ہیجان خیز مقابلہ، لاہور اسلام آباد کو روندتا ہوا فائنل میں!

اسلام آباد 38 گیندوں پر 44 رنز بھی نہ بنا پایا، لاہور کی غیر معمولی کارکردگی

0 494

لاہور قلندرز ایک ہیجان خیز مقابلے کے بعد اسلام آباد یونائیٹڈ کو صرف 6 رنز سے ہرا کر پاکستان سپر لیگ 7 کے فائنل میں پہنچ گیا ہے۔ میچ کیا تھا؟ ایسے لگ رہا تھا کسی رولر کوسٹر میں بیٹھ گئے ہیں، جو کبھی اوپر اور کبھی نیچے جاتی ہے، جس میں کبھی خوشی سے قہقہے نکل رہے ہیں تو کبھی کلیجا منہ کو آ رہا ہے۔

اس ناک آؤٹ مقابلے میں ٹاس جیتا لاہور قلندرز نے اور گزشتہ تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے شاہین آفریدی نے پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا۔ کیونکہ ملتان سلطانز کے خلاف کوالیفائر میں وہ ٹاس جیتنے کے بعد ہدف کے تعاقب میں بُری طرح ناکام ہوئے تھے۔

تماشائیوں کی گونج میں فخر زمان اور فل سالٹ میدان میں اترے۔ اسلام آباد کا ہدف ایک ہی تھا، انہیں فخر زمان کو آؤٹ کرنا تھا جو اب تک لاہور کی کامیابی کی ضمانت تھے۔ لیام ڈاسن نے پہلے ہی اوور میں نہ صرف فخر بلکہ بعد ازاں سالٹ کو بھی آؤٹ کر کے تہلکہ مچا دیا۔

پھر جہاں بڑے نہیں چلے وہاں چھوٹے میاں سبحان اللہ! عبد اللہ شفیق اور کامران غلام نے معاملات سنبھالے اور ایسا کھیلے گویا ان کے لیے کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ خاص طور پر عبد اللہ نے 28 گیندوں پر 52 رنز کی ایک شاندار اننگز کھیلی جس میں 3 چھکے اور 4 چوکے شامل تھے۔ دوسرے اینڈ سے کامران غلام نے بھی 30 رنز کے ساتھ اپنا بہترین کردار ادا کیا۔ دونوں 10 ویں اوور میں اسکور کو 80 رنز تک لے آئے، وہ بھی بغیر کسی مزید وکٹ کے نقصان کے۔ سوچیں، کہاں پہلے 3 اوورز میں دو وکٹوں کے نقصان پر صرف 9 رنز اور کہاں 80 رنز؟

یہاں جب معاملات گرفت میں نظر آنے لگے تھے، تب کامران غلام کے آؤٹ ہونے پر محمد حفیظ میدان میں آئے۔ بلکہ یہ کہیں تو غلط نہیں ہوگا کہ انہوں نے دن کی سب سے مایوس کُن اننگز کھیلی۔ 28 گیندوں پر صرف 28 رنز؟ یہ اور سمِت پٹیل کی 18 گیندوں پر 21 رنز کی اننگز لاہور کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتی، اگر آخری اوور میں ڈیوڈ ویزا کا جادو نہ چلتا۔

جو 28 رنز بنانے کے لیے 'پروفیسر' نے 28 گیندیں کھیل ڈالیں، اتنے ہی رنز بنانے کے لیے ویزا نے صرف 8 گیندوں کا استعمال کیا۔ آخری اوور میں تین چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے انہوں نے وقاص مقصود سے 27 رنز لوٹے۔

لاہوریوں کو اور کیا چاہیے تھا؟ جو بہت دیر سے خاموش بیٹھے تھے، انہوں نے تو آسمان سر پر اٹھا لیا۔ ویزا! ویزا! کے فلک شگاف نعروں کے ساتھ کرارے چھکوں کا سواد ہی اپنا تھا!

بہرحال، اِن 27 رنز کے باوجود آخری 5 اوورز میں لاہور 56 رنز ہی کا اضافہ کر پایا اور اسلام آباد کو 169 رنز کا ہدف ملا جو اسلام آباد کی بیٹنگ لائن دیکھتے ہوئے کم لگتا تھا۔ کیونکہ یونائیٹڈ کی بیٹنگ لائن میں پال اسٹرلنگ کا اضافہ بھی ہو چکا تھا، جو قومی ذمہ داریاں نبھانے کے بعد اس اہم میچ سے پہلے ہی واپس آ گئے تھے اور آتے ہی باؤلرز پر ایسے پل پڑے گویا وہ کہیں گئے ہی نہیں تھے۔

لاہور قلندرز کے لیے بہت ضروری تھا کہ اس جوڑی کو ٹکنے نہ دیں۔ کپتان شاہین آفریدی جنہوں نے اپنے پہلے اوور میں ایک چھکا اور ایک چوکا کھا لیا تھا۔ اگلے اوور میں پھر واپس آئے اور آتے ہی چھا گئے! انہوں نے نہ صرف پال اسٹرلنگ کو آؤٹ کیا بلکہ وِل جیکس کو بھی صفر پر میدان سے باہر کی راہ دکھا دی۔

یہ ایسے دھچکے تھے کہ اسلام آباد کی اننگز لڑکھڑا گئی۔ کچھ ہی دیر بعد شاداب خان زمان خان کی ایک طوفانی گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ دے بیٹھے اور پاور پلے ختم ہونے سے پہلے پہلے لیام ڈاسن بھی رن آؤٹ ہو گئے۔ ایسا لگتا تھا کہ 46 رنز پر چار آؤٹ ہو جانے کے بعد اسلام آباد کے لیے اب کوئی راہِ فرار نہیں ہوگی۔

یہاں مشکل ترین حالات میں ایلکس ہیلز اور اعظم خان نے ٹھنڈے دماغ سے کھیلنا شروع کیا۔ ان کی 48 گیندوں پر 79 رنز کی شراکت داری رہی اور ان کے ہر شاٹ کے ساتھ میدان میں خاموشی طاری ہو جاتی۔

ویسے اس ساجھے داری میں لاہور کے فیلڈرز کا بھی حصہ تھا جنہوں نے دونوں بلے بازوں کو آؤٹ کرنے کے آسان مواقع ضائع کیے۔ پہلے شاہین آفریدی نے اعظم خان کیچ چھوڑا اور پھر زمان خان نے ہیلز کا۔

جب اسلام آباد کو 38 گیندوں پر صرف 44 رنز کی ضرورت تھی، تب ایک معجزہ ہو گیا۔ اعظم خان ایک مرتبہ پھر رن آؤٹ ہو گئے۔ وہی حارث رؤف جو اس سے پہلے پال اسٹرلنگ اور ول جیکس کے شاندار کیچز پکڑ چکے تھے، اس مرتبہ ڈائریکٹ تھرو کے ذریعے اعظم کی 40 رنز کی اننگز کا خاتمہ بھی کر دیا۔ کچھ ہی دیر بعد ایلکس ہیلز کی 38 رنز کی باری بھی اپنے اختتام کو پہنچی، وہ بھی حارث رؤف کی گیند پر، یعنی حارث میچ پر چھائے ہوئے تھے۔

دونوں سیٹ بلے بازوں کے آؤٹ ہونے کے بعد لاہوریوں کی جان میں جان آئی۔ اب کریز پر آصف علی اور حسن علی تھے، جو کچھ بھی کر سکتے تھے۔ پر یہاں انہوں نے جو کیا وہ اسلام آباد کے فائدے میں نہیں تھا۔ حسن علی کو تو ایک زندگی بھی ملی جب وہ شاہین آفریدی کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے اور وہ گیند نو-بال قرار پائی۔ اس کے باوجود وہ چند گیندوں بعد اپنی وکٹ دیتے ہی بنے۔

یہاں تمام تر امیدیں آصف علی سے وابستہ تھیں لیکن انہوں نے خود ان پر پانی پھیر دیا۔ جب شاہین آفریدی نے 19 ویں اوور ہی میں حارث رؤف کو گیند تھما دی تو انہیں سمجھ لینا چاہیے تھا کہ شاہین آخری جوا کھیل رہے ہیں۔ انہیں صرف یہ اوور گزارنا ہے۔ ایک چھکا بھی حاصل کرنے کے بعد تو ایک اور بڑی ہٹ کے لیے جانے کا جواز ہی نہیں تھا جبکہ ٹیم کو 7 گیندوں پر صرف 8 رنز کی ضرورت تھی۔ لیکن آصف علی کا دماغ گھوما اور حارث رؤف کی آخری گیند پر ان کی وکٹ بھی گئی۔

جو بے وقوفیاں کرنا رہ گئی تھیں، وہ آخری اوور میں باقی ماندہ بلے بازوں نے کیں۔ محمد وسیم جونیئر نے پہلی دونوں گیندوں پر دستیاب آسان سنگلز نہیں لیے اور تیسری پر زبردستی دوسرا رن لینے کی کوشش میں رن آؤٹ ہو گئے۔

تین گیندوں پر درکار 8 رنز کے لیے آخری بلے باز وقاص مقصود بھی چھکا لگانے کو ہی گئے، کیونکہ دستور یہی تھا لیکن ہوا وہی جو سب کے ساتھ ہوا۔ ڈیپ مڈ وکٹ پر عبد اللہ شفیق نے کیچ پکڑا اور یونائیٹڈ کے تیسری بار چیمپیئن بننے کا خواب چکناچور کر دیا!

لاہور کی کامیابی کی بنیاد ڈیوڈ ویزا نے آخری اوور کی طوفانی بیٹنگ سے رکھی تھی اور آخری اوور میں وقاص کی وکٹ لے کر آخری اینٹ بھی ویزا ہی نے رکھی۔ بیٹنگ اور باؤلنگ میں یہ فیصلہ کُون وار کرنے پر انہیں میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز بھی ملا۔ حق بہ حقدار رسید!

ویسے یہ لاہور کا پہلا فائنل نہیں ہے، اس سے پہلے وہ پی ایس ایل 2020ء میں بھی فائنل تک پہنچا تھا لیکن روایتی حریف کراچی کنگز کے ہاتھوں ہار گیا تھا۔ یوں لاہور واحد ٹیم ہے جس نے ابھی تک پی ایس ایل ٹرافی نہیں اٹھائی۔

اب اتوار 27 فروری کو لاہور قلندرز کا مقابلہ 'پنجاب ڈربی' میں ملتان سلطانز سے ہوگا۔ یعنی اسی ٹیم سے جس سے وہ کوالیفائر میں ہارا تھا بلکہ ایک بار لیگ اسٹیج میں بھی۔ لیکن یاد رکھیں کہ لاہور قلندرز ہی واحد ٹیم ہے جس نے اِس سیزن میں ملتان سلطانز کو واحد شکست دی ہے۔ اس لیے مقابلہ تو جم کر ہوگا!