عالمی کپ 1992ء کی مکمل داستان، ایک دستاویزی فلم میں

عالمی کپ 1992ء آج تک صرف اس لیے یاد نہیں کیا جاتا کیونکہ یہ پاکستان جیتا تھا بلکہ جدتوں اور کئی انتظامی خوبیوں کی وجہ سے بھی اس ٹورنامنٹ نے نئے معیارات مرتب کیے۔ تاریخ میں پہلی بار کسی عالمی کپ ٹورنامنٹ میں رنگین ملبوسات استعمال کیے گئے، سفید گیندیں، مصنوعی روشنی میں مقابلے، فیلڈنگ کے دائرے اور اس کے باہر تعداد پر پابندی کا اطلاق، ساتھ ساتھ انوکھا فارمیٹ کہ جس میں تمام ٹیموں کو سب کے خلاف ایک، ایک مقابلہ کھیلنا تھا، اس عالمی کپ کی اثر انگیزی کو اب تک برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

عالمی کپ 1992ء صرف اس لیے یادگار نہيں تھا کہ پاکستان نے جیتا، بلکہ اس لیے کہ اس نے بین الاقوامی کرکٹ کو جدت کے نئے معیارات دیے (تصویر: Getty Images)

عالمی کپ 1992ء صرف اس لیے یادگار نہيں تھا کہ پاکستان نے جیتا، بلکہ اس لیے کہ اس نے بین الاقوامی کرکٹ کو جدت کے نئے معیارات دیے (تصویر: Getty Images)

اس عالمی کپ میں سب کچھ تھا، سنسنی خیز اور یکطرفہ مقابلے، تنازعات بھی اور دلچسپ لمحات بھی، ناقابل یقین کارکردگی بھی تو مایوس کن کردار بھی۔ یہ ایک جامع ٹورنامنٹ تھا جسے ایک تحریر میں سمیٹنا تو بہت مشکل ہے لیکن یہ کام دستاویزی فلم کے ذریعے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔ ہدایت کار چارلی ریسو-گل کی دستاویزی فلم 'Cricket in Colour' نے عالمی کپ 1992ء کو بخوبی سمیٹا ہے اور سوا گھنٹے کی اس فلم نے پورے عالمی کپ کو ایک مرتبہ پھر آپ کے سامنے کھول کر پیش کردیا ہے۔ سن سیٹ+وائن کی پیش کردہ یہ فلم آپ بھی دیکھیں، جن کی یادیں عالمی کپ سے وابستہ ہیں، وہ ان کو دہرائیں اور جو اس عالمی کپ کو نہیں دیکھ پائے تھے، وہ پاکستان کے عالمی چیمپئن بننے کے یادگار سفر کو دیکھیں:

Facebook Comments