سیریز کا فیصلہ کن ون ڈے اور پاکستان کی تاریخ

0 1,020

اگر آپ دو دہائیوں سے پاکستان کرکٹ ٹیم کو کھیلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں تو یہ بات ضرور جانتے ہوں گے کہ جب بھی پاکستان کوئی ون ڈے سیریز برابر کر دیتا ہے اور معاملہ آخری مقابلے تک پہنچ جاتا ہے تو اس کے نصیب میں شکست ہی آتی ہے۔ الّا ماشآ اللہ!

ارے نہیں، نہیں، ہم کوئی بد شگونی نہیں کر رہے۔ آپ کی طرح ہماری بھی دلی خواہش ہے کہ پاکستان آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز کا تیسرا اور فیصلہ کن ون ڈے جیتے اور 20 سال سے جاری انتظام ختم ہوجائے، لیکن کیا کریں کہ لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے؟

اب اسے دباؤ جھیلنے میں ناکامی کہیں یا اعصابی کمزوری، لیکن ماضی ٹیم پاکستان کے ایسے کارناموں سے بھرا پڑا ہے کہ جہاں سیریز فیصلہ کن میچ تک پہنچی، کھلاڑیوں کے ہاتھ پیر پھول گئے۔ خاص طور پر جب مقابلہ قابلِ ذکر اور بڑی ٹیموں کے خلاف ہو۔

خوشی کی بات یہ ہے کہ حال ہی میں پاکستان نے ایک فیصلہ کن ون ڈے میں سیریز اپنے نام کی ہے۔ پچھلے سال یعنی 2021ء میں پاکستان نے جنوبی افریقہ کیا تھا جہاں ون ڈے سیریز 1-1 سے برابر ہو گئی اور معاملہ فیصلہ کن میچ تک پہنچ گیا۔ پھر سنچورین میں کھیلے گئے تیسرے ون ڈے میں پاکستان نے فخر زمان کی شاندار سنچری اور بابر اعظم اور امام الحق کی عمدہ اننگز کی بدولت 320 رنز بنائے اور جنوبی افریقہ کو 292 رنز پر محدود کر کے نہ صرف میچ بلکہ سیریز بھی اپنے نام کر لی تھی۔

لیکن 2019ء میں کہانی بالکل مختلف تھی۔ پاکستان جنوبی افریقہ کے دورے پر تھا اور یہ سیریز کا پانچواں اور فیصلہ کن ون ڈے تھا، جس میں پاکستان 241 رنز کے ہدف کا دفاع نہیں کر پایا تھا اور کوئنٹن ڈی کوک، فف ڈو پلیسی اور رسی وان ڈیر ڈوسن کی نصف سنچریوں کی وجہ سے 7 وکٹوں سے ہار کر سیریز بھی ‏3-2 سے گنوا بیٹھا۔

پاکستان کا دورۂ جنوبی افریقہ 2019ء - پانچواں ون ڈے

جنوبی افریقہ 7 وکٹوں سے جیت گیا

پاکستان240-8
فخر زمان7073اندیلے فیلکوایو2-429
جنوبی افریقہ241-3
کوئنٹن ڈی کوک8358شاہین آفریدی1-437

اگر ہم ویسٹ انڈیز کے خلاف 2017ء کی سیریز کو ایک طرف رکھ دیں تو پچھلی پوری دہائی میں پاکستان کا حال بہت مایوس کن تھا۔

‏2014ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف متحدہ عرب امارات میں 'ہوم سیریز' کا فیصلہ کن ون ڈے 68 رنز سے بُری طرح ہارے۔ پھر اسی سال سری لنکا کے خلاف تیسرے اور فیصلہ کن ون ڈے میں بھی بھیانک شکست کھائی۔ دمبولا میں ہونے والے اس فیصلہ کن ون ڈے میں پاکستان صرف 102 رنز پر آل آؤٹ ہوا اور 7 وکٹوں سے ہار کر سیریز بھی گنوا بیٹھا۔

پاکستان کا دورۂ سری لنکا 2014ء - تیسرا ون ڈے

سری لنکا 7 وکٹوں سے جیت گیا

پاکستان102
فواد عالم3873تھیسارا پیریرا4-348
سری لنکا104-3
تلکارتنے دلشان5055سعید اجمل1-104

‏2012ء میں آسٹریلیا کے خلاف عرب امارات ہی میں کھیلی گئی تین میچز کی سیریز بھی آخری مقابلے تک گئی، جہاں پاکستان 57 رنز سے ہارا تھا۔ انہی میدانوں پر پاکستان نے 2010ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف بہت شاندار کھیل پیش کیا۔ خاص طور پر وہ ون ڈے کہ جس میں عبد الرزاق کی ناقابلِ یقین سنچری نے پاکستان کو کامیابی دلائی تھی۔ لیکن اس سیریز کا آخری ون ڈے پاکستان بُری طرح ہارا تھا اور یوں سیریز جنوبی افریقہ کے نام رہی۔

جنوبی افریقہ کا دورۂ متحدہ عرب امارات 2010ء - پانچواں ون ڈے

جنوبی افریقہ 57 رنز سے جیت گیا

جنوبی افریقہ317-5
ژاک کیلس8395شاہد آفریدی2-5910
پاکستان260
عمر اکمل6071ژاک کیلس3-305

اس سے پہلے 2010ء میں انگلینڈ کا وہ بدنام دورہ کہ جس میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل سامنے آیا۔ یہاں کی ون ڈے سیریز بھی بہت دلچسپ تھی۔ پاکستان پہلے دونوں میچز ہارا لیکن پھر بہترین انداز میں واپسی کی اور دو مسلسل فتوحات کے ساتھ سیریز کو آخری میچ تک پہنچا دیا۔ لیکن جتنی توقعات تھی، اتنی ہی مایوسی ہوئی اور پاکستان 121 رنز سے ہار کر سیریز بھی ہار بیٹھا۔

پاکستان کا دورۂ انگلینڈ 2010ء - پانچواں ون ڈے

انگلینڈ 121 رنز سے جیت گیا

انگلینڈ256-6
ایون مورگن107101شعیب اختر3-4010
پاکستان135
کامران اکمل4153اسٹورٹ براڈ3-258

‏2009ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف بھی پاکستان کو فیصلہ کن مقابلے میں بہت ہی غیر معمولی شکست ہوئی۔ پاکستان صرف 212 رنز کے تعاقب میں تھا لیکن 101 رنز پر ہی اس کی 9 وکٹیں گر گئیں۔ گویا میچ کا فیصلہ ہو چکا تھا لیکن محمد عامر اور سعید اجمل نے آخری وکٹ پر 103 رنز کی پارٹنرشپ کی۔ لگ رہا تھا کہ وہ میچ نکال لیں گے لیے سعید اجمل آؤٹ ہو گئے اور پاکستان کو میچ کے ساتھ سیریز میں بھی شکست ہو گئی۔

نیوزی لینڈ کا دورۂ متحدہ عرب امارات 2010ء - تیسرا ون ڈے

نیوزی لینڈ 7 رنز سے جیت گیا

نیوزی لینڈ 211
برینڈن میک کولم7678سعید اجمل4-3310
پاکستان204
محمد عامر7381جیکب اورم3-209.1

پھر 2007ء میں پاکستان اپنی سرزمین پر جنوبی افریقہ سے بُری طرح ہارا تھا۔ لاہور میں کھیلے گئے فیصلہ کن ون ڈے میں پاکستان 243 رنز کے تعاقب میں صرف تین وکٹوں پر 199 رنز بنا چکا تھا۔ 58 گیندوں پر صرف 35 رنز درکار تھے اور 7 وکٹیں بھی باقی تھیں، لیکن پوری ٹیم 219 رنز پر ڈھیر ہو گئی یعنی 20 رنز کے اضافے پر آل آؤٹ۔ میچ بھی گیا اور سیریز بھی!

جنوبی افریقہ کا دورۂ پاکستان 2007ء - پانچواں ون ڈے

جنوبی افریقہ 14 رنز سے جیت گیا

جنوبی افریقہ233-9
ژاک کیلس86130شعیب اختر4-439
پاکستان219
یونس خان5865البی مورکل4-448.3

اس سے پہلے پاکستان لاہور ہی میں بھارت سے سیریز کا فیصلہ کن میچ ہارا تھا جب 2004ء میں بھارت کے دورۂ پاکستان میں گرین شرٹس 294 رنز کے ہدف میں بری طرح ناکام ہوئے تھے۔

بھارت کا دورۂ پاکستان 2004ء - پانچواں ون ڈے

بھارت 40 رنز سے جیت گیا

بھارت 293-7
وی وی ایس لکشمن107104محمد سمیع3-6310
پاکستان253
معین خان7271عرفان پٹھان3-3210

‏2003ء میں تو اس سے بھی مایوس کن کارکردگی دکھائی کہ جب جنوبی افریقہ کے دورۂ پاکستان میں سیریز کے ابتدائی دونوں میچز جیتنے کے باوجود پاکستان باقی ماندہ تینوں مقابلے ہارا۔ پانچویں اور فیصلہ کن مقابلے میں تو پوری ٹیم صرف 192 رنز پر ڈھیر ہوئی اور جنوبی افریقہ نے 7 وکٹوں سے با آسانی کامیابی حاصل کی۔

جنوبی افریقہ کا دورۂ پاکستان 2003ء - پانچواں ون ڈے

جنوبی افریقہ 7 وکٹوں سے جیت گیا

پاکستان192
عبد الرزاق3851شان پولاک3-339.3
جنوبی افریقہ193-3
بوئٹا ڈیپنار74125محمد سمیع2-4710

اُسی سال پاکستان دورۂ انگلینڈ میں پہلا میچ جیتا لیکن باقی دونوں مقابلے ہارا۔ لارڈز کے میدان پر فیصلہ کن مقابلے میں پاکستان نے 4 وکٹوں سے شکست کھائی اور سیریز ہاتھ سے نکل گئی۔

پاکستان کا دورۂ انگلینڈ 2003ء - تیسرا ون ڈے

انگلینڈ 4 وکٹوں سے جیت گیا

پاکستان229-7
عبد الرزاق6453اینڈریو فلنٹوف4-3210
انگلینڈ231-6
مارکس ٹریسکوتھک108*145محمد حفیظ3-319

گزشتہ 20 سال میں پاکستان کی ایک نمایاں کامیابی 2002ء میں آسٹریلیا کو آسٹریلیا میں شکست دینا ہے۔ پہلے ون ڈے میں واضح شکست کھانے کے بعد پاکستان دوسرا ون ڈے 2 وکٹوں سے جیتا اور پھر شعیب اختر کی طوفانی باؤلنگ کی بدولت فیصلہ کن میچ میں 91 رنز کی شاندار کامیابی حاصل کی تھی۔

پاکستان کا دورۂ آسٹریلیا 2002ء - تیسرا ون ڈے

پاکستان 91 رنز سے جیت گیا

پاکستان256-7
عمران نذیر6673شین وارن2-4210
آسٹریلیا165
شین واٹسن44*78شعیب اختر5-258

اندازہ لگا لیں کہ جب بات آخری گولی اور آخری سپاہی تک آتی ہے تو اکثر ہمارے نصیب میں شہادت ہی آتی ہے، فتح و کامرانی نہیں۔ کم از کم پچھلی دو دہائیاں تو یہیں داستان بیان کر رہی ہیں۔