بابر اعظم کی تاریخی اننگز اور ریکارڈ پر ریکارڈ

0 1,004

چوتھی اننگز میں ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے مشکل مرحلہ ہوتی ہے۔ کئی دنوں کی تھکاوٹ، فیلڈنگ میں گھنٹوں گزارنے کے بعد اتنا دم خم ہی باقی نہیں رہتا جتنا کھیل کے پہلے دن ہوتا ہے۔ وہ زمانے بھی گزر گئے جب ٹیسٹ میچ میں ایک دن کا وقفہ بھی ہوا کرتا تھا، اب تو ٹیسٹ کرکٹ بھی 'نان اسٹاپ' ہوتی ہے۔

اس لیے آخری دن چوتھی اننگز کھیلتے ہوئے اچھے بھلوں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرحلے کی کارکردگی کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بابر اعظم کی 196 رنز کی، 425 گیندوں پر محیط اور 603 منٹ طویل اننگز تاریخ میں عرصے تک یاد رکھی جائے گی۔

ایک ایسے موقع پر جب پاکستان کو یقینی شکست کا سامنا تھا۔ کراچی ٹیسٹ میں تقریباً دو دن تک آسٹریلیا کی باؤلنگ کا سامنا کرنا تو 506 رنز سے بھی زیادہ مشکل ہدف تھا۔ لیکن بابر اعظم نے عبد اللہ شفیق اور محمد رضوان کے ساتھ مل کر ناقابلِ یقین کو ناقابلِ فراموش بنا دیا۔

یہ کئی لحاظ سے ایک یادگار اننگز تھی اور ریکارڈ بک میں بھی کئی جگہ اپنی یادیں چھوڑ گئی ہے۔ مثلاً اس کی بدولت بابر اعظم کا نام چوتھی اننگز میں کسی بھی بیٹسمین کی جانب سے سب سے زیادہ گیندوں کا سامنا کرنے والوں میں بلے بازوں میں آ گیا ہے۔

مائیکل ایتھرٹن، ہربرٹ سٹکلف اور سنیل گاوسکر جیسے عظیم بلے بازوں کے بعد بابر ان کھلاڑیوں میں شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے کسی ٹیسٹ کی چوتھی اننگز میں 400 سے زیادہ گیندوں کا سامنا کیا ہو۔

چوتھی اننگز میں سب سے زیادہ گیندوں کا سامنا کرنے والے بلے باز

رنزگیندیںبمقابلہبمقامبتاریخ
مائیکل ایتھرٹن185*492جنوبی افریقہجوہانسبرگنومبر 1995ء
ہربرٹ سٹکلف135462آسٹریلیامیلبرندسمبر 1928ء
سنیل گاوسکر221443انگلینڈدی اوولاگست 1979ء
بابر اعظم196425آسٹریلیا کراچیمارچ 2022ء
ہربرٹ سٹکلف 127390آسٹریلیا میلبرنجنوری 1925ء

پھر کریز پر موجودگی کا دورانیہ دیکھیں تو بھی یہ مائیکل ایتھرٹن کے بعد چوتھی اننگز میں طویل ترین قیام تھا۔ ایتھرٹن نے 1995ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف جوہانسبرگ ٹیسٹ کی چوتھی اننگز میں 643 منٹ کریز پر گزارے تھے جبکہ بابر نے 603 منٹ تک آسٹریلیا کے خلاف مزاحمت کی۔

چوتھی اننگز میں کریز پر سب سے طویل قیام

رنزمنٹبمقابلہبمقامبتاریخ
مائیکل ایتھرٹن185*643جنوبی افریقہجوہانسبرگنومبر 1995ء
بابر اعظم196603آسٹریلیاکراچیمارچ 2022ء
دلیپ وینگسارکر146*522پاکستاندلّیدسمبر 1979ء
عثمان خواجہ141522پاکستان دبئیاکتوبر 2018ء
سنیل گاوسکر221490انگلینڈدی اوولاگست 1979ء

یہ بابر اعظم کے 196 رنز کسی بھی کھلاڑی کی چوتھی اننگز میں سب سے بڑی باری بھی ہے۔ بابر اپنے ٹیسٹ کیریئر کی پہلی ڈبل سنچری سے تو محروم رہ گئے لیکن یہ 196 رنز بھی چوتھی اننگز میں کسی پاکستانی بلے باز کی بہترین کارکردگی ہے۔ انہوں نے یونس خان کا 2015ء کے پالی کیلے ٹیسٹ میں سری لنکا کے خلاف بنایا گیا 171 رنز کا ریکارڈ توڑا۔ بس فرق اتنا ہے کہ یونس کی وہ اننگز فاتحانہ تھی اور وہ ناقابلِ شکست میدان سے واپس آئے تھے۔

بابر اور یونس کے علاوہ صرف سلیم ملک ہی ایسے پاکستانی بلے باز ہیں جنہوں نے کسی ٹیسٹ کی چوتھی اننگز میں 150 سے زیادہ رنز بنائے ہوں۔ انہوں نے اپریل 1997ء میں سری لنکا کے خلاف کولمبو میں 155 رنز اسکور کیے تھے۔

چوتھی اننگز میں پاکستانی بلے بازوں کی سب سے بڑی اننگز

رنزگیندیںبمقابلہبمقامبتاریخ
بابر اعظم196425آسٹریلیاکراچیمارچ 2022ء
یونس خان171*271سری لنکاپالی کیلےجولائی 2015ء
سلیم ملک155240سری لنکا کولمبواپریل 1997ء
شعیب ملک148*369سری لنکا کولمبو مارچ 2006ء
انضمام الحق138*232بنگلہ دیشملتانستمبر 2003ء

پھر اگر کپتانوں کو دیکھا جائے تو بلاشبہ یہ چوتھی اننگز کی سب سے بڑی 'کیپٹن اننگز' تھی۔ بابر نے مائيکل ایتھرٹن کی اسی تاریخی اننگز کا ریکارڈ توڑا جو گزشتہ 27 سال سے قائم تھا۔

چوتھی اننگز کی سب سے بڑی کیپٹن اننگز

رنزبمقابلہبمقامبتاریخ
بابر اعظم196آسٹریلیاکراچیمارچ 2022ء
مائیکل ایتھرٹن185*جنوبی افریقہجوہانسبرگنومبر 1995ء
بیون کونگڈن176انگلینڈناٹنگھمجون 1973ء
ڈون بریڈمین173*انگلینڈ لیڈزجولائی 1948ء
رکی پونٹنگ156انگلینڈ مانچسٹراگست 2005ء