محمد یوسف، دل موہ لینے والا بیٹنگ انداز اور رنز کے انبار

0 197

اگر یہ سوال کیا جائے کہ اِس صدی میں پاکستان کا اسٹائلش ترین بلے باز کون سے ہے؟ تو کرکٹ کی معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی محمد یوسف ہی کا انتخاب کرے گا۔ بلے بازی کا دل موہ لینے والا انداز اور اس پر رنز کے انبار، انہوں نے یوسف کو ایک ایسے مقام پر پہنچایا جو قابلِ رشک ہے۔ آج 27 اگست کو عظیم ترین بلے باز ڈان بریڈمین کی طرح محمد یوسف کا بھی یومِ پیدائش ہے۔

محمد یوسف کا پیدائشی نام یوسف یوحنا تھا۔ آپ پاکستان کے لیے کھیلنے والے چوتھے مسیحی کھلاڑی تھے لیکن بعد ازاں آپ نے اسلام قبول کر لیا۔ انہوں نے 1998ء سے 2010ء کے دوران کُل 90 ٹیسٹ میچز کھیلے اور آج بھی پاکستان کے لیے سب سے زیادہ رنز بنانے والے ٹاپ 4 بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں۔

پاکستان کے لیے سب سے زیادہ ٹیسٹ رنز بنانے والے بیٹسمین

میچزرنزبہترین اننگزاوسط10050
یونس خان1181009931352.053433
جاوید میانداد1248832280*52.572343
انضمام الحق119882932950.162546
محمد یوسف90753022352.292433
اظہر علی957030302*42.601935

یوسف نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز فروری 1998ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف اُس تاریخی ڈربن ٹیسٹ سے جس میں پاکستان نے ایک یادگار فتح حاصل کی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ٹیم میں سعید انور، عامر سہیل، انضمام الحق، اعجاز احمد اور سلیم ملک جیسے بلے باز ہوتے تھے، ان کے ہوتے ہوئے اپنی جگہ اور مقام بنانا یوسف کے لیے مشکل ضرور تھا لیکن ناممکن نہیں۔ انہوں نے اپنے ابتدائی چھ ٹیسٹ میچز میں 4 نصف سنچریاں بنائیں اور بالآخر پانچویں ٹیسٹ میں 'ہوم بوائے' یوسف نے زمبابوے کے خلاف لاہور ٹیسٹ میں پہلی ٹیسٹ سنچری بنا ڈالی۔

اگلے ہی سال یعنی 2000ء میں یوسف ویسٹ انڈیز کے دورے پر گئے اور دونوں میچز میں سنچریاں داغ کر پاکستان کو جیت کے قریب پہنچایا۔ وہ الگ بات کہ ناقص امپائرنگ اور خود اپنی فیلڈنگ نے بھی پاکستان سے یہ تاریخی موقع چھین لیا اور وہ پہلی بار ویسٹ انڈیز میں سیریز جیتنے کے اعزاز سے محروم رہ گیا لیکن اس دورے نے محمد یوسف کی صلاحیتیں کھول کر سامنے رکھ دیں۔

پھر جب ورلڈ کپ 2003ء میں پاکستان بُری طرح شکست سے دوچار ہوا اور ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں تو محمد یوسف پاکستان کے اسکواڈ کا مستقل حصہ بن گئے۔ بلکہ 2004ء میں انضمام الحق کی عدم موجودگی میں میلبرن ٹیسٹ میں پاکستان کی قیادت کے فرائض انجام دیے۔ یوں وہ پاکستان کے پہلے مسیحی کپتان بنے۔ اس میچ میں کھیلی گئی 111 رنز کی اننگز کو یوسف کی بہترین اننگز میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں مشکل حالات میں انہوں نے گلین میک گرا اور شین وارن جیسے باؤلرز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ تصور کیجیے باکسنگ ڈے ٹیسٹ کا پہلا دن، میلبرن کا خوبصورت میدان، باؤلنگ پر گلین میک گرا ہیں اور محمد یوسف اپنے دلکش اسٹروکس نے میدان میں موجود 61 ہزار تماشائیوں کو محظوظ کر رہے ہیں۔

محمد یوسف نے انگلینڈ کے دورۂ پاکستان 2005ء میں بہترین کارکردگی دکھائی تھی۔ انہوں نے لاہور ٹیسٹ میں 223 رنز بنائے اور پاکستان کی اننگز سے کامیابی میں بنیادی کردار ادا کیا اور یہی وہ سال تھا جس میں انہوں نے اسلام بھی قبول کیا۔

اس کے بعد تو محمد یوسف کو پر لگ گئے۔ 2006ء میں کرکٹ میں ان کے لیے یادگار ترین سال رہا۔ انہوں نے سال کا آغاز ہی فیصل آباد میں 126 اور کراچی میں 97 رنز کی اننگز سے کیا اور پھر انگلینڈ کے دورے پر لارڈز میں وہ ڈبل سنچری اننگز کھیلی، جسے آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔

لارڈز کی ڈبل سنچری اس وقت بنائی گئی جب انگلینڈ پہلی اننگز میں 528 رنز بنا چکا تھا اور پاکستان کے چار کھلاڑی صرف 68 رنز پر آؤٹ ہو چکے تھے۔ یہاں پر محمد یوسف نے پہلے کپتان انضمام الحق کے ساتھ 173 اور پھر کامران اکمل کے ساتھ مزید 99 رنز کا اضافہ کیا اور میچ بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یوسف کی 202 رنز کی اننگز کی بدولت پاکستان 445 رنز تک پہنچا اور بعد میں میچ ڈرا کرنے میں بھی کامیاب ہوا۔

صرف یہیں نہیں، بلکہ ہیڈنگلی میں 192 اور اوول میں 128 رنز کی اننگز بھی کھیلیں۔ بہت عرصے سے کوئی ایسا بیٹسمین نہیں دیکھا جو انگلینڈ کے خلاف انگلینڈ میں ایسی مستقل مزاجی کے ساتھ کارکردگی دکھائے۔ اس سیریز میں یوسف نے 90.31 کے اوسط سے 631 رنز بنائے۔ وہ الگ بات کہ پاکستان یہ سیریز ‏3-0 سے ہار گیا اور اوول تنازع کی وجہ سے سیریز کا اختتام بہت بد مزگی کے ساتھ ہوا۔

بہرحال، یوسف کو روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ 2006ء میں وہ رنز بناتے چلے گئے یہاں تک کہ جب سال ختم ہوا تو وہ 9 سنچریوں کی مدد سے 1788 رنز بنا چکے تھے یعنی عظیم بیٹسمین سر ویوین رچرڈز کا 30 سال پرانا ریکارڈ توڑ چکے تھے۔ سال میں 9 سنچریاں بنانا بھی ایک ریکارڈ ہے، دنیا کے کئی عظیم بیٹسمین کبھی ایک سال کے دوران اتنی سنچریاں نہیں بنا پائے۔

سال میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز

نامسالمقابلےرنزبہترین اسکوراوسط10050
محمد یوسف‏2006ء11178820299.3393
ویوین رچرڈز‏1976ء11171029190.0075
جو روٹ‏2021ء15170822861.0064
گریم اسمتھ‏2008ء15165623272.0066
مائیکل کلارک‏2012ء111595329*106.3353

اسی کارکردگی کی بنیاد پر معروف جریدے 'وزڈن' نے 2006ء میں یوسف کو اپنے پانچ بہترین کھلاڑیوں میں شمار کیا۔ یہی نہیں بلکہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بھی انہیں سال کے بہترین ٹیسٹ کھلاڑی کا اعزاز دیا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پاکستان کے پہلے کھلاڑی ہیں۔

محمد یوسف نے اپنے ٹیسٹ کیریئر میں 52.29 کے اوسط کے ساتھ 7530 رنز بنائے، 24 سنچریوں اور 33 نصف سنچریوں کے ساتھ۔ ان کا ون ڈے انٹرنیشنل کیریئر بھی قابلِ دید ہے۔ 288 مقابلوں میں انہوں نے 41.71 کے ایوریج کے ساتھ 9,720 رنز بنائے۔ اسے محمد یوسف کی بد قسمتی سمجھیں کہ انہیں 100 ٹیسٹ، 8 ہزار ٹیسٹ رنز، 300 ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے اور 10 ہزار رنز مکمل کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔

محمد یوسف کے کیریئر پر ایک نظر

فارمیٹمیچزرنزبہترین اننگزاوسط10050
ٹیسٹ90753022352.292433
ون ڈے انٹرنیشنل2889720141*41.711564
ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل3502616.6600
فرسٹ کلاس1411050522347.963051
لسٹ اے33811026141*40.091575
ٹی ٹوئنٹی2736857*19.3601