[آج کا دن] رنز کے انبار لگانے والے 'کیکڑا' نما چندرپال

0 281

ورلڈ کپ 1992ء میں پاکستان کی کامیابی کے بعد ملک میں کرکٹ کی مقبولیت میں بہت اضافہ ہوا۔ یہاں تک کہ ہم جیسے ننھے منّے شائقین نے دوسرے ملکوں کے میچز میں بھی دلچسپی لینا شروع کر دی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا گلی کرکٹ کے دوران جہاں کا 'کرکٹ گیان' بٹتا تھا، وہی جے سوریا کے بلّے میں لوہے کی پلیٹ والا 😁

تب پاکستان ٹیلی وژن پر صرف قومی ٹیم کے میچز براہ راست آیا کرتے تھے۔ کیبل ٹی وی اتنا عام نہیں تھا اور ڈش لگوانا ایک مشکل اور مہنگا سودا تھا۔ تو کرکٹ معلومات کا آسان راستہ ایک ہی تھا، اخبارات۔ اگلے روز اخبار میں سب سے پہلے کھیلوں کی خبروں والا صفحہ ہی چاٹتے۔ انہی دنوں میں ایک دوست نے یہ خوشخبری سنائی کہ اس نے ورلڈ ریسیور خرید لیا ہے یعنی ایسا ریڈیو جس میں دنیا جہاں کے چینلز آتے ہیں۔ بس تو ہماری کرکٹ پر فوری معلومات کا ذریعہ وہی دوست بن گیا۔ ایک روز اُسی نے بتایا کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم میں آج ایک نیا کھلاڑی آیا ہے، جس کے بارے میں کمنٹیٹر بتا رہے تھے کہ وہ وکٹ پر لگی بیل اٹھا کر اسے کریز میں ٹھونکتا ہے، پھر گارڈ لیتا ہے اور عجیب و غریب انداز میں کھڑا ہوتا ہے۔ یہ شیونرائن چندرپال سے ہمارا پہلا تعارف تھا، وہی 'شیو' جو 1974ء میں آج ہی کے دن پیدا ہوئے تھے۔

عموماً چندرپال کو اپنے انوکھے بیٹنگ انداز کی وجہ سے شہرت حاصل تھی، لیکن در حقیقت وہ رنز بنانے کی مشین تھے، وہ بھی اس عجیب و غریب 'کیکڑا نما' اسٹائل کے باوجود۔ اپنی پہلی ہی سیریز میں انہوں نے چار نصف سنچریاں بنائیں۔ ففٹیز تو ان کو ایسی چپک گئیں کہ تین سال تک صرف نصف سنچریاں ہی بناتے رہے، ایک مرتبہ بھی سنچری نہیں اسکور کر پائے۔ ابتدائی 18 ٹیسٹ میچز میں انہوں نے تقریباً 50 کے اوسط سے رنز بنائے، 13 نصف سنچریوں کے ساتھ اور لیکن ایک بار بھی تہرے ہندسے میں داخل نہیں ہو سکے۔

بہرحال، 1997ء میں بھارت کے خلاف برج ٹاؤن میں 137 رنز کے ساتھ انہوں نے پہلی بار یہ سنگِ میل عبور کیا اور اگلے ہی مہینے ون ڈے انٹرنیشنل میں بھی سنچری بنا ڈالی۔

سن 2000ء میں ان کے پیر کا آپریشن ہوا، جس کے بعد وہ مکمل طور پر ایک نئے روپ میں نظر آئے۔ اب وہ بہت تواتر کے ساتھ رنز بنانے لگے اور ان کا بلّا بڑی اننگز بھی اُگلنے لگا۔ 2006ء سے 2008ء کے درمیان تو 23 ٹیسٹ میچز میں 73 سے زیادہ کے اوسط، سات سنچریوں اور 14 نصف سنچریوں کی مدد سے 2 ہزار سے زیادہ رنز بنا ڈالے۔

یہی وجہ ہے کہ 2008ء میں انہیں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے سال کے بہترین کرکٹر کی 'سر گیری سوبرز ٹرافی' سے نوازا اور پھر وزڈن نے بھی انہیں سال کے پانچ بہترین کھلاڑیوں میں شمار کیا۔

انہی سالوں کے دوران چندرپال کو کپتان بھی بنایا گیا۔ 14 ٹیسٹ اور 16 ون ڈے میچز میں قیادت کے فرائض انجام دیے بلکہ گیانا میں اپنے ہوم گراؤنڈ پر ڈبل سنچری بھی بنائی۔ لیکن کپتانی کا بوجھ ان کی کارکردگی کو متاثر کرنے لگا، جسے بالآخر انہوں نے اپنے سر سے اتار ہی دیا۔

چندرپال ویسٹ انڈیز کے دوسرے کھلاڑی تھے کہ جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں 10 ہزار رنز بنائے۔ انہوں نے 2012ء میں آسٹریلیا کے خلاف اپنے 140 ویں ٹیسٹ میچ میں یہ سنگِ میل عبور کیا۔ یہ وہ سال تھا جس میں انہوں نے تین سنچریاں اور ایک ڈبل سنچری کی مدد سے اور 98.7 کے ناقابلِ یقین اوسط کے ساتھ رنز بنائے تھے۔

عمر کے ساتھ ساتھ چندرپال کے رنز کی رفتار بھی کم ہوتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ 10 اننگز میں صرف ایک نصف سنچری بنانے کی وجہ سے انہیں 40 سال کی عمر میں ویسٹ انڈین اسکواڈ سے نکال دیا گیا۔ 2015ء میں سینٹرل کانٹریکٹ نہ ملنے پر انہوں نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ ایک عہد تھا، جو تمام ہوا۔

شیونرائن چندرپال کے کیریئر پر ایک نظر

فارمیٹمیچزرنزبہترین اننگزاوسط10050
ٹیسٹ16411867203*51.373066
ون ڈے انٹرنیشنل268877815041.601159
ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل223434120.1700
فرسٹ کلاس38527545303*53.1777144
لسٹ اے4231343915041.991398
ٹی ٹوئنٹی81157687*23.5208

چندرپال نے کُل 164 ٹیسٹ میچز کھیلے اور 51.37 کے اوسط سے 11867 رنز بنائے۔ انہوں نے 30 سنچریاں اور 66 نصف سنچریاں بنائیں۔ اس کے علاوہ 268 ون ڈے انٹرنیشنلز بھی کھیلے، جن میں 11 سنچریوں اور 59 نصف سنچریوں کی مدد سے 8778 رنز اسکور کیے۔ اس دوران انہوں نے 2004ء ویسٹ انڈیز کو چیمپیئنز ٹرافی جتوانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

ایسے زمانے میں جب ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ میں برائن لارا کا نام سب سے نمایاں تھا، چندرپال نے نہ صرف اپنا مقام بنایا بلکہ لارا کے جانے کے بعد خود کو ویسٹ انڈیز کا نمبر ایک بلے باز ثابت بھی کیا۔