جب پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک گئے

0 224

پاکستان اور انگلینڈ کی سیریز ہو اور اس میں کوئی تنازع پیدا نہ ہو؟ ابھی چند دن پہلے تو ہم نے اوول 2006ء کے ہنگاموں کا ذکر کیا تھا لیکن 2010ء میں آج کے دن یعنی 28 اگست کو "تمام تنازعات کا باپ" پیدا ہوا، اسپاٹ فکسنگ کا وہ اسکینڈل جس نے پاکستان کرکٹ کو ہلا کر رکھ دیا۔

یہی وہ دن تھا جب انگلینڈ کے اخبار "نیوز آف دی ورلڈ" نے اپنی خبر میں کہا تھا کہ پاکستان کے دو گیند بازوں نے لارڈز ٹیسٹ کے دوران جان بوجھ کر نو بالز کیں اور اس کے بدلے میں سٹے باز مظہر مجید سے ڈیڑھ لاکھ برٹش پونڈز کی خطیر رقم حاصل کی۔ اس "سازش" میں کپتان سلمان بٹ بھی ملوّث تھے۔

اخبار میں خبر کی اشاعت کے ساتھ وڈیو ثبوت ویب سائٹ پر بھی جاری کیے گئے، جس کے بعد طویل تحقیقات کا آغاز ہوا اور بالآخر تینوں کھلاڑی اسپاٹ فکسنگ کے مجرم ثابت ہوئے۔ محمد عامر سے لے کر سلمان بٹ تک، سب پر پانچ، پانچ سال کی پابندیاں لگیں اور پھر برطانیہ میں بد عنوانی و دھوکا دہی کے مقدمے میں انہیں قید کی سزائیں بھی سنائی گئیں۔

یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان کرکٹ ویسے ہی بدحالی کا شکار تھی۔ 2009ء میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے نے ملک پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے بند کر دیے تھے۔ پھر 2010ء میں پاکستان وہ تاریخی سیلاب آیا تھا جس نے ملک میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔ انگلینڈ اور پاکستان کے کرکٹ بورڈز میں اس وقت مذاکرات چل رہے تھے کہ سیلاب زدگان کی امداد کے لیے متحدہ عرب امارات میں ایک محدود اوورز کی سیریز کھیلی جائے۔ یہی نہیں بلکہ انگلینڈ کے کئی کھلاڑیوں نے اپنی میچ فیس سیلاب زدگان کے لیے عطیہ کیں، لیکن عین اس موقع پر پاکستانی کے تین اہم کھلاڑی کیا کر رہے تھے؟ وہ اسپاٹ فکسنگ کر رہے تھے۔ اسی کو شاید ڈوب مرنے کا مقام کہتے ہیں۔

محمد آصف تو چلیں اس سے پہلے بھی نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں پر پکڑے گئے تھے لیکن سلمان بٹ جیسا فرد؟ جب پاکستان کے سابق کوچ جیف لاسن کو یہ خبر پتہ چلی تو انہوں نے ماننے سے ہی انکار کر دیا اور کہا کہ سلمان جیسا لڑکا یہ کام نہیں کر سکتا۔ وہ تو ٹیم کا سب سے پڑھا لکھا رکن ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ سلمان بٹ کو محمد عامر کو اس گند میں گھسیٹا اور پھر جب پکڑے گئے تو عدالت میں اُن پر الزام لگایا کہ مظہر مجید اور محمد عامر کی سازباز ہوگی، میرا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔

یاد رہے کہ محمد عامر کی عمر اس وقت صرف 18 سال تھی اور وہ اپنی باؤلنگ سے دنیا کو حیران کر رہے تھے۔

ویسے محمد عامر سے بھی ایک غلطی ہوئی، وہ یہ کہ جب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے تحقیقات کیں تو انہوں نے اعترافِ جرم نہیں کیا۔ بلکہ جب معاملہ برطانیہ کی عدالت میں جا پہنچا تو پہلی ہی پیشی پر اعتراف کر لیا لیکن تب کافی دیر ہو چکی تھی۔ اگر وہ پہلے ہی یہ قدم اٹھاتے تو شاید ان پر اتنی طویل پابندی نہ لگتی۔ عامر تقریباً پانچ سال قومی ٹیم سے باہر رہے اور جنوری 2016ء میں انہیں واپسی کا موقع ملا۔

اسے پاکستان کی خوش قسمتی کہیں کہ اس نازک ترین دور میں اسے مصباح الحق جیسا ٹھنڈے مزاج کا کپتان ملا، جس نے پاکستان کو ایک مرتبہ پھر کامیابیوں کی راہ پر گامزن کیا اور اگلے پانچ سال میں پاکستان کو ایک بڑی کرکٹ طاقت بنا دیا۔ وہی محمد عامر کو واپس بھی لائے اور لارڈز کے اسی میدان پر عامر نے پاکستان کو ایک تاریخی کامیابی بھی دلائی۔

بلاشبہ وقت سب سے بڑا مرہم ہے، لیکن پاکستانی شائقین کے دلوں پر جو زخم اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل نے لگائے، شاید وہ کبھی مندمل نہیں ہو سکتے۔