پی ایس ایل: ماضی، حال اور مستقبل

0 2,539

پاکستان سپر لیگ کے آغاز کو ابھی صرف دو سال ہوئے ہیں، لیکن اس مختصر عرصے میں بھی لیگ نے خود کو دنیا بھر میں منوایا ہے اور ایسے ایسے نتائج پیش کیے ہیں جو پاکستان کے کرکٹ شائقین کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھے۔ آج تیسرے سیزن کا فائنل ہو رہا ہے اور ساتھ ہی ہم پی ایس ایل کی حقیقی منزل کی ایک جھلک بھی دیکھ رہے ہیں۔

پاکستانیوں نے کرکٹ کے بغیر ہر سال ایک صدی کی طرح گزارا ہے، پی ایس ایل اس عظیم ملک میں اس عظیم کھیل کی بحالی کے لیے بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔ گزشتہ سال لاہور میں ہونے والے پی ایس ایل فائنل کے بعد سے اب تک ورلڈ الیون اور سری لنکا پاکستان کے دورے کر چکے ہیں اور رواں سال پلے-آف اور فائنل سمیت تین مقابلوں کے انعقاد کے ساتھ ہی ملک میں کرکٹ کے دروازے کافی حد تک کھل سکتے ہیں کیونکہ فوراً بعد ویسٹ انڈیز کا دورۂ پاکستان ہوگا۔ یہ موقع ہے کچھ پی ایس ایل کے ماضی کی طرف دیکھنے کا، کچھ حال جاننے کا اور ساتھ ہی مستقبل پر بھی نگاہ دوڑانے کا۔

جس طرح ملک 70سالوں سے نازک موڑ پرہے، بالکل اسی طرح پاکستان کرکٹ بورڈ بھی اپنی معلوم تاریخ میں خسارے میں ہی چلا آ رہا ہے۔ پھر 2008ء سے جس طرح پاکستان کرکٹ کو تنہا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس کے بعد تو حال بہت ہی برا ہو گیا۔ جو کسر رہ گئی تھی وہ پے در پے تنازعات نے پوری کردی۔ تب پاکستان میں نئی حکومت آنے کے بعد کرکٹ بورڈ کی قیادت نجم سیٹھی کو سونپی گئی۔ یہ وہ فیصلہ تھا جس نے پاکستان کرکٹ کے تنِ مردہ میں جان ڈال دی۔ نجم سیٹھی نے پی ایس ایل کا وہ منصوبہ جو دو سال سے محض کاغذوں میں موجود تھا، آگے بڑھایا اور بلاشبہ اس کی ابتداء بہت مشکل تھی، خوف تھا، خدشات تھے، وہ بھی ایسے کہ امیدوں اور توقعات پر غالب آ رہے تھے۔ پہلا سیزن گو کہ سرے سے پاکستان میں ہوا ہی نہیں لیکن اس نے ملک میں کامیابی کے نئے ریکارڈز قائم کردیے۔

پھر حوصلہ پاتے ہوئے پاکستان کرکٹ کی انتظامیہ نے دوسرے سیزن میں ایک خطرہ مول لیا، ایک قدم آگے بڑھایا اور فائنل لاہور میں کروانے کا منصوبہ بنایا۔ چہار جانب سے اس فیصلے کی مخالفت کی گئی، سیاسی حلقوں کی طرف سے تھا ہی خود کھیل سے وابستہ افراد کی طرف سے بھی لیکن کسی نے کیا خوب کہا کہ اگر پی ایس ایل کو جلد از جلد پاکستان نہ لایا گیا تو یہ مر جائے گی، اس لیے یہ خطرہ مول لینا ضروری تھا اور وہ بھی فوراً۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ لاہور میں ایک تاریخی فائنل کے ساتھ ہی ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے بھی کھلتے چلے گئے۔

ان تمام فیصلوں کے فیوض و برکات اب تک لاہور ہی سمیٹ رہا تھا، تیسرے سیزن میں اسے آگے پھیلانے کا فیصلہ کیا گیا اور پی ایس ایل3 کے فائنل کی میزبانی کراچی کو دی گئی۔ یہ بھی بورڈ کے لیے مشکل ترین فیصلوں میں ایک تھا کیونکہ ابھی تو سب لاہور آنے پر بھی راضی نہ تھے۔ بالخصوص پچھلے سال فائنل کے موقع پر جو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ساتھ ہوا کہ جس کے بیشتر کھلاڑیوں نے آنے سے ہی انکار کردیا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک شاندار سیزن کا فائنل یکطرفہ ہوا اور اس مقابلے میں سوائے اس کے کوئی کشش نہ تھی کہ یہ لاہور میں ہوا تھا۔

لیکن رواں سال پاکستان میں ہونے والے حتمی مرحلے کے لیے فضاء کافی سازگار دکھائی تھی۔ پشاور زلمی کے کھلاڑی تو اس سال بھی پاکستان آئے، کراچی کنگز کے بھی بیشتر کھلاڑیوں نے لاہور کی راہ لی، کوئٹہ کو ایک مرتبہ پھر کیون پیٹرسن اور شین واٹسن کی خدمات سے محروم ہونا پڑا، البتہ ان کے دیگر کھلاڑی ضرور پلے آف میں آئے جبکہ اسلام آباد یونائیٹڈ فائنل کھیلنے کے لیے تقریباً اپنی پوری طاقت کے ساتھ کراچی میں موجود ہے۔

یہ سب ایک نئے عہد کا آغاز ہے اور اس کی منزل بہرحال وہی ہوگی، جو مقصود ہے۔ تصور کیجیے کہ اگلے چند سالوں میں 8 ٹیمیں پاکستان کے مختلف میدانوں پر ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں، وہ بھی "ہوم" اور "اوے" کی بنیاد پر یعنی کراچی اور لاہور کا پہلا مقابلہ قذافی اسٹیڈیم میں ہو اور دوسرا نیشنل اسٹیڈیم پر۔ دوسرے الفاظ میں ابھی تو محض آغاز ہے، اگر پی ایس ایل اسی طرح آگے بڑھتی رہی تو کوئی شک نہیں کہ یہ ملک کا سب سے بڑا برانڈ بن جائے گا۔ اندازہ لگانا چاہتے ہیں تو اسی سے لگا لیں کہ ملک کے نیوز چینلز جو معمولی سے معمولی منفی خبر بھی بریکنگ نیوز کے ساتھ چلا رہے ہیں، گزشتہ کئی دنوں سے پی ایس ایل کی کوریج میں مصروف ہیں اور آج فائنل والے دن تو لگتا ہے ملک میں کوئی بری خبر ہے ہی نہیں۔ یہ وہ مثبت پہلو ہے جو بحیثیت مجموعی پی ایس ایل کے معاشرے پر مثبت اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔