وسیم اکرم کی چند شاہکار گیندیں

0 1,005

آج 3 جون ہے، پاکستان بلکہ دنیا کی تاریخ کے عظیم ترین لیفٹ ہینڈڈ فاسٹ باؤلر وسیم اکرم کی سالگرہ کا دن۔ وہی وسیم جن کی سوئنگ ہوتی ہوئی گیندوں خاص طور پر یارکرز کا آج بھی کوئی ثانی نہیں۔

وسیم اکرم نے 1966ء میں آج ہی کے دن لاہور میں جنم لیا۔ انہوں نے اپنے انٹرنیشنل کرکٹ کیریئر کا آغاز 1985ء میں دورۂ نیوزی لینڈ سے کیا۔ اس دورے پر لانس کیرنز کو ماری گئی خطرناک باؤنسر ان کی آمد کا حقیقی اعلان تھی۔ 18 سالہ کیریئر میں وسیم اکرم نے ہزاروں گیندیں پھینکیں، سینکڑوں وکٹیں حاصل کیں، لیکن چند گیندیں ایسی تھیں جو بھلائے نہیں بھولتیں۔ آئیے وسیم اکرم کی سالگرہ کے دن اُن کی چند خطرناک ترین گیندوں کی یادیں تازہ کرتے ہیں۔

وسیم اکرم کے بین الاقوامی کیریئر پر ایک نظر

فارمیٹمیچزوکٹیںبہترین باؤلنگاوسط10و
ٹیسٹ10441411-11023.62255
ون ڈے3565025-1523.5260

ورلڈ کپ 1992ء فائنل، وہ 'دو' گیندیں

اگر وسیم اکرم کے کیریئر کے نقطہ عروج کا ذکر کیا جائے تو وہ ورلڈ کپ 1992ء کا فائنل ہوگا۔ انگلینڈ 250 رنز کے تعاقب میں صرف 69 رنز پر چار وکٹوں سے محروم ہو چکا تھا۔ پاکستان میچ پر چھایا ہوا تھا جب ایلن لیمب اور نیل فیئربرادر نے معاملات کو سنبھالا دیا۔ وہ 35 ویں اوور میں اسکور کو 141 رنز تک لے آئے۔ وسیم اکرم باؤلنگ کروا رہے تھے اور انگلینڈ کو 92 گیندوں پر 109 مزید رنز کی ضرورت تھی۔ یہاں وسیم نے دو جادوئی گیندیں پھینکیں، پہلی وہ جس نے ایلن لیمب کو حیرت زدہ کر دیا۔ لیکن اگلا وار اس سے بھی کاری تھا، ایک ایسی گیند جو آج بھی ذہنوں پر نقش ہے۔ نہ وسیم اکرم بھول سکتے ہیں، نہ کرس لوئس، نہ دونوں ٹیموں کا کوئی کھلاڑی اور نہ وہ شائقین جنہوں نے یہ میچ دیکھا تھا۔ ان دو گیندوں نے طے کر دیا کہ دنیائے کرکٹ کا حکمران اب پاکستان ہوگا۔


اسٹیو واہ، ایڈیلیڈ ٹیسٹ 1990ء

ورلڈ کپ 1992ء تک وسیم اکرم کوئی نو آموز یا نا تجربہ کار باؤلر نہیں تھے بلکہ دنیا میں اچھے خاصے معروف تھے۔ ان کی گیندیں پہلے بھی بلے بازوں کو اندھا کر چکی تھیں، بلکہ ایک گیند تو ایسی تھی جس نے اسٹیو واہ جیسے کھلاڑی کو بھی دھوکا دے دیا۔ یہ 1990ء کے دورۂ آسٹریلیا کا ایڈیلیڈ ٹیسٹ تھا جہاں پاکستان کے 257 رنز کے جواب میں آسٹریلیا 188 رنز بنا چکا تھا۔ اسٹیو اہ 17 رنز پر کھیل رہے تھے کہ وسیم اکرم کی ایک تیز اندر کو آتی ہوئی یارکر نے انہیں پھنسا لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ گیند اسٹیو واہ کو نظر ہی نہیں آئی اور وہ اس طرح ایل بی ڈبلیو ہوئے کہ گیند چھوڑ رہے تھے اور ان کی آنکھیں بند تھیں۔

یہ وسیم اکرم کے کیریئر کے یادگار ترین میچز میں سے ایک تھا۔ انہوں نے پہلی اننگز میں بیٹنگ کرتے ہوئے اُس وقت 52 رنز بنائے جب پاکستان 187 رنز پر چھ وکٹوں سے محروم ہو چکا تھا۔ پھر باؤلنگ میں 100 رنز دے کر پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور پھر دوسری اننگز میں 123 رنز کی شاندار سنچری بھی اسکور کی۔ آخر میں جب آسٹریلیا 304 رنز کے تعاقب میں تھا تو پھر ایک وکٹ وسیم اکرم کو ملی۔ آسٹریلیا بمشکل میچ کو ڈرا کر پایا۔ بہرحال، 175 رنز اور 6 وکٹوں کی بدولت وسیم اکرم کو بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ دیا گیا۔


کیتھ آرتھرٹن، برج ٹاؤن ٹیسٹ 1993ء

‏1993ء میں پاکستان کا دورۂ ویسٹ انڈیز نتائج کے لحاظ سے تو یادگار نہیں لیکن ایک وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وسیم اکرم کی اُس گیند کی بدولت جس نے کیتھ آرتھرٹن کی دو وکٹیں دو مختلف سمتوں میں اُڑا دی تھیں۔ یہ اپریل 1993ء کے آخری ایام تھے جن میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز برج ٹاؤن، بارباڈوس میں مقابل تھے۔ ویسٹ انڈیز پہلی اننگز میں میچ پر چھایا ہوا تھا، 426 رنز بن چکے تھے جب وسیم اکرم کی ایک ناقابلِ یقین گیند نے آرتھرٹن کی 56 رنز کی اننگز کا خاتمہ کیا۔ اندر کو آتی ہوئی اس گیند نے آف اور مڈل اسٹمپ کو جڑ سے نکال دیا، ایک اسٹمپ مشرق اور دوسری مغرب میں جا گری۔


رابرٹ کرافٹ، اوول ٹیسٹ 1996ء

وسیم اکرم کی ایک گیند ایسی تھی، جسے 'جادوئی گیند' کہا جاتا ہے اور حیرت انگیز طور پر وسیم اکرم کو اس گیند پر وکٹ نہیں ملی۔ یہ پاک-انگلینڈ سیریز کا تیسرا ٹیسٹ تھا جو اوول کے تاریخی میدان پر کھیلا جا رہا تھا۔ پہلی اننگز میں 195 رنز کے خسارے کے بعد انگلینڈ کا دوسرا اننگز میں بُرا حال تھا۔ 233 رنز پر اس کے 7 کھلاڑی آؤٹ تھے جب وسیم اکرم نے وہ گیند پھینکی، جو آج بھی مشہور ہے۔ ایک اندر آتی ہوئی، بلکہ اندر آتے آتے باہر نکلتی ہوئی اس گیند نے رابرٹ کرافٹ کو عین مڈل اسٹمپ کے سامنے جا لیا۔ لیکن امپائر مروین کچن گردن ہلاتے ہوئے 'it’s not out' کی صدا لگاتے رہے۔ وسیم اکرم حیران کہ آخر یہ کیسے آؤٹ نہیں دیا گیا؟ جب ری پلے دکھایا گیا تو کمنٹیٹرز بھی ششدر رہ گئے۔ بہرحال، ایسی حرکتیں بھی انگلینڈ کو بچا نہیں پائیں۔ بعد ازاں، پاکستان یہ میچ 9 وکٹوں سے اور سیریز ‏2-0 سے جیت گیا۔


راہول ڈریوڈ، چنئی ٹیسٹ 1999ء

جب جادوئی گیند کا ذکر آیا ہے تو 1999ء کے چنئی ٹیسٹ کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے؟ ایسا ٹیسٹ جو ایک نہیں، کئی وجوہات کی بنا پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اس مقابلے میں ہی وسیم اکرم نے راہول ڈریوڈ کو وہ گیند پھینکی تھی، جسے آج بھی کئی لوگ 'صدی کی بہترین گیند' مانتے ہیں۔ بھارت 271 رنز کے تعاقب میں تھا اور صرف 6 رنز پر اس کے دونوں اوپنر وقار یونس کے ہتھے چڑھ چکے تھے۔ یہاں پر راہول ڈریوڈ نے اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی لیکن جب اسکور 50 رنز پر پہنچا تو وہ وسیم اکرم کے ہاتھوں کلین بولڈ ہوئے۔ ایک گیند جو اچھی لینتھ پر ڈریوڈ کے لیگ اسٹمپ پر آئی، اور اچانک ایسی باہر ہوئی کہ آف اسٹمپ کو چھوتی ہوئی نکل گئی، ڈریوڈ نے شاید زندگی میں کبھی ایسی گیند نہیں دیکھی ہوگی۔ ہم نے بھی نہیں دیکھی۔


ڈیرن لیمن، کارلٹن اینڈ یونائیٹڈ سیریز ‏1996-97ء

ڈیرن لیمن اور وسیم اکرم کا بڑا 'یارانہ' تھا۔ دونوں ایک نہیں، کئی بار الجھے اور آج بھی ایک دوسرے کو "بہت اچھے" الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ اس کی وجہ ہے ان کا میدان میں زبردست ٹکراؤ۔ یہ جنوری 1997ء تھا، جب کارلٹن اینڈ یونائیٹڈ سیریز کے ایک مقابلے میں وسیم اکرم نے لیمن کو منہ کے بل گرایا۔ یہ ایک سوئنگ ہوتی ہوئی یارکر تھی جسے کھیلنے کی کوشش میں لیمن بُری طرح گرے اور امپائر نے انہیں ایل بی ڈبلیو بھی دے دیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ لیمن آج بھی کہتے ہیں کہ انہوں نے جن باؤلرز کا سامنا کیا، ان میں بہترین وسیم اکرم تھے۔