جب پاکستان کو دنیا کی حکمرانی ملی

1 1,134

آج 25 مارچ ہے اور اس پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے اس یادگار دن کو گزرے 26 سال ہو چکے ہیں جب میلبرن کرکٹ گراؤنڈ پر پاکستان نے آخری بار عالمی کپ جیتا تھا۔

ورلڈ کپ 1992ء میں کل 9 ٹیمیں کھیلی تھیں اور یہ راؤنڈ رابن طرز پر ہوا تھا، یعنی تمام ہی ٹیموں نے سب کے خلاف ایک، ایک میچ کھیلا۔ نصف مرحلے تک تو پاکستان کا حال بہت ہی برا تھا۔ ویسٹ انڈیز، بھارت اور جنوبی افریقہ کے ہاتھوں شکست ایک طرف، انگلینڈ کے خلاف مقابلے میں تو پوری ٹیم صرف 72 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی، بس بارش نے پاکستان کو بچا لیا۔ وہ تو شکر ہے اس زمانے میں ڈک ورتھ لوئس طریقہ نہیں ہوتا تھا، ورنہ انگلینڈ جس طرح ہدف کا تعاقب کر رہا تھا، یہ ایک پوائنٹ بھی پاکستان کو نصیب نہ ہوتا۔ بہرحال، گرتے پڑتے جب راؤنڈ مرحلے کا آخری دن آیا تو پاکستان کو ضرورت تھی نیوزی لینڈ کو شکست دینے کی، وہ ٹیم جو اب تک پورے ٹورنامنٹ میں کوئی میچ نہیں ہاری تھی۔ یہی نہیں بلکہ یہ دعا بھی کرنی تھی کہ آسٹریلیا ویسٹ انڈیز کو شکست دے۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ جہاں محنت کرکے نیوزی لینڈ کو شکست دی، وہیں توقعات کے عین مطابق آسٹریلیا بھی ویسٹ انڈیز کے خلاف کامیاب ٹھیرا، یعنی میزبان اپنے ساتھ ویسٹ انڈیز کو بھی لے ڈوبا اور پاکستان کے لیے راستہ صاف ہوگیا۔

پھر پاکستان نے ایک یادگار سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کو شکست دی، یہ عالمی کپ کی تاریخ کے بہترین مقابلوں میں سےایک تھا کہ جہاں پاکستان 263 رنز کے مشکل ہدف کے تعاقب میں 35 ویں اوور تک صرف 140 رنز بنا پایا تھا۔ یعنی آخری 90 گیندوں پر 123 رنز کی ضرورت تھی، جو اس زمانے میں ناممکنات میں سے ایک تھا۔ تب انضمام الحق نے ایک طوفانی اننگز کھیلی، انہوں نے صرف 37 گیندوں پر 60 رنز بنائے اور پاکستان کو پہلی بار ورلڈ کپ کے فائنل تک پہنچایا۔

25 مارچ 1992ء کو ہم نے رنگین لباس اور سفید گیند کے ساتھ تاریخ کا پہلا ڈے اینڈ نائٹ ورلڈ کپ فائنل دیکھا۔ ایم سی جی جیسا خوبصورت میدان ہو، ریکارڈ 87 ہزار سے زیادہ تماشائی موجود ہوں اور مقابلہ ہو پاکستان کا تو جوش ویسے ہی عروج پر پہنچ جاتا ہے۔ پاکستان جس طرح کامیابیاں حاصل کرتا ہوا فائنل تک پہنچا تھا، فیورٹ تو تھا ہی، اوپر سے ٹاس بھی جیت گیا۔ اوپنرز ناکام ہوئے تو مڈل آرڈر میں عمران خان، جاوید میانداد، انضمام الحق اور وسیم اکرم نے عمدہ کارکردگی دکھائی اور 249 رنز بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ عمران خان 72 رنز کے ساتھ سب سے آگے رہے، جاوید میانداد نے 58 رنز بنائے، انضمام الحق نے 42 رنز کی ایک عمدہ اننگز کھیلی اور وسیم اکرم نے آخر میں تیز رفتار 33 رنز اسکور کیے، صرف 18 گیندوں پر۔ پاکستان آخری 6 اوورز میں 52 رنز بنانے میں کامیاب ہوا، بلکہ آخری 20 اوورز میں 153 رنز، جو اس زمانے میں کافی ہوتے تھے۔

گو کہ پاکستان اپنے بہترین باؤلر وقار یونس کے بغیر یہ ٹورنامنٹ کھیلا تھا لیکن وسیم اکرم، مشتاق احمد اور عاقب جاوید نے ان کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔ فائنل میں بھی توقع تھی کہ پاکستان اس ہدف کا دفاع کر لے گا، پھر انہی تینوں نے انگلش ٹاپ آرڈر کو ٹھکانے لگایا۔ وسیم اکرم نے این بوتھم کو آؤٹ کیا، عاقب جاوید نے ایلک اسٹیورٹ کو واپسی کی راہ دکھائی، جس کے کچھ ہی دیر بعد مشتاق احمد نے دو وکٹیں سمیٹیں۔ انگلینڈ کو 29 اوورز میں 181 رنز کی ضرورت تھی اور اس کے 4 کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔

یہاں پر ایلن لیمب اور نیل فیئر برادر کی طویل شراکت داری بھی پاکستان کے لیے کوئی واضح خطرہ نہ بن سکی۔ دونوں نے 14 اوورز میں 72 رنز کا اضافہ کیایعنی انگلینڈ کو آخری 16 اوورز میں 109 رنز درکار تھے اور وہ وکٹ گرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ تب وسیم اکرم کو وکٹ حاصل کرنے کے لیے میدان میں دوبارہ اتارا گیا اور انہوں نے اپنے کیریئر کی دو خوبصورت ترین گیندوں پر دو وکٹیں حاصل کرکے پاکستان کی جیت کو یقینی بنا دیا۔ انہوں نے پہلے ایلن لیمب کو بولڈ کیا اور پھر اگلی ہی گیند پر کرس لوئس کی وکٹیں بھی بکھیر دیں۔ ان دو گیندوں کو اگر عالمی کپ 1992ء کے فائنل کا سب سے ایدگار لمحہ قرار دیا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ بہرحال، انگلینڈ کی آخری وکٹ رچرڈ النگورتھ کی صورت میں گری جنہوں نے عمران خان کی گیند پر رمیز راجہ وک مڈ آف پر کیچ دیا اور یوں پاکستان ورلڈ کپ جیت گیا۔

وسیم اکرم کو فائنل کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا، جنہوں نے 33 رنز بھی بنائے اور تین قیمتی وکٹیں بھی حاصل کیں۔ پاکستان 1992ء سے اب تک آئی سی سی ورلڈ کپ نہیں جیت پایا، بلکہ 1999ء میں فائنل میں پہنچ کر بھی شکست ہی نصیب ہوئی۔ البتہ 2017ء میں منی ورلڈ کپ یعنی چیمپیئنز ٹرافی میں ضرور کامیابی حاصل کی۔ کیا یہ فتح اگلے سال 2019ء میں ہونے والے عالمی کپ میں کامیابی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی؟ یہ آنے والا وقت بتائے گا۔