[آج کا دن] تاریخ کا عظیم ترین اوپنر گورڈن گرینج

0 412

‏70ء اور 80ء کی دہائی میں ویسٹ انڈین کرکٹ کا کوئی جواب نہیں تھا۔ کھیل کے ہر شعبے میں اس کے پاس ایسے کھلاڑی تھے، جن کا مقابلہ کرنا کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔ بیٹنگ سے لے کر باؤلنگ تک، یہاں تک کہ فیلڈنگ میں بھی ویسٹ انڈین کھلاڑیوں کو کمال حاصل تھا۔

تب ویسٹ انڈیز کے اوپنر تھے گورڈن گرینج، ایسے بلے باز جنہوں نے اُس زمانے میں تیزی سے بیٹنگ کرنے کو رواج دیا جب ہر طرف 'کچھوا چال' عام تھی، بھارت کے سنیل گاوسکر سے لے کر پاکستان کے مدثر نذر تک۔

گرینج صرف 12 سال کی عمر میں والدین کے ساتھ برطانیہ میں منتقل ہو گئے تھے لیکن جب وہ انٹرنیشنل کرکٹ تک پہنچے تو کھیلنے کے لیے ویسٹ انڈیز کا ہی انتخاب کیا۔ پھر 236 انٹرنیشنل مقابلوں میں 30 سنچریوں کی مدد سے 12,692 رنز بنائے اور کئی ریکارڈز قائم کیے۔

ڈیسمنڈ ہینز کے ساتھ گرینج کی اوپننگ جوڑی اُس زمانے کے باؤلرز کے لیے ایک ڈراؤنا خواب تھی۔ ان دونوں کے درمیان 16 سنچری پارٹنرشپس ہوئی جو اُس زمانے میں کسی بھی وکٹ کے لیے ایک عالمی ریکارڈ تھا بلکہ آج بھی کسی بھی اوپننگ جوڑی کی سب سے زیادہ سنچری پارٹنرشپس ہیں۔

یہی نہیں بلکہ دونوں کھلاڑیوں نے کُل 148 اننگز میں 47.31 کے اوسط سے 6,482 رنز بنائے، جو آج بھی ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ دنیا کی کوئی اوپننگ جوڑی آج تک اُن کے قریب بھی نہیں پھٹک پائی۔

ویسے گرینج-ہینز شراکت داری چار مرتبہ 200 کا ہندسہ بھی عبور کر گئی تھی، جس میں سب سے بڑی پارٹنرشپ 298 رنز کی تھی۔ یہ 1990ء میں انگلینڈ کا دورۂ ویسٹ انڈیز تھا کہ جس میں انگلینڈ کے 260 رنز کے جواب میں ان دونوں بلے بازوں نے ہی 298 رنز بنا ڈالے تھے۔

یہ سیریز کا آخری ٹیسٹ تھا، جس میں گرینج نے 149 جبکہ ہینز نے 167 رنز بنائے۔ ان کی بدولت ویسٹ انڈیز واحد اننگز میں 446 رنز بنانے میں کامیاب ہوا اور پھر انگلینڈ کو 154 رنز پر آل آؤٹ کر کے یہ میچ ایک اننگز اور 32 رنز سے اور سیریز ‏2-1 سے جیت لی۔

انفرادی طور پر دیکھیں تو گرینج کی شاہکار ترین اننگز 1984ء کے لارڈز ٹیسٹ میں کھیلی گئی 214 رنز کی باری تھی۔ جہاں انہوں نے صرف 242 گیندوں پر 29 چوکوں اور دو چھکوں سے مزین ایک فاتحانہ اننگز کھیلی، جسے آج بھی تاریخ کی بہترین ڈبل سنچریوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

کیوں؟ اس لیے کیونکہ ویسٹ انڈیز کو آخری دن 342 رنز کا ہدف ملا تھا اور انگلینڈ سمجھ رہا تھا کہ کیونکہ اب ایک دن سے بھی کم وقت کا کھیل بچا ہے، اس لیے ویسٹ انڈیز کے لیے یہ ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

بلاشبہ آج اس جدید کرکٹ کے دور میں بھی ایک ڈیڑھ دن کا کھیل بھی موجود ہو، تو 342 رنز کا ہدف حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ لیکن گرینج کی طوفانی اننگز اور دوسری وکٹ پر لیری گومیس کے ساتھ 287 رنز کی ناٹ آؤٹ پارٹنرشپ نے ویسٹ انڈیز کو ایک ناقابل یقین کامیابی دلائی۔

ویسے یہ وہی سیریز تھی کہ جس میں ویسٹ انڈیز نے انگلینڈ کو انگلینڈ میں پانچوں ٹیسٹ میچز ہرائے اور تاریخی بلیک واش کیا تھا۔

گرینج نے 108 ٹیسٹ میچز میں 44.72 کے اوسط اور 19 سنچریوں اور 34 نصف سنچریوں کی مدد سے 7,558 رنز بنائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 128 ون ڈے انٹرنیشنل میچز بھی کھیلے جن میں انہوں نے 11 سنچریوں اور 31 سنچریوں کی مدد سے 5,134 رنز بنائے۔

گورڈن گرینج کے کیریئر پر ایک نظر

 مقابلےرنزبہترین اسکوراوسطسنچریاںنصف سنچریاں
ٹیسٹ108755822644.721934
ایک روزہ1285134133*45.031131
فرسٹ کلاس52337354273*45.8892183
لسٹ اے44016349186*40.563394