جنوبی افریقہ نے انگلینڈ اور 'بیزبال' کے غبارے سے ہوا نکال دی

0 239

زیادہ دن نہیں گزرے، بس یہی ایک ڈیڑھ مہینے پہلے بھارت کے خلاف ایجبسٹن میں انگلینڈ نے ناقابلِ یقین کامیابی حاصل کی تھی۔ اس فتح کے بعد ہر طرف 'بیز بال' کی باتیں تھیں۔ ایک ایسی حکمتِ عملی جس کے مطابق جارحانہ کھیل ہی بہترین دفاع ہے۔ جب جنوبی افریقہ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے آیا تو سب کو انتظار تھا کہ یہ حکمت عملی جنوبی افریقہ کی زبردست باؤلنگ لائن کے خلاف کس طرح کارآمد ہوگی؟ امید تھی کہ لارڈز میں زبردست مقابلہ ہوگا، لیکن یہ کیا؟ جنوبی افریقہ نے ساڑھے تین دن میں ہی نہ صرف انگلینڈ، بلکہ اس کی 'بیز بال' حکمتِ عملی، کے غبارے سے بھی ہوا نکال دی ہے۔

جنوبی افریقہ نے لارڈز ٹیسٹ انتہائی یکطرفہ مقابلے کے بعد اننگز اور 12 رنز کے بھاری مارجن سے جیت لیا ہے ۔ انگلینڈ پہلی اننگز میں 161 رنز کا خسارہ سہنے کے بعد وہ کارکردگی نہیں دہرا پایا، جو بھارت کے خلاف دکھائی تھی اور محض 149 رنز پر ڈھیر ہو کر اننگز سے میچ ہار گیا۔

جنوبی افریقہ کا دورۂ انگلینڈ ‏2022ء - پہلا ٹیسٹ

‏17 تا 19 اگست 2022ء

لارڈز، لندن، برطانیہ

جنوبی افریقہ اننگز اور 12 رنز سے جیت گیا

انگلینڈ (پہلی اننگز)165
اولی پوپ73102کاگیسو رباڈا5-5219
بین اسٹوکس2030انریک نورتیے3-6313
جنوبی افریقہ (پہلی اننگز) 326
سیرل اروی73146بین اسٹوکس3-7118
مارکو یانسن4879اسٹورٹ براڈ3-7119.1
انگلینڈ (دوسری اننگز)149
اسٹورٹ براڈ3529انریک نورتیے3-477
ایلکس لیس3583کاگیسو رباڈا2-278

میچ میں جنوبی افریقہ کی تباہ کُن باؤلنگ کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ انگلینڈ کی بیٹنگ لائن دو اننگز میں بھی اتنے اوورز نہیں کھیل پائی، جتنے جنوبی افریقہ نے اپنی واحد اننگز میں کھیل لیے۔ پھر 10 وکٹوں پر اتنے رنز بھی بنائے، جتنے انگلش بیٹسمین 20 وکٹیں دینے کے باوجود نہ اسکور کر پائے۔

لارڈز میں ٹاس جنوبی افریقہ نے جیتا اور پہلے خود باؤلنگ کرنے کا فیصلہ کیا، جو کمال فیصلہ ثابت ہوا۔ پہلے ہی سیشن میں 100 رنز پر انگلینڈ کی پانچ وکٹیں گرا دیں۔ اس کے بعد بارش کی وجہ سے دن میں صرف چھ مزید اوورز کا کھیل ہو پایا۔

اگلے دن اولی پوپ کی 73 رنز کی اننگز جلد اپنے اختتام کو پہنچی۔ ان کے سوا کوئی بیٹسمین جنوبی افریقی باؤلرز کا مقابلہ نہیں کر پایا۔ بلکہ کسی کی اننگز 20 رنز سے آگے نہیں گئی، یہاں تک کہ انگلینڈ صرف 165 رنز پر ڈھیر ہو گیا۔

پہلی اننگز میں کاگیسو رباڈا کی باؤلنگ دیکھنے کے قابل تھی جنہوں نے ابتدا ہی میں انگلینڈ کو کرارے دھچکے پہنچائے۔ انہوں نے اننگز میں 52 رنز دے کر پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ تین وکٹیں انریک نورتیے نے بھی لیں، جن میں وہ گیند قابلِ دید تھی جس پر انہوں نے جونی بیئرسٹو کی مڈل اسٹمپ اڑا دی تھی۔

دوسرے دن کا زیادہ تر حصہ جنوبی افریقی بلے بازوں کا راج رہا۔ ثابت کیا کہ وکٹ میں کچھ نہیں ہے، بلکہ اُن کی باؤلنگ ہی اتنی عمدہ تھی کہ میزبان انگلینڈ کو اتنے کم رنز پر آؤٹ کیا۔ اوپنرز کپتان ڈین ایلگر اور سیرل اروی نے پہلی ہی وکٹ پر 85 رنز جوڑے۔ اگر ایلگر یوں بد قسمتی سے آؤٹ نہ ہوتے تو یہ شراکت داری کہیں آگے جاتی۔

بہرحال، دوسرے اینڈ سے اروی نے 73 رنز اسکور کیے۔ آنے والے بلے بازوں میں مارکو یانسن اور کیشَو مہاراج نے نمایاں کارکردگی دکھائی۔ یانسن نے 48 جبکہ مہاراج نے 49 گیندوں پر 41 رنز بنائے۔ آخر میں انریک نورتیے کے 28 رنز اسکور کو 300 کی نفسیاتی حد سے بھی آگے لے گئے۔

پہلی اننگز میں 161 رنز کا بھاری خسارہ سہنے کے بعد اب باری تھی 'بیز بال' کی۔ وہ حکمت عملی جس نے بھارت کے بخیے ادھیڑ دیے تھے۔ لیکن یہ بھارتی باؤلنگ لائن اپ نہیں تھی بلکہ جنوبی افریقہ تھا کہ جس نے تہرے ہندسے میں پہنچنے سے پہلے پہلے انگلینڈ کی چھ وکٹیں گرا دیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس اننگز میں تباہی کا آغاز تیز باؤلرز نے نہیں، بلکہ کیشَو مہاراج نے کیا۔ انہوں نے اپنے پہلے ہی اوور میں زیک کرالی کیشَو کو ایل بی ڈبلیو۔ پھر امپائر کے فیصلے کے خلاف ریویو لیتے ہوئے اولی پوپ کی وکٹ بھی حاصل کر لی۔

یہاں جو کسر رہ گئی تو وہ جو روٹ کے آؤٹ ہونے سے پوری ہو گئی۔ وہ لنگی این گیڈی کی ایک خوبصورت گیند پر سلپ میں کیچ تھما کر چل دیے۔ 57 رنز پر انگلینڈ کی تین وکٹیں گر چکی تھیں۔

یہاں انریک نورتیے آئے اور چھا گئے۔ انہوں نے ایلکس لیس، جونی بیئرسٹو اور بین فوکس، تینوں کو وکٹوں کے پیچھے کیچ آؤٹ کروایا۔ لیس کی 35 رنز کی اننگز تمام ہوئی تو آدھی انگلش ٹیم صرف 86 رنز پر میدان سے واپس آ چکی تھی۔

اب شکست سامنے لکھی تھی، جسے دیکھ کر انگلینڈ نے کچھ ہاتھ پیر چلائے۔ اسٹورٹ براڈ نے 29 گیندوں پر 35 رنز بنائے اور کپتان بین اسٹوکس نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ دونوں نے بھر بھر کے شاٹ لگائے تاکہ اننگز کی شکست سے تو بچا جا سکے۔ کئی بار قسمت نے ساتھ دیا، بال بال بچے لیکن آخر کتنا بچ سکتے تھے؟ بالآخر براڈ کی اننگز تمام ہوئی اور کچھ ہی دیر میں بین اسٹوکس بھی منہ لٹکائے واپس آ گئے جن کا ایک شاندار کیچ کیشَو مہاراج نے باؤنڈری لائن پر پکڑا۔

انگلینڈ کی دوسری اننگز بالآخر 149 رنز پر تمام ہو گئی اور یوں اسے اننگز اور 12 رنز کی شکست ہوئی۔ سیریز سے پہلے کس نے سوچا تھا کہ انگلینڈ اننگز سے ہارے گا؟ یہ تقریباً 19 سال میں پہلا موقع ہے کہ انگلینڈ کو لارڈز میں کسی میچ میں اننگز سے شکست ہوئی ہو۔

انریک نورتیے نے دوسری اننگز میں تین وکٹیں لیں جبکہ رباڈا، مہاراج اور یانسن کو دو، دو وکٹیں ملیں۔ رباڈا کو کُل سات وکٹیں لینے پر میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے اسی میچ میں اپنی 250 ٹیسٹ وکٹیں بھی مکمل کیں۔

تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کا دوسرا مقابلہ 25 اگست سے اولڈ ٹریفرڈ، مانچسٹر میں کھیلا جائے گا۔ دیکھتے ہیں وہاں بھی 'بیز بال' چلتا ہے یا انگلینڈ نے لارڈز کے تجربے کے بعد توبہ کر لی ہے؟