پی ایس ایل الیون، بہترین کھلاڑی، بہترین ٹیم

پاکستان سپر لیگ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ اختتام کو پہنچی۔ جتنا آغاز شاندار تھا، اختتام اس سے کئی گنا زیادہ جاندار ثابت ہوا۔ اس میں ہر وہ عنصر شامل دکھائی دیا جو کسی بھی لیگ کی کامیابی کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ فاتح تو اسلام آباد یونائیٹڈ رہے لیکن یہ بات زبان زد عام ہے کہ دل کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے جیتے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دراصل فائنل کھیلنے کی حقدار بھی یہی دو ٹیمیں تھیں۔ سب سے اہم بات اس لیگ کے پہلے ہی سیزن سے چند ایسے کھلاڑی مل گئے ہیں جو مستقبل میں ملک و قوم کا نام روشن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پی ایس ایل کے بہترین کھلاڑیوں پر مشتمل اگر ٹیم بنانے کی کوشش کی جائے تو وہ ضرور ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہوگی:

شرجیل خان (اسلام آباد یونائیٹڈ)

Sharjeel-Khan
شرجیل خان پی ایس ایل سیزن 1 میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے ہر میچ کھیلا۔ ابتدائی مقابلوں میں ناکامی کے بعد وہ تن تنہا مخالفین اور فتح کے درمیان ڈٹ گئے۔ شارجہ میں لاہور قلندرز کے خلاف 79 رنز کی اننگز پہلی جھلک تھی۔ اس کے بعد شرجیل مرجھائے ہوئے دکھائی دیے لیکن لیگ کے سب سے اہم مقابلے میں انہوں نے پشاور زلمی کے خلاف سنچری بنائی۔ اہم مقابلے میں صرف 62 گیندوں پر 117 رنز بنا شرجیل نے ثابت کیا کہ وہ بڑے میچ کے بڑے کھلاڑی ہیں۔ اسی اننگز نے ان پر قومی ٹیم کے دروازے بھی کھول دیے ہیں اور وہ ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

تمیم اقبال (پشاور زلمی)

Tamim-Iqbal
اگر یہ کہا جائے کہ پشاور زلمی کی ابتدائی فتوحات میں تمیم اقبال کا نمایاں کردار تھا تو بالکل غلط نہ ہوگا۔ اپنے پہلے دو مقابلوں میں ہی، اسلام آباد اور لاہور کے خلاف، تمیم نے نصف سنچریاں بنائیں اور مخالفین لیے خطرے کی گھنٹی بجادی۔ اِن دو نصف سنچریوں کے بعد بھی وہ رکے نہیں بلکہ شارجہ میں اسلام آباد کے خلاف ناقابل شکست 80 رنز بھی جڑ ڈالے۔ لیکن ایشیاء کپ کی تیاری اور گھریلو مسائل کی وجہ سے انہیں ابتدائی 6 مقابلوں کے بعد وطن واپس جانا پڑا، جس سے سبب پشاور زلمی کو بڑا دھچکا لگا۔ تمیم کے بعد پشاور کو دونوں پلے آف مقابلوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور وہ فائنل کی دوڑ سے باہر ہوگیا۔ تمیم نے صرف 6 مقابلوں میں 66.75 کے اوسط سے 267 رنز بنائے۔

عمر اکمل (لاہور قلندرز)

Ahmed-Shehzad-Umar-Akmal
عمر اکمل اِس وقت کتنی بہترین فارم میں ہیں، یہی کافی ہے کہ اُن کو پی ایس ایل کے پہلے سیزن میں بہترین بلے باز کا ایوارڈ ملا ہے۔ پاکستانی کرکٹ میں کسی بھی بلے باز کے بارے میں اتنی مختلف آراء نہیں پائی جاتیں جتنی عمر اکمل کے بارے میں ہیں۔ کوئی بھرپور "ٹیلنٹ" کے سبب انہیں ملک کا مستقبل کہتا ہے تو کوئی کہتا ہے کہ ایسے ٹیلنٹ کا کیا کریں جو میدان میں خود کو ثابت نہ کرسکے۔ لیکن پی ایس ایل میں عمر اکمل نے ناقدین کے منہ بند کردیے ہیں۔ کمر کی تکلیف کی وجہ سے پہلا میچ نہ کھیلنے کے بعد دوسرے میں انہوں نے "دبنگ انٹری" دی۔ ابتدائی سات میچز میں چار نصف سنچریاں بنا کر انہوں حریفوں کو اپنے ارادوں سے آگاہ کیا۔ بدقسمتی کہ اُن کی بھرپور محنت کے باوجود لاہور کی ٹیم پلے آف تک بھی نہ پہنچ سکی۔ لیکن ذرا عمر کی کارکردگی دیکھیں، 83.75 کے زبردست اوسط کے ساتھ 335 رنز، جن میں 93 رنز کی ایک طوفانی اننگز بھی شامل تھی۔

کیمرون ڈیلپورٹ (لاہور قلندرز)

cameron-delport
کرس گیل، عمر اکمل اور ڈیوین براوو کی موجودگی میں لاہور قلندرز کا ایک چھوٹا اور غیر معروف نام لیکن کام میں شاندار۔ جنوبی افریقہ کے کیمرون ڈیلپورٹ۔ 26 سالہ آل راؤنڈر نے تین نصف سنچریوں کی بدولت سیزن میں 227 رنز بنائے۔ پشاور زلمی جیسی خطرناک باؤلنگ لائن کے خلاف 78 رنز اور پھر تین وکٹیں حاصل کرکے انہوں نے لاہور کی ایک یادگار کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ عمر اکمل کی طرح وہ بھی بدقسمت رہے کہ لاہور قلندرز ناکامیاں سمیٹتے ہوئے جلد باہر ہوگئے۔

روی بوپارا (کراچی کنگز)

Ravi-Bopara
کاغذ پر کراچی کنگز جیسی شاید کوئی ٹیم مضبوط نہیں تھی، لیکن عملی میدان میں شاید ہی کوئی اتنا کمزور واقع ہوا ہو۔ ٹیم میں کئی قابل ذکر نام تھے لیکن کارکردگی صرف روی بوپارا نے دکھائی جو "کراچی کے تنہا سپاہی" تھے۔ 54.83 کے اوسط سے 329 رنز بنا کر وہ صرف 6 رنز کے فرق سے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز نہ بن سکے۔ پھر صرف بیٹنگ میں نہیں بلکہ گیندبازی میں بھی ان کی کارکردگی نمایاں رہی۔ روی نے سیزن میں 11 وکٹیں حاصل کیں جن میں لاہور کے خلاف 16 رنز دے کر 6 وکٹوں کی کارکردگی بھی شامل ہے۔

سرفراز احمد (کوئٹہ گلیڈی ایٹرز)

Viv-Richards-Sarfraz-Ahmed
پی ایس ایل نے جہاں کئی کھلاڑیوں کی چھپی ہوئی صلاحیتیں دکھائیں، وہیں سرفراز احمد میں چھپے مستقبل کے قائد کو بھی دنیا کے سامنے لے آئی۔ گو کہ پانچوں ٹیموں میں تجربے کے لحاظ سے سرفراز احمد سب سے کم تجربہ کار کپتان تھے لیکن خداداد صلاحیتوں کی بدولت انہوں نے اپنی ٹیم کو ہر میچ میں لڑوایا اور نتیجہ یہ نکلا کہ راؤنڈ میں 6 کامیابیوں کے بعد کوئٹہ پلے آف مرحلے میں پہنچا اور پشاور کو شکست دے کر فائنل تک رسائی کرنے والی پہلی ٹیم بنا۔ بلے بازی کے شعبے میں تو سرفراز کچھ زیادہ نہ کر سکے اور اسلام آباد کے خلاف ایک نصف سنچری کے علاوہ زیادہ رنز بنانے میں ناکام رہے، لیکن جس کمال ہوشیاری سے انہوں نے ٹیم کو فائنل تک پہنچایا، اس پر داد بنتی ہے۔ پلے آف میں انہوں نے آخری اوور میں صرف 8 رنز کے دفاع کے لیے جس طرح اعزاز چیمہ پر بھروسہ کیا، اور پھر کامیابی سمیٹی وہ ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا اظہار ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کامران اکمل اب صرف اسپیشلسٹ بیٹسمین

آندرے رسل (اسلام آباد یونائیٹڈ)

Andre-Russell
بگ بیش لیگ میں فاتح قرار پانے کے بعد سڈنی تھنڈر کے آندرے رسل اسلام آباد یونائیٹڈ میں شامل ہوئے۔ سب کو ان کی آل راؤنڈر صلاحیتوں کا پورا اندازہ تھا، باؤلنگ ہو یا بیٹنگ یا پھر فیلڈنگ رسل ہمیشہ نمایاں رہتے۔ پی ایس ایل کے پہلے سیزن میں وہ بیٹنگ میں تو ناکام دکھائی دیے اور صرف 84 رنز بنا سکے لیکن باؤلنگ میں اس کی کسر نکال دی۔ ایونٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں آندرے ہی نے حاصل کیں، صرف 17.25 کے اوسط سے 16 شکار۔ فائنل میں اسلام آباد کی کامیابی میں بھی آندرے رسل کا کردار اہم تھا کہ جنہوں نے کمار سنگاکارا اور کیون پیٹرسن کی اہم وکٹی حاصل کیں۔ ویسے وہ قسمت کے بھی دھنی ہیں، تین مہینوں میں تین لیگ ٹائٹل جیتے چکے ہیں۔ دسمبر میں بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں کومیلا وکٹوریئنز کی جانب سے، جنوری میں سڈنی تھنڈر کی طرف سے بگ بیش اور اب پاکستان سپر لیگ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی طرف سے فاتح ٹرافی اٹھا چکے ہیں۔

محمد نواز (کوئٹہ گلیڈی ایٹرز)

Mohammad-Nawaz
پاکستانیوں کی اکثریت اب سے چند ہفتے قبل نہیں جانتی ہوگی کہ محمد نواز کون ہے۔ لیکن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سے کھیلنے والے اس نوجوان نے اپنی اسپن باؤلنگ اور جارحانہ بیٹنگ سے سب کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے اور یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ نواز پی ایس ایل کی دریافت ہے۔ اپنے پہلے ہی مقابلے میں صرف 13 رنز دے کر 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرکے نواز نے سلیکٹرز کی توجہ حاصل کرلی اور مسلسل اچھی کارکردگی دکھا کر ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے قومی ٹیم میں جگہ حاصل کرلی ہے۔ پلے آف میں ان کی اس گیند کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے کہ جس پر پشاور کے بریڈ ہوج بری طرح بولڈ ہوئے۔ یہ بلاشبہ پی ایس ایل کی بہترین گیند تھی۔ نواز نے 13 وکٹیں حاصل کیں اور باؤلرز میں نمایاں رہے۔

وہاب ریاض (پشاور زلمی)

ahmed-shehzad-wahab-riaz
وہاب ریاض کے کیریئر کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، پہلا حصہ عالمی کپ 2015ء سے پہلے کا اور دوسرا حصہ اس کے بعد کا۔ شین واٹسن کو کیا جانے والا "وہ" اسپیل آج بھی شائقین کرکٹ بھلا نہیں سکے، اور شاید خود وہاب ریاض بھی۔ میگا ایونٹ کے بعد نہ صرف وہاب ریاض کی گیند بازی کی رفتار بڑھی ہے بلکہ اُس میں ہر وہ جز دکھائی دیتا ہے جو تیز باؤلر میں ہونا چاہیے۔ بات ہو جذبات کی، غصے کی اور بلے بازوں کو ڈرانے کی تو اس میں وہاب ریاض پی ایس ایل میں بھی سب سے آگے رہے۔ وہ فائنل سے پہلے تک 15 وکٹوں کے ساتھ پی ایس ایل کے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلر تھے، آخر میں آندرے رسل ان سے آگے نکل گئے لیکن پشاور کامیابیوں میں وہاب کا کردار نمایاں رہا۔ ان کی فارم کو دیکھتے ہوئے لگ رہا ہے کہ ایشیاء کپ اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں وہ مخالف بیٹسمینوں کے لیے سخت مشکلات کھڑی کریں گے۔

محمد سمیع (اسلام آباد یونائیٹڈ)

Mohammad-Sami
محمد سمیع اس وقت بہترین روپ میں دکھائی دے رہے ہیں۔ بنگلہ دیش پریمیئر لیگ اور اس کے بعد اب پاکستان سپر لیگ میں ان کی کارکردگی بتاتی ہے کہ 34 سالہ سمیع میں اب بھی دم خم باقی ہے۔ یہ بات ٹھیک کہ انہیں قومی ٹیم میں کئی مواقع دیے گئے اور ہر مرتبہ وہ امیدوں پر پورے نہیں اترے۔ لیکن اس مرتبہ 'بدلے بدلے سے مرے سرکار نظر آتے ہیں'، یعنی سمیع کچھ نئے روپ میں نظر آ رہے ہیں۔ اب وہ صرف رفتار پر انحصار نہیں کر رہے بلکہ نتائج پر نظریں رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے 7 میچز میں 12 وکٹیں حاصل کرکے اسلام آباد یونائیٹڈ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے سمیع نے کراچی کنگز کے خلاف صرف 8 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں، یعنی کراچی کہہ سکتا ہے کہ "ہمیں تو اپنوں نے لوٹا" :)، بہرحال بہترین فارم میں موجود محمد سمیع پاکستان کے لیے بہترین ثابت ہوں گے، ایشیا کپ میں بھی اور پھر 'میگا ایونٹ' ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بھی۔

محمد اصغر (پشاور زلمی)

Mohammad-Asghar
’ میرے پٹھان جیسے بڑے بڑے ہاتھ ہیں، کوئی چیز آ جائے تو پھر نکلتی نہیں ہے،‘ آپ کو یہ جملہ یاد ہے تو پھر آپ کبھی محمد اصغر کو نہیں بھول سکتے۔ چمن سے تعلق رکھنے والے اصغر نے پی ایس ایل کے ابتدائی میچز ہی میں اپنی جانب سب کی توجہ مبذول کروا لی تھی۔ بائیں ہاتھ سے دھیمی باؤلنگ کرنے والے اصغر پورے سیزن میں بلے بازوں کو پریشان کرتے رہے۔ اسلام آباد کے خلاف 20 رنز دے کر تین وکٹیں اور پھر "وہی" دو شاندار کیچز اصغر کو مین آف دی میچ بنانے کے لیے کافی تھے۔ مجموعی طور پر اصغر نے 9 میچز میں 11 وکٹیں حاصل کیں اور ایک روشن مستقبل کا اعلان کیا۔

Facebook Comments