ویسٹ انڈیز کا دورۂ پاکستان، تاریخ کی نظر سے

0 858

کرکٹ کے نوجوان شائقین کو ہر گز یہ اندازہ نہیں ہوگا کہ ویسٹ انڈیز ماضی میں کتنی بڑی طاقت تھا۔ اگر آپ اندازہ لگانا چاہتے ہیں تو اس سے لگا لیں کہ آج بھی ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے میچز پر نظر دوڑائیں تو ویسٹ انڈیز کا پلڑا بھاری ہے۔ دونوں ٹیمیں آج تک 134 میچز کھیل چکی ہیں، جن میں سے پاکستان نے 60 میں کامیابی حاصل کی ہے اور 71 میں شکست کھائی ہے۔ یہی نہیں بلکہ پاکستان اپنے ہوم گراؤنڈ پر بھی ویسٹ انڈیز کو پچھاڑنے میں ناکام رہا ہے۔ پاکستان اپنی سرزمین پر ویسٹ انڈیز کے خلاف 26 میں سے صرف 11 ون ڈے انٹرنیشنلز جیت پایا ہے اور 14 مقابلوں میں شکست کھائی ہے۔

ون ڈے انٹرنیشنل میں پاکستان کی ویسٹ انڈیز کے خلاف کارکردگی

میچزجیتےہارےبرابر
مجموعی کارکردگی13460713
ہوم گراؤنڈ پر2611141

ویسٹ انڈیز نے کوئی ون ڈے سیریز کھیلنے کے لیے آخری بار 2006ء میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ یہ سیریز پاکستان نے ‏3-1 سے جیتی تھی۔ اس سے پہلے پاکستان چھ کوششوں میں ویسٹ انڈیز کو صرف ایک بار سیریز ہرا پایا تھا، جی ہاں! اپنی سرزمین پر۔ ہم تو پاکستان کے دورۂ ویسٹ انڈیز کی بات ہی نہیں کر رہے کہ جہاں پاکستان ایک بار ‏5-0 سے کلین سویپ تک بھگت چکا ہے۔

ویسٹ انڈیز کے دورۂ پاکستان اور باہمی ون ڈے سیریز کی تاریخ

سالمیچزجیتےہارےبرابرفاتح
‏1980ء3030 ویسٹ انڈیز
‏1985ء5230 ویسٹ انڈیز
‏1986ء 5140 ویسٹ انڈیز
‏1990ء 3300 پاکستان
‏1991ء 3021 ویسٹ انڈیز
‏2006ء4310 پاکستان

اب جبکہ ویسٹ انڈیز تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز کی سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان کے دورے پر آنے والا ہے، تو یہی وقت ہے تاریخ پر نظر ڈالنے کا کہ ویسٹ انڈیز نے آج تک پاکستان کے کتنے دورے کیے اور ان کے نتائج کیا رہے؟ لیکن سب سے پہلے تو یہ دلچسپ پہلو دیکھ لیں کہ ویسٹ انڈیز نے جب بھی پاکستان کا دورہ کیا، مہینہ نومبر اور دسمبر کا ہی ہوتا تھا۔ لیکن اس مرتبہ "میزبانی" جون کا مہینہ کرے گا اور وہ بھی ملتان میں، یعنی اللہ ہی خیر کرے۔

ویسے تو ویسٹ انڈیز نے 1959ء اور 1975ء میں پاکستان کے دورے کیے تھے، لیکن ان میں ون ڈے سیریز شامل نہیں تھی۔ پاکستان نے پہلی بار کسی ون ڈے سیریز میں ویسٹ انڈیز کی میزبانی 1980ء میں کی تھی۔ کراچی، سیالکوٹ اور لاہور میں تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے گئے اور پاکستان نے تینوں میں شکست کھائی۔

پاکستان میں پہلی پاک-ویسٹ انڈیز ون ڈے سیریز 1985ء

پھر 1985ء میں ویسٹ انڈیز نے پانچ ون ڈے میچز کھیلنے کے لیے پاکستان کا دورہ کیا۔ گوجرانوالہ میں کھیلے گئے پہلے مقابلے میں ویسٹ انڈیز نے 8 وکٹوں کی شاندار کامیابی حاصل کی۔ لیکن پاکستان نے بھرپور جوابی وار کیا۔ چار میچز کے بعد سیریز ‏2-2 سے برابر تھی۔ البتہ کراچی میں ہونے والا آخری مقابلہ ویسٹ انڈیز نے با آسانی 8 وکٹوں سے جیت لیا اور یوں ایک مرتبہ پھر سیریز 'کالی آندھی' کے نام رہی۔

کلین سویپ سے بال بال بچے 1986ء

اگلے ہی سال نومبر کے ہی مہینے میں ویسٹ انڈیز ایک مرتبہ پھر پاکستان میں تھا۔ اس بار ٹیسٹ میچز کے ساتھ پانچ ون ڈے انٹرنیشنل بھی شامل تھے، جن میں پاکستان کا حال مزید بُرا رہا۔ نہ صرف پشاور، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں ہونے والے ابتدائی تینوں میچز ہارا بلک ملتان میں کھیلا گیا چوتھا میچ ہار کر کلین سویپ کے دہانے پر پہنچ گیا۔ یہ تو خوش قسمتی سے حیدر آباد میں آخری ون ڈے 11 رنز جیت لیا، ورنہ ‏5-0 کی ہزیمت منہ کھولے کھڑی تھی۔

احوال ورلڈ کپ 1987ء کے دو زبردست مقابلوں کا

‏1987ء ورلڈ کپ کا سال تھا، جس میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کا دو مرتبہ آمنا سامنا ہوا۔ گو کہ یہ باہمی سیریز نہیں کہلائے گی لیکن پھر بھی قارئین کی دلچسپی کے لیے ان میچز کا ذکر کر دیتے ہیں کیونکہ یہ ایسے میچز تھے جو ایک پوری نسل کے اعصاب پر حاوی رہے۔

ورلڈ کپ 1987ء میں پاک-ویسٹ انڈیز پہلا ٹکراؤ لاہور میں ہوا تھا، اور اگر اسے آج تک کا یادگار ترین پاک-ویسٹ انڈیز میچ قرار دیا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔

قذافی اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کے 216 رنز کے جواب میں پاکستان 110 رنز پر پانچ وکٹوں سے محروم ہو چکا تھا۔ یہاں سلیم یوسف کی 56 رنز کی شاندار اننگز نے پاکستان کی امیدوں کو زندہ رکھا۔ جب آخری اوور آیا تو پاکستان کو 14 رنز درکار تھے اور سلیم یوسف اور توصیف احمد کے آؤٹ ہو جانے کے بعد صرف ایک وکٹ باقی بچی تھی۔ تب عبد القادر نے اپنی زندگی کی سب سے قیمتی اور یادگار اننگز کھیلی۔ انہوں نے صرف چھ گیندوں پر 16 رنز بنائے، جس میں کورٹنی واش کو چوتھی گیند پر لگایا گیا ایک چھکا بھی شامل تھا۔

البتہ ویسٹ انڈیز نے اس شکست کا بدلہ اگلے ہی مقابلے میں لے لیا۔ کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ہونے والے مقابلے میں اس نے پاکستان کو 28 رنز سے ہرایا۔ پاکستان 259 رنز کے ہدف کا تعاقب نہ کر پایا، باوجود اس کے کہ 128 رنز تک اس کی صرف ایک ہی وکٹ گری تھی۔ ٹاپ 4 بلے بازوں کے سوا کوئی بیٹسمین ڈبل فگرز تک میں داخل نہیں ہو سکا۔

یوں پاکستان ویسٹ انڈیز کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر ابتدائی 15 میں سے صرف 4 میچز جیت پایا۔ اس سے اندازہ لگائیے کہ 80ء کی دہائی ویسٹ انڈیز کتنی مضبوط ٹیم تھا۔ اُس زمانے میں جب پاکستان بھی بڑی طاقت شمار ہوتا تھا، عمران خان کپتان تھے، جاوید میانداد، سلیم ملک، وسیم اکرم سمیت کئی بڑے نام ٹیم میں شامل تھے لیکن ویسٹ انڈیز کے سامنے کسی کی دال نہیں گلتی تھی۔

عروج کو زوال

بہرحال، ہر عروج کو زوال ہے۔ ویوین رچرڈز کے بعد ویسٹ انڈیز کا زوال بھی شروع ہو گیا۔ اُن کے بغیر ویسٹ انڈین ٹیم نے 1990ء میں پاکستان کا دورہ کیا اور تین ون ڈے میچز پر مشتمل سیریز میں ‏3-0 سے شکست کھائی۔ یہ ویسٹ انڈیز کے خلاف کسی بھی سیریز میں پاکستان کی پہلی کامیابی تھی۔

ویسے اس کا بدلہ بھی ویسٹ انڈیز نے 1991ء میں لے لیا تھا، جب 'کالی آندھی' نے رچی رچرڈسن کی قیادت میں پاکستان کا رخ کیا تھا۔ یہ بڑی دلچسپ سیریز تھی۔ ویسٹ انڈیز نے دو میچز جیتے اور ایک مقابلہ ٹائی ہوا۔ جس میں آخری گیند پر پاکستان کو دو رنز درکار تھے لیکن مشتاق احمد دوسرا رن دوڑتے ہوئے رن آؤٹ ہو گئے اور مقابلہ برابر ہو گیا۔

یوں ویسٹ انڈیز نے صرف گیارہ سال کے عرصے میں ورلڈ کپ سمیت چھ مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا، لیکن پھر ایسا غائب ہوا کہ اگلے 15 سال تک ایک بار بھی ون ڈے سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان نہیں آیا۔

پاکستان میں ویسٹ انڈیز کی آخری ون ڈے سیریز 2006ء

ملتان میں کھیلے گئے پاک-ویسٹ انڈیز مقابلے میں 'ملتان کے سلطان' انضمام الحق کا ایک دیوہیکل پوسٹر

‏2006ء میں ایک طویل عرصے بعد ویسٹ انڈیز نے پہلا دورۂ پاکستان کیا۔ تب تک ماضی کی عظمت صرف داستانوں تک محدود رہ گئی تھی۔ چار ون ڈے میچز کی سیریز میں پاکستان ‏3-1 سے جیتا اور پھر مزید 16 سال کے لیے پاکستان سے رخصت ہو گیا، ون ڈے انٹرنیشنلز کے لیے۔ 1997ء میں ایک کواڈرینگولر سیریز اور تین ٹیسٹ میچز کھیلنے کے لیے پاکستان کا ضرور رخ کیا لیکن ون ڈے سیریز کوئی نہیں کھیلی۔

یعنی ویسٹ انڈیز کا یہ دورہ لمبے عرصے کے بعد پاکستان میں پہلی باہمی ون ڈے سیریز ہوگی۔ دراصل یہ ایک مکمل دورے کا تسلسل ہے۔ ویسٹ انڈیز دسمبر 2021ء میں تین ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے کے لیے پاکستان آیا تھا اور یہ اسی سیریز کا ون ڈے مرحلہ ہے۔ ٹیم ویسٹ انڈیز اس سے پہلے 2018ء میں بھی تین ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے کے لیے پاکستان آئی تھی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اِس ون ڈے سیریز میں ویسٹ انڈیز کیا کمالات دکھاتا ہے؟ دونوں کی حالیہ کارکردگی دیکھیں تو فی الحال یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس "hot weather" میں پاکستان ہی hot favourite ہے۔