[آج کا دن] جب بنگلہ دیش نے سارے حساب برابر کر دیے

0 648

ورلڈ کپ 1999ء میں پاکستان کے خلاف کامیابی بنگلہ کرکٹ کا نقطہ عروج سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان کے خلاف ناقابلِ یقین کامیابی کے بعد سمجھا جا رہا تھا کہ اب بنگلہ دیش کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ کچھ ہی عرصے میں اسے ٹیسٹ اسٹیٹس تک دے دیا گیا لیکن ابھی منزل بہت دُور تھی۔

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ہاتھوں اس شکست کو اتنا دل پر لے لیا کہ اگلے 16 سال تک بنگلہ دیش پاکستان کے خلاف کوئی ون ڈے تو کجا، کوئی ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی تک نہیں جیت پایا۔ یہاں تک کہ 2015ء آ گیا۔

یہ 22 اپریل 2015ء تھا، جب میر پور، ڈھاکا میں بنگلہ دیش نے پاکستان ایک نہیں، دو نہیں بلکہ تینوں ون ڈے میچز میں شکست دے کر سیریز میں ‏3-0 سے کامیابی حاصل کی۔ اس سیریز میں بنگلہ دیش کا اعتماد کن بلندیوں کو چھو رہا تھا؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اس نے پہلا ون ڈے 79 رنز سے جیتا، دوسرے ون ڈے میں 7 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی اور تیسرے اور آخری ایک روزہ مقابلہ 8 وکٹوں سے جیت کر اگلے پچھلے سارے حساب برابر کر دیے۔

یہ سیریز اظہر علی کی قیادت کا پہلا امتحان تھی۔ وہ بحیثیت بلے باز تو توقعات پر پورے اترے لیکن نتائج اُن کے بس سے باہر لگتے تھے۔ آخری ون ڈے میں تو وہ اپنی پہلی ون ڈے سنچری بنانے میں بھی کامیاب ہوئے لیکن ان کے آؤٹ ہوتے ہی پاکستان کی آخری آٹھ وکٹیں صرف 47 رنز کے اضافے سے گریں اور اننگز صرف 250 رنز تک محدود ہو گئی۔

ایک لمحے پر پاکستان 39 ویں اوور میں صرف 2 وکٹوں پر 203 رنز پر کھڑا تھا لیکن پہلے اظہر علی کی 101 رنز کی اننگز ختم ہوئی اور پھر حارث سہیل کی 52 رنز کی، اس کے بعد "چراغوں میں روشنی نہ رہی"۔ ایک کے بعد دوسرا پاکستانی بلے باز آؤٹ ہوتا رہا اور ٹیم 49 اوورز میں 250 رنز پر آل آؤٹ ہو گئی۔

پاکستان کا دورۂ بنگلہ دیش 2015ء - تیسرا ون ڈے انٹرنیشنل

بنگلہ دیش بمقابلہ پاکستان

‏22 اپریل 2015ء - شیرِ بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم، میر پور، ڈھاکا، بنگلہ دیش

نتیجہ: بنگلہ دیش 8 وکٹوں سے جیت گیا

بنگلہ دیش سیریز بھی ‏3-0 سے جیت گیا

پاکستان250
اظہر علی101112
حارث سہیل5258
بنگلہ دیش باؤلنگامرو
شکیب الحسن100342
روبیل حسین60432
بنگلہ دیش🏆251-2
سومیا سرکار127*110
تمیم اقبال6476
پاکستان باؤلنگامرو
جنید خان7.30672
محمد حفیظ81370

پاکستان کے مقابلے میں واپس آنے کی جو تھوڑی بہت امیدیں تھیں، وہ بنگلہ دیش کے اوپنرز نے ہی پوری کر دیں۔ وہ 26 ویں اوور تک اسکور کو 145 رنز تک لے آئے یعنی آدھے سے زیادہ اوورز تک پاکستانی باؤلر ایک وکٹ بھی نہ لے سکے۔ باؤلنگ کے علاوہ مایوس کن فیلڈنگ کا بھی اس میں نمایاں کردار تھا۔

بالآخر بنگلہ دیش 40 ویں اوور میں ہی ہدف تک پہنچ گیا، صرف اور صرف دو وکٹوں کے نقصان پر۔ سومیا سرکار 127 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے جو ان کی پہلی ون ڈے سنچری بھی تھی۔ تمیم اقبال نے 64 اور مشفق الرحیم نے 49 رنز بنائے۔

اس طرح وہ بنگلہ دیش جو تقریباً 16 سال تک پاکستان کے خلاف صرف ایک میچ جیتنے کے لیے ترستا رہا، ایک ہی ہفتے میں تین مرتبہ کامیاب و کامران ٹھیرا۔ مسلسل 25 ون ڈے میچز ہارنے کے بعد تواتر کے ساتھ تین فتوحات!

پاکستان کا دورۂ بنگلہ دیش 2015ء - ون ڈے سیریز

پہلا ون ڈے میرپور‏17 اپریل 2015ء
بنگلہ دیش 🏆329-6
پاکستان(ہدف: 330 رنز)250
بنگلہ دیش 79 رنز سے کامیاب
دوسرا ون ڈےمیرپور‏19 اپریل 2015ء
پاکستان 239-6
بنگلہ دیش 🏆 (ہدف: 240 رنز)240-3
بنگلہ دیش 7 وکٹوں سے کامیاب
تیسرا ون ڈےمیرپور‏22 اپریل 2015ء
پاکستان 250
بنگلہ دیش 🏆 (ہدف: 250 رنز)251-2
بنگلہ دیش 8 وکٹوں سے کامیاب

ورلڈ کپ 2015ء کے بعد مصباح الحق کی ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے ساتھ جو خلا پیدا ہوا تھا، وہ پہلی ہی سیریز میں نمایاں ہو چکا تھا۔ اس شکست نے پاکستان کے ون ڈے انٹرنیشنل رینکنگ میں آٹھویں نمبر پر پہنچا دیا تھا۔

اس شکست نے پاکستان کرکٹ کی نفسیات پر کیسے اثرات مرتب کیے؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ تب سے لے کر آج تک پاکستان نے بنگلہ دیش کے خلاف صرف دو ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے ہیں۔ ایک بار ایشیا کپ 2018ء میں، جہاں پھر شکست کھائی اور آخری بار ورلڈ کپ 2019ء میں جہاں لارڈز کے میدان پر پاکستان کو کامیابی ملی تھی۔