[سالنامہ 2013ء] پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی میں نمایاں کارکردگی، آئندہ فتوحات کا پیش خیمہ

ٹیسٹ اور ایک روزہ میں ملے جلے نتائج کے باوجود ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان نے سال 2013ء میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا البتہ عالمی درجہ بندی میں نمبر ایک پوزیشن کے کم از کم دو بار انتہائی قریب پہنچنے کے باوجود اسے حاصل نہ کرپایا۔ اس کے باوجود 12 مقابلوں میں 8 فتوحات اور سال بھر میں صرف ایک سیریز ناکامی پاکستان کی کامیابیوں کی داستان بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔

عمر گل کی ریکارڈ ساز کارکردگی کے ذریعے پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی میں سال کے آغاز جنوبی افریقہ کے خلاف فتح کے ذریعے کیا (تصویر: AFP)

عمر گل کی ریکارڈ ساز کارکردگی کے ذریعے پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی میں سال کے آغاز جنوبی افریقہ کے خلاف فتح کے ذریعے کیا (تصویر: AFP)

پاکستان نے رواں سال ان دوروں میں بھی مختصر ترین طرز کی کرکٹ میں بہترین کارکردگی دکھائی، جہاں ٹیسٹ اور ون ڈے مقابلوں میں اسے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا جیسا کہ سال کے پہلے دورۂ جنوبی افریقہ میں ٹیسٹ سیریز میں تین-صفر کی بدترین شکست کے باوجود پاکستان ٹی ٹوئنٹی مرحلہ ایک-صفر سے سے جیتنے میں کامیاب رہا۔

تو سال 2013ء کی ٹی ٹوئنٹی داستان کا آغاز بھی اسی دورے سے کرتے ہیں جہاں پاکستان کا یکم مارچ کو ڈربن میں طے شدہ پہلا مقابلہ بارش کی نذر ہوا۔ تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں کلین سویپ کی ہزیمت سے دوچار ہونے کے بعد محمد حفیظ کی زیر قیادت پاکستان نے سپر اسپورٹ پارک، سنچورین میں ایک یادگار فتح حاصل کی۔ محمد حفیظ کی کیریئر کی بہترین اننگز اور پھر عمر گل کی ریکارڈ ساز باؤلنگ نے پاکستان کو 95 رنز سے غلبہ عطا کیا۔

کپتان محمد حفیظ نے صرف 51 گیندوں پر 86 رنز بنائے، جس کی بدولت پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں 195 رنز کا اچھا مجموعہ اکٹھا کیا۔جواب میں جنوبی افریقہ عمر گل کے سامنے پل بھر کے لیے نہ ٹھہر سکا۔ پہلے ہی اوور میں عمر گل کے تین وکٹیں سمیٹنے کے بعد پاکستان مکمل طور پر حاوی ہوگیا اور جنوبی افریقہ بمشکل 100 رنز تک ہی پہنچ پایا۔ عمر گل نے صرف6 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کرکے ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی کرکٹ میں بہترین باؤلنگ کااپنا ہی بنایا گیا عالمی ریکارڈ توڑا۔

عمر گل محمد حفیظ کی آل راؤنڈ کارکردگی کی وجہ سے اس مقابلے میں مرد میدان کا خطاب تو حاصل نہ کرسکے لیکن بعد ازاں ان کی اس کارکردگی کو بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے سال کی بہترین ٹی ٹوئنٹی کارکردگی کا ایوارڈ ضرور دیا۔

پھر ایک روزہ سیریز میں شکست کے ساتھ دورے کے مایوس کن اختتام پر اور ایک روزہ کے اہم ترین ٹورنامنٹ چیمپئنز ٹرافی میں بدترین ناکامی کے بعد پاکستان شکستہ دل لیکن بلند حوصلوں کے ساتھ جولائی میں ویسٹ انڈیز پہنچا، جہاں قومی کرکٹ ٹیم نے سال کی بہترین کارکردگی دکھائی۔

ذوالفقار بابر نے کیریئر کے اولین ٹی ٹوئنٹی مقابلے میں ہی پاکستان کو آخری گیند پر چھکے کے ذریعے فتح دلائی (تصویر: WICB)

ذوالفقار بابر نے کیریئر کے اولین ٹی ٹوئنٹی مقابلے میں ہی پاکستان کو آخری گیند پر چھکے کے ذریعے فتح دلائی (تصویر: WICB)

آرنس ویل کے خوبصورت میدان میں کھیلے گئے سیریز کے اولین ٹی ٹوئنٹی مقابلے میں پاکستان کو گمنام ذوالفقار بابر نے فتح سے ہمکنار کیا۔ آخری اوور میں 6 رنز کے تعاقب میں موجود پاکستان کو پہلی ہی گیند پر چوکا دینے کے باوجود معاملہ آخری گیند پر ایک رن تک پہنچ گیا جہاں "ذولفی" نے حریف باؤلر مارلون سیموئلز کو شاندار چھکا رسید کرکے پاکستان کو سیریز میں ناقابل شکست برتری دلائی۔ یوں ذوالفقار اپنے پہلے ٹی ٹوئنٹی مقابلے ہی میں شہرت سمیٹ گئے۔ انہوں نے قبل ازیں باؤلنگ کے دوران 3 وکٹیں بھی حاصل کی تھیں۔

پہلے ٹی ٹوئنٹی کی فتح نے پاکستان کو بھرپور اعتماد بخشا اور اگلے مقابلے میں اس نے اپنی باؤلنگ صلاحیتوں کے بل بوتے پر صرف 136 رنز کا کامیابی سے دفاع کیا۔ اس مقابلے میں بھی ذوالفقار نے اہم مرحلے پر پاکستان کو دو قیمتی وکٹیں دلائیں۔ اننگز کے 17 ویں اوور کی ابتدائی چار گیندوں پر انہیں کیرون پولارڈ کے ہاتھوں دو چوکے اور دو چھکے سہنا پڑے لیکن آخری دونوں گیندوں پر انہوں نے پولارڈ اور ڈیوین براوو کو آؤٹ کرکے مقابلہ پاکستان کے حق میں پلٹا اور بعد ازاں سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

ٹی ٹوئنٹی کے عالمی چیمپئن کے خلاف دو-صفر کی شاندار فتح سمیٹنے کے بعد پاکستان کا اگلا امتحان، ایک مرتبہ پھر 'عہد طفلی' میں پہنچ جانے والے زمبابوے کے خلاف تھا جہاں پاکستان نے ٹیسٹ اور ایک روزہ سیريز میں جدوجہد کرنے کے باوجود باآسانی دونوں ٹی ٹوئنٹی مقابلے جیت لیے۔ احمد شہزاد کی کارکردگی نمایاں رہی جنہوں نے پہلے مقابلے میں 70 اور دوسرے میں 98 رنز کی بہترین باریاں کھیلیں اور پاکستان نے ہرارے میں کھیلے گئے دونوں مقابلے اپنے نام کیے۔

پاکستان کی سال میں پہلی 'ہوم سیریز' جنوبی افریقہ کے خلاف تھی جو پاکستان کو ایک مرتبہ پھر متحدہ عرب امارات میں کھیلنا پڑی۔ یہاں پاکستان سے بہت توقعات تھیں کہ وہ سال کے اوائل میں ملنے والی تمام شکستوں کا بدلہ لے گا لیکن ٹیسٹ سیریز جیتنے میں ناکامی اور پھر ایک روزہ سیریز میں چار-ایک کے واضح مارجن سے شکست کے بعد پاکستان ٹی ٹوئنٹی جیتنے میں بھی ناکام رہا۔

پاک-جنوبی افریقہ سیریز کے پہلے ہی ٹی ٹوئنٹی میں مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا گیا اور ٹیم تہرے ہندسے میں بھی داخل نہ ہوسکی۔ محض 4 رنز پر تین وکٹیں گرجانے کے بعد اتنے مجموعے ہی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ مقابلے کی اہم ترین جھلک کپتان محمد حفیظ کا ایک مرتبہ پھر ڈیل اسٹین کے ہاتھوں آؤٹ ہونا تھا، یہ 18 بین الاقوامی مقابلوں میں 12 واں موقع تھا کہ حفیظ اسٹین کا نشانہ بنے ہوں اور اس مرتبہ آؤٹ کرنے کے بعد اسٹین کا ردعمل دیکھنے کے لائق تھا۔

پہلے مقابلے میں بدترین ناکامی کے بعد پاکستان دوسرے ٹی ٹوئنٹی کو اپنی گرفت میں لینے میں کامیاب ہوگیا اور آخری 32 گیندوں پر 39 رنز کی ضرورت تھی اور اس کی 6 وکٹیں بھی باقی تھیں، لیکن عمدہ باؤلنگ اور شاندار فیلڈنگ یک بیک جنوبی افریقہ کو مقابلے میں واپس لے آئی اور پاکستان 6 رنز سے ہار کر سال کی واحد سیریز شکست سے کھا بیٹھا۔

محمد حفیظ کے لیے سال کی واحد سیریز شکست اور سال کا بدترین منظر، وہ 12 ویں مرتبہ اسٹین کا نشانہ بنے (تصویر: AFP)

محمد حفیظ کے لیے سال کی واحد سیریز شکست اور سال کا بدترین منظر، وہ 12 ویں مرتبہ اسٹین کا نشانہ بنے (تصویر: AFP)

جنوبی افریقہ کے خلاف دو مرتبہ سیریز کھیل لینے کے باوجود پاکستان کرکٹ بورڈ نے کرکٹ ساؤتھ افریقہ سے کامیاب مذاکرات کےبعد ایک مرتبہ پھر مختصر دورۂ جنوبی افریقہ طے کیا۔ گزشتہ نتائج اور قومی ٹیم کی کارکردگی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یہی خدشہ تھا کہ پاکستان ایک مرتبہ پھر ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوگا لیکن پاکستان 'غیر متوقع' ہے، یہ زمبابوے سے شکست کے اگلے ہی روز جنوبی افریقہ جیسے حریف کو بھی شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہی کچھ دورۂ جنوبی افریقہ میں ہوا۔ پہلے ٹی ٹوئنٹی میں کپتان محمد حفیظ کی غائب دماغی کی وجہ سے پاکستان ڈک ورتھ لوئس طریقہ کار کے تحت صرف 4 رنز سے ہار گیا لیکن دوسرے مقابلے میں عمر اکمل اور محمد حفیظ کی شاندار بیٹنگ اور شاہد آفریدی و دیگر باؤلرز کی عمدہ باؤلنگ نے پاکستان کو 6 رنز کی فتح سے نوازا اور یوں سیریز شکست سے بچا لیا۔

کیپ ٹاؤن میں کھیلے گئے مقابلے میں محمد حفیظ اور عمر اکمل نے تیسری وکٹ 9 اوورز میں 102 رنز بنا کر پاکستان کو فاتحانہ بنیاد فراہم کی۔ عمر نے 37 گیندوں پر 64 اور حفیظ نے 41 گیندوں پر 63 رنز کی شاندار کارکردگی دکھائی اور پھر جب جنوبی افریقہ کو آخری اوور میں 17 رنز کی ضرورت تھی، سہیل تنویر نے عمدہ باؤلنگ کی اور جنوبی افریقہ کو صرف ایک چوکا ہی مل سکا۔

پاکستان نے سال کی آخری ٹی ٹوئنٹی سیریز عالمی نمبر ایک سری لنکا کے خلاف کھیلی جہاں پہلے مقابلے میں شاہد خان آفریدی نے ثابت کردیا کہ ابھی ان میں بہت کرکٹ باقی ہے۔ انہوں نے 20 گیندوں 39 رنز کی فاتحانہ اننگز کھیلی اور پاکستان کو 146 رنز کے ہدف تک پہنچایا اور قبل ازیں اپنے 4 اوورز میں صرف 20 رنز دے کر سری لنکا کو بڑے مجموعے تک بھی نہ پہنچنے دیا۔ شاہد نے آخری اوور کی پہلی گیند پر پیڈل سویپ پر شاندار چھکا رسید کرکے پاکستان کو مقابلہ جتوایا۔

شاہد آفریدی نے رواں سال ثابت کیا کہ ان میں ابھی کافی کرکٹ باقی ہے (تصویر: AFP)

شاہد آفریدی نے رواں سال ثابت کیا کہ ان میں ابھی کافی کرکٹ باقی ہے (تصویر: AFP)

پاکستان کو عالمی درجہ بندی میں نمبر ایک پوزیشن حاصل کرنے کے لیے دبئی میں کھیلے گئے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں بھی فتح درکار تھی لیکن سری لنکا نے اپنی بیٹنگ کی قوت کے ذریعے نہ صرف پاکستان کا خواب پورا نہ ہونے دیا بلکہ اپنی پوزیشن بچانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی چوتھے نمبر پر پہنچا دیا۔ اس مقابلے میں پاکستان نے 212 رنز کے بھاری بھرکم ہدف کے تعاقب میں کوشش تو پوری کی لیکن 187 رنز سے آگے نہ جا سکا۔ ریکارڈ ہدف کے تعاقب میں شرجیل خان کی نصف سنچری نے پاکستان کو بھرپور آغاز فراہم کیا لیکن پے در پے وکٹیں گرنے سے اس پیشرفت کو سخت نقصان پہنچا۔ آخری 57 گیندوں پر 127 رنز کی ضرورت تھی اور شاہد آفریدی اور سہیل تنویر کی عمدہ بیٹنگ نے اس ناقابل یقین ہدف تک پہنچنے کی ٹھانی۔ لیکن پاکستان اس کو یقینی نہ بنا سکا۔ آفریدی نے 28 اور سہیل تنویر نے 41 رنز بنائے۔

اس مقابلے میں پاکستان کی شکست کا سبب اس کی ناقص باؤلنگ تھی جس کی وجہ سے وہ تاریخ میں پہلی بار کسی ٹیم کے ہاتھوں 200 رنز کھا گیا۔ سری لنکا کے اوپنرز نے سنچری شراکت داری فراہم کی اور آخر میں 38 گیندوں پر 78 رنز سے پاکستان کی رنز روکنے کی امیدوں کا خاتمہ کردیا۔ سری لنکا نے 211 رنز کا بھاری بھرکم مجموعہ اکٹھا کیا جو پاکستان کو زیر کرنے کے لیے کافی تھا۔

یوں آخری سیریز جیتنے میں ناکامی کے باوجود پاکستان کی مجموعی ٹی ٹوئنٹی کارکردگی تسلی بخش رہی۔ نئے کھلاڑیوں صہیب مقصود، شرجیل خان، انور علی، بلاول بھٹی اور ذوالفقار بابر کا پاکستان کی فتوحات میں اہم کردار رہا جو ایک حوصلہ افزاء امر ہے۔ بالخصوص اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ اگلا سال ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا سال ہے جو مارچ کے مہینے میں بنگلہ دیش میں ہونا ہے۔ پاکستان کو اس اہم ترین ٹورنامنٹ میں اپنے امکانات کو برقرار رکھنے کے لیے تجربہ کار کھلاڑیوں اور نئے خون کے بہترین ملاپ کی ضرور ت ہے تاکہ 'ہوش' اور 'جوش' ایک ساتھ کام کرے اور ٹیم فتوحات کی راہ پر گامزن ہو۔

ایک روزہ کرکٹ کی طرح اس سال انفرادی سطح پر بھی پاکستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی بہت نمایاں رہی۔ بالکل ایک روزہ ہی کی طرح سال میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے سرفہرست دونوں بلے باز پاکستانی رہے۔ احمد شہزاد نے سال بھر میں کھیلے گئے 12 مقابلے میں 31.54 کے شاندار اوسط اور 121.32 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 347 رنز بنائے جبکہ کپتان محمد حفیظ اتنے ہی مقابلوں میں 35.88 کے اوسط سے 323 رنز بناکر سب سے آگے رہے۔

بلے باز مقابلے رنز بہترین اسکور اوسط اسٹرائیک ریٹ سنچریاں نصف سنچریاں چوکے چھکے
احمد شہزاد 12 347 98* 31.54 121.32 0 2 34 12
محمد حفیظ 12 323 86 35.88 132.92 0 3 27 11
عمر اکمل 10 230 64 28.75 132.18 0 1 17 8
شاہد آفریدی 12 199 46 39.80 143.16 0 0 15 9
شرجیل خان 3 102 50 34.00 141.66 0 1 10 4

پاکستانی قائد محمد حفیظ باؤلنگ میں بھی نمایاں رہے جنہوں نے 12 مقابلوں میں 12 وکٹیں سمیٹیں اور پاکستان کی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔البتہ سال میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے کا اعزاز کینیا کے شیم اینگوچے کو ملا جنہوں نےورلڈ ٹی ٹوئنٹی کوالیفائرز کی وجہ سے ملنے والےمقابلوں کی مدد سے 11میچزمیں 14 وکٹیں سمیٹیں۔ ان کے علاوہ انگلستان کے جیڈ ڈرنباخ نے صرف 7 مقابلوں میں 13 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے دوسرے باؤلرز سعید اجمل تھے جنہوں نے9 میچز میں 10 وکٹیں حاصل کیں۔

گیندباز مقابلے اوورز میڈنز رنز وکٹیں بہترین باؤلنگ اوسط
محمد حفیظ 12 41.0 1 258 12 3/25 21.50
سعید اجمل 9 34.0 0 220 10 3/25 22.00
شاہد آفریدی 12 36.3 0 272 10 3/25 27.20
سہیل تنویر 10 36.0 2 250 9 2/11 27.77
ذوالفقار بابر 4 15.0 1 108 8 3/23 13.50

ٹیسٹ اور ایک روزہ طرز کی کرکٹ کے برعکس پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں کارکردگی بہتر رہی۔ سال 2014ء کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ کا انعقاد بنگلہ دیش میں ہوگا اور پاکستان ساڑھے 4 سال بعد ایک مرتبہ پھر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی ٹرافی اٹھانے کے لیے بے تاب ہوگا، لیکن اس کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کو اپنی کارکردگی میں مزید تسلسل لانا ہوگا اور ان پر مزید اعتماد کرنا ہوگا کیونکہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا اعزاز ایک مرتبہ پھر اپنے نام کرنے کا تمام تر دارومدار نوجوان کھلاڑیوں پر ہے۔

Facebook Comments