صرف پاکستانی ہی نہیں، یہ معروف کھلاڑی بھی کبھی آئی پی ایل نہیں کھیلے

0 1,003

پاکستان سپر لیگ اپنے عروج پر ہے اور اُس کے فوراً بعد دنیا کی سب سے بڑی لیگ انڈین پریمیئر لیگ بھی شروع ہو جائے گی۔ بلاشبہ آئی پی ایل کا کوئی مقابل نہیں، دُور تک بلکہ بہت دُور تک، کیونکہ یہ اس وقت جاری تمام لیگز میں سب سے پرانی، سب سے بڑی اور سب سے شاندار ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ 2008ء میں پہلے سیزن کے بعد سے آج تک کبھی پاکستان کے کسی کھلاڑی نے آئی پی ایل میں شرکت نہیں کی، کم از کم پاکستانی کھلاڑی کی حیثیت سے تو نہیں کی۔ 2008ء میں ممبئی دہشت گرد حملوں کے بعد پاک-بھارت تعلقات اتنے خراب ہوئے کہ تب سے آج تک نہ دونوں ٹیموں نے کوئی ٹیسٹ کھیلا ہے اور نہ کوئی پاکستانی کھلاڑی دنیا کی سب سے بڑی لیگ میں نظر آیا ہے۔ یہ غیر اعلانیہ پابندی کب تک جاری رہے گی؟ اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا اور مستقبل قریب میں اس کا کوئی امکان نظر بھی نہیں آتا۔ لیکن صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ کئی معروف کھلاڑی ایسے ہیں جنہوں نے آج تک آئی پی ایل کا کوئی میچ نہیں کھیلا، یعنی اس فہرست میں صرف پاکستانی اکیلے نہیں ہیں۔

جو روٹ


سب سے نمایاں نام انگلینڈ کے جو روٹ کا ہے۔ انگلش کپتان رواں سال نیلامی میں بھی موجود تھے لیکن حیران کن طور پر کسی فرنچائز نے انہیں نہیں خریدا۔ یارکشائر کاؤنٹی کی طرف سے کھیلنے والے روٹ 25 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیل چکے ہیں جن میں وہ لگ بھگ 129 کے اسٹرائیک ریٹ سے 743 رنز بنا چکے ہیں۔ ان کی بہترین اننگز 90 رنز کی ہے۔ اس کے باوجود انہیں کسی کی جانب سے نہ خریدنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

دنیش رامدین


دنیش رامدین پاکستان سپر لیگ میں لاہور قلندرز کی طرف سے کھیلے۔ گو کہ ان کے لیے یہ سیزن کچھ خاص نہیں رہا بلکہ چند مواقع پر بہت ہی مایوس کن کارکردگی دکھائی لیکن اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ رامدین ٹی ٹوئنٹی کے بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ وہ اِس وقت ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو کے کپتان ہیں اور کیریبیئن پریمیئر لیگ میں گیانا ایمیزن واریئرز اور ٹرنباگو نائٹ رائیڈرز کی نمائندگی کر چکے ہیں، جن کی طرف سے انہوں نے 2017ء میں ٹائٹل بھی جیتا۔ 58 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں 115 سے زیادہ کے اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنانے والے دنیش رامدین نے کبھی آئی پی ایل نہیں کھیلی حالانکہ وہ سالوں تک نیلامی میں موجود رہے لیکن کبھی منتخب نہیں کیے گئے۔

جوش ہیزل ووڈ


پھر آسٹریلیا کے جوش ہیزل ووڈ ہیں، جو بڑے مقابلوں کے بڑے کھلاڑی ہیں۔ 2014ء میں انہیں ممبئی انڈینز نے نیلامی میں خریدا بھی تھا لیکن پورے سیزن میں انہیں ایک مقابلہ بھی نہیں کھلایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ 2015ء کے سیزن سے انہوں نے اپنا نام واپس لے لیا۔ اپنی عمدہ باؤلنگ کی بدولت وہ گلین میک گرا کے جانشیں سمجھے جاتے ہیں۔ آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ میں وہ سڈنی سکسرز کی طرف سے سات سیزن کھیل چکے ہیں اور ٹی ٹوئنٹی کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ پھر سات ٹی ٹوئنٹی میچز میں ملک کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں لیکن 2018ء کی آئی پی ایل نیلامی میں انہیں کسی نے نہیں خریدا، جو حیران کن ہے۔

اسٹورٹ براڈ


ہو سکتا ہے 2007ء کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں یووراج سنگھ کے ہاتھوں ایک اوور کی تمام چھ گیندوں پر چھکے کھانا بھارتیوں کی یادداشت میں بیٹھ گیا ہو، اس لیے اسٹورٹ براڈ کو کبھی آئی پی ایل میں کوئی میچ نہیں کھلایا گیا۔ 2011ء اور 2012ء کے سیزنز میں انہیں کنگز الیون پنجاب نے خریدا ضرور لیکن دونوں مرتبہ انہوں نے اپنا نام واپس لے لیا۔ براڈ ٹی ٹوئنٹی میں انگلینڈ کے مستقل کھلاڑی ہیں، بلکہ کپتان بھی رہے ہیں، اب تک 56 میچز میں 65 وکٹیں لے چکے ہیں۔ لیسٹر شائر، ناٹنگھم شائر کے علاوہ وہ بگ بیش لیگ میں ہوبارٹ ہریکینز کی طرف سے بھی کھیل چکے ہیں۔ ان کی آل راؤنڈ صلاحیتیں آئی پی ایل میں بہت کارآمد ہوتیں، اگر کھیلتےتو۔

ویرنن فلینڈر


جنوبی افریقہ کے طوفانی باؤلر نے آسٹریلیا کے خلاف اپنے ڈیبیو پر ہی 15 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں اور دنیا کو حیران کردیا تھا۔ وہ اب تک جنوبی افریقی ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی کے علاوہ کاؤنٹی بھی کھیل چکے ہیں بلکہ کیریبیئن پریمیئر لیگ میں جمیکا ٹلاواز کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں، نہیں کھیلے تو کبھی انڈین پریمیئر لیگ نہیں کھیلے۔