پی ایس ایل، سب سے آگے کون سے کھلاڑی؟

0 1,004

پاکستان سپر لیگ اب اہم ترین پلے آف مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں تمام ٹیموں نے ایک دوسرے کے خلاف دو، دو مقابلے کھیلے یعنی سب نےکل دس مقابلوں میں شرکت کی۔ ان مقابلوں کے بعد کن کی انفرادی کارکردگی نمایاں رہی؟ آئیے دیکھتے ہیں۔

بلے بازی کے شعبے سے آغاز کریں تو جاری پی ایس ایل کی واحد سنچری بنانے والے پشاور زلمی کے کامران اکمل 347 رنز کے ساتھ سرفہرست ہیں جبکہ کراچی کنگز کے بابر اعظم 339 رنز کے ساتھ دوسرےاور اسلام آباد یونائیٹڈ کے شین واٹسن 319 رنز بنا کر تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔ 289 بنا کر اسلام آباد کے لیوک رونکی چوتھےاور لاہور کے فخر زمان 277 رنز کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہیں۔

ایک اننگز میں سب سے زیادہ انفرادی رنز کی بات کریں تو ادھر بھی کامران اکمل شاندار سنچری کے ساتھ ناقابل شکست 107رنز پر سب سے آگے ہیں۔ لاہور قلندر کے فخرزمان 94 رنز کے ساتھ دوسرے اور شین واٹسن 90 رنز کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔ ملتان سلطانز کے صہیب مقصود نے 85 رنز کی ایک فاتحانہ اننگز کھیلی تھی۔

گیند بازی کے شعبے کی قیادت اسلام آباد یونائیٹڈ کے فہیم اشرف کر رہےہیں جو 10 میچوں میں 16 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔ اس کے بعد 14، 14 کراچی کنگز کے عثمان شنواری اور پشاور زلمی کے وہاب ریاض کی ہیں، مگر بہتر اوسط کی وجہ سے عثمان کو وہاب پر برتری حاصل ہے۔ کراچی کے سدا بہار شاہد آفریدی 13 وکٹوں کے ساتھ چوتھے اور اتنی ہی وکٹوں کے ساتھ ملتان کے عمران طاہر بھی فہرست میں موجود ہیں۔

کسی ایک اننگز میں بہترین گیندبازی کو دیکھیں تو ملتان کے عمر گل سب بہتر رہے، جنہوں نے 24 رنز کے عوض6 وکٹیں حاصل کیں۔ اس کے بعد لاہور قلندرز کے شاہین آفریدی کا نمبر ہے جنہوں نے صرف 4 رنز کے عوض 5 وکٹیں لی تھیں۔ عثمان شنواری،عمید آصف اور سمیت پٹیل تینوں نے ایک اننگز میں 4،4 شکار کر رکھے ہیں۔

اب چلتے ہیں بہتر وکٹ کیپر کی جانب، ملتان سلطانز کے کمار سنگاکارا وکٹوں کے پیچھے 10 شکار کرکے سرفہرست رہے۔ اس کے بعد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد 8 شکار کے ساتھ دوسرے اور کراچی کنگز کے محمد رضوان 7 آؤٹ کر کے تیسرے پر موجود ہیں۔

ایونٹ کی سب سے بڑی شراکت کراچی کنگز کے جو ڈینلی اور بابر اعظم نے ملتان سلطانز کے خلاف قائم کی جو 118 رنزوں کی تھی۔

اب ملتان سلطانز اور لاہور قلندرز تو باہر ہو چکے ہیں، اس لیے ان کے کھلاڑی تو کارکردگی کو بہتر نہیں بنا سکتے البتہ کراچی، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ کے کھلاڑی ابھی میدان میں ہیں اور فائنل تک یہ اعداد و شمار تبدیل بھی ہو سکتے ہیں۔