپنی آخری اننگز میں وہ صفر پر آؤٹ ہو گئے۔ یوں 99.94 کا ہندسہ تاریخ میں امر ہو گیا۔

اگر کم از کم 2 ہزار ٹیسٹ رنز کو معیار بنایا جائے تو جنوبی افریقہ کے گریم پولاک کا بیٹنگ ایوریج دوسرے نمبر پر ہے، لیکن 60.97 ہے۔ فرق کا اندازہ لگا لیں۔

ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ اوسط رکھنے والے بیٹسمین

 مقابلےرنزبہترین اننگزاوسطسنچریاںنصف سنچریاں
ڈان بریڈمین52699633499.942913
ایڈم ووجس201485269*61.8754
گریم پولاک23225627460.97711
جارج ہیڈلی222190270*60.83105
ہربرٹ سٹکلف54455519460.731623

بریڈمین نے 1930ء کے دورۂ انگلینڈ میں محض 21 سال کی عمر میں اپنی پہلی ڈبل سنچری بنائی تھی، وہ بھی لارڈز کے میدان پر۔ صرف دو ہفتے بعد انہوں نے ہیڈنگلی میں ٹرپل سنچری بھی جڑ دی۔ یہ تاریخ کی تیز ترین ٹرپل سنچری ہے جو انہوں نے ایک ہی دن میں بنائی اور پھر یہی وہ سیریز تھی جس میں انہوں نے 974 رنز اسکور کیے جو آج تک ایک ریکارڈ ہے۔

ڈان بریڈمین، سال بہ سال

سالمیچزرنزبہترین اننگزاوسط10050
‏1928ء221011252.5011
‏1929ء225812386.0011
‏1930ء6978334122.2540
‏1931ء7950226105.5550
‏1932ء3402299*402.0020
‏1933ء32937648.8303
‏1934ء575830494.7521
‏1936ء21208230.0001
‏1937ء3690270138.0030
‏1938ء4434144*108.5031
‏1946ء2421234210.5020
‏1947ء545718565.2813
‏1948ء81025201113.8852

بریڈمین صرف اپنے آخری ٹیسٹ ہی میں بد قسمت ثابت نہیں ہوئے بلکہ جب وہ اپنے عروج پر تھے تو دوسری جنگِ عظیم شروع ہو گئی اور ان کے 8 سال جنگ کی نذر ہو گئے۔ لیکن بریڈمین کی کلاس دیکھیے، 8 سال کرکٹ سے باہر رہنے کے بعد جب وہ واپس آئے تو سلسلہ وہیں سے جوڑا، جہاں سے ٹوٹا تھا۔ 1946ء میں جنگِ عظیم کے پہلے ہی ٹیسٹ میں انہوں نے 187 اور دوسرے میں 234 رنز کی اننگز کھیلیں۔ مجموعی طور پر جنگ کے بعد تو ان کی کلاس ہی الگ نظر آئی۔ ابتدائی 15 ٹیسٹ میچز میں انہوں وہ کارکردگی دکھائی کہ کیریئر ایوریج 105 تک جا پہنچا۔

ڈان بریڈمین کی ایک اور خاص بات تھی طویل اننگز کھیلنا۔ ان کے کیریئر میں 29 سنچریاں ہیں اور صرف 13 نصف سنچریاں۔ پھر ان 29 سنچریوں میں 12 مرتبہ انہوں نے 200 رنز کا ہندسہ بھی عبور کیا بلکہ دو مرتبہ تو 300 رنز سے بھی آگے چلے گئے۔

دنیا کے دیگر مشہور بلے بازوں کے برعکس ڈان بریڈمین کے رنز ہمیشہ ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتے۔ ان کی 29 میں سے 23 سنچریاں ایسی تھیں، جن میں آسٹریلیا کو کامیابی نصیب ہوئی۔ ان کے پورے کیریئر میں آسٹریلیا صرف ایک سیریز ہارا، ‏1932-33ء کی بدنامِ زمانہ باڈی لائن سیریز کہ جس کی وجہ سے انگلینڈ کے باؤلرز اور کپتان کو آج تک بزدل کہا جاتا ہے۔

ڈان بریڈمین کا انتقال 25 فروری 2001ء کو ہوا۔ اس سے پہلے انہیں معروف جریدے 'وزڈن' نے صدی کے پانچ بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک قرار دیا۔