اسلام آباد نے کنگز کے ونگز کاٹ دیے، ناقابلِ یقین فتح

0 887

اسلام آباد یونائیٹڈ نے لیوک رونکی کی ریکارڈ ساز اننگز کی بدولت کراچی کنگز کو 8 وکٹوں سے شکست دے کر پاکستان سپر لیگ 3 کے فائنل میں اپنی جگہ پکی کرلی ہے۔ یہ اسلام آباد بمقابلہ کراچی اور رونکی بمقابلہ کراچی زیادہ تھا کیونکہ کراچی کے 154 رنز کے جواب میں رونکی نے تن تنہا 94 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی اور تیرہویں اوور میں ہی میچ کو اختتام تک پہنچا دیا۔ یعنی راؤنڈ مرحلے کے آخری میچ کے بدلے گن گن کر دبئی میں لیے گئے۔

کوالیفائر دبئی میں ہونے والا پی ایس ایل3 کا آخری مقابلہ تھا۔ عماد وسیم کی موجودگی میں قائم مقام کپتان ایون مورگن نے ٹاس جیتا اور پہلے خود بلے بازی کا فیصلہ کیا، جو ابتداء سے ہی غلط ثابت ہوا۔ دراصل کراچی کی شکست کی بنیاد ابتداء ہی میں پڑ گئی تھی۔ کمزور آغاز کے بعد چوتھے اوور میں محمد سمیع نے خرم منظور اور اِن فارم بابر اعظم کو ٹھکانے لگایا۔ کپتان مورگن اور جو ڈینلی نے محاذ سنبھالا لیکن بہت سست روی سے اسکور کو 46 رنز تک پہنچ گئے۔ 21 رنز بنانے کے بعد مورگن ہمت ہار گئے۔ 8 اوورز میں صرف 46 رنز اور کپتان سمیت تین کھلاڑی میدان سے باہر تھے۔ اس مرحلے پر کراچی شدید دباؤ کا شکار تھا۔ ڈوبتی نیّا کو بچانے کے لیے کولن انگرام آئے اور جو ڈینلی کے ساتھ مل کر مجموعے کو 82 تک لے گئے۔ اس دوران انہیں قسمت کا ساتھ بھی ملتا رہا کیونکہ اسلام آباد کے فیلڈرز نے کچھ کیچز چھوڑ دیے۔ بہرحال، ڈینلی نے ایک چھکے اور 4 چوکوں کی مدد سے بہت عمدہ اننگز کھیلی لیکن 46 گیندوں پر 51 رنز بنانے کے بعد وہ ہٹ وکٹ ہوگئے۔ فہیم اشرف کی ایک گیند کو کھیلنے کے لیے کریز میں کافی ڈیپ چلے گئے اور رن لینے کے لیے دوڑے ہی تھے کہ پچھلا قدم وکٹ کو جا لگا۔ انگرام کی عمدہ اننگز جاری رہی، وہ آگے بڑھتے رہا اور کراچی کو ایسے مجموعے تک پہنچا دیا جو آدھی اننگز کے بعد تصور میں بھی نہیں تھا۔ کراچی نے 4 وکٹوں پر 154 رنز بنائے جس میں انگرام کا حصہ 6 چھکوں کی مدد سے صرف39 گیندوں پر 65 رنز تھا۔ ابتدائی 10 اوورز میں کراچی کا اسکور صرف 52 رنز تھا یعنی انگرام کی اننگز کی بدولت کنگز نے آخری 10 اوورز میں 102 رنز کا اضافہ کیا۔ ایسا لگتا تھا کہ چھوڑے گئے کیچز اور انگرام کی اننگز فیصلہ کن ثابت ہوگی لیکن پھر "چراغوں میں روشنی نہ رہی"

اسلام آباد کے بلے باز، بالخصوص لیوک رونکی تو کراچی کے باؤلرز کو خاطر میں ہی نہیں لائے۔ محمد عامر کی پہلی دونوں گیندوں پر چوکے سے جو آغاز لیا، اس کے بعد کراچی کے ہاتھ پیر پھول گئے۔ انہوں نے دوسرے اوور میں صاحبزادہ فرحان کا کیچ چھوڑا، جو مصباح الحق کی جگہ کھیل رہے تھے اور پھر چوکوں اور چھکوں کی بارش کے دوران تب لیوک رونکی کو نئی زندگی دی جب وہ ایک ہی اوور میں عثمان شنواری کو تین چھکے لگا چکے تھے۔ رونکی اور فرحان کے لیفٹ رائٹ کمبی نیشن نے اسلام آباد کو صرف 7 اوورز میں 91 رنز کا طوفانی آغاز فراہم کیا۔ فرحان 3 چھکوں کی مدد سے 29 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ رونکی ڈٹے رہے۔ صرف 19 گیندوں پر پی ایس ایل تاریخ کی تیز ترین نصف سنچری بنانے کے بعد ایک لمحے کے لیے ان کی نظر ہدف سے نہیں ہٹی۔ 124 رنز کے مجموعے پر ایلکس ہیلز کی صورت میں اسلام آباد کی دوسری وکٹ گری، جنہوں نے 10 رنز بنائے۔

اگر سمیت پٹیل سے دو چوکے نہ لگتے تو شاید رونکی ایک شاندار سنچری بنا لیتے۔ بہرحال، اسلام آباد نے تیرہویں اوور میں ہی ہدف کو جا لیا۔ رونکی صرف 39 گیندوں پر 5 چھکوں اور 12 چوکوں کی مدد سے 94 رنز کی ناقابل شکست اور حیران کن اننگز کھیل کر میدان سے فاتحانہ لوٹے۔ انہیں میچ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ بھی ملا۔

اب اسلام آباد کے دستے کو لاہور جانے کے جھنجھٹ سے آزادی مل گئی ہے۔ وہ 25 مارچ کو کراچی میں ہونے والا فائنل کھیلیں گے جبکہ کراچی کی مہم بھی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ اس کے پاس ایک اور موقع موجود ہے، وہ پہلے ایلی منیٹر کی فاتح ٹیم سے کھیلے گا، جو منگل کو قذافی اسٹیڈیم میں پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان ہوگا۔ اس میچ کا فاتح اگلے روز یعنی بدھ 21 مارچ کو لاہور ہی میں کراچی کا مقابلہ کرے گا۔