رمیز راجا کو بیان دینے کی ضرورت کیا تھی؟

1 1,038

پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین پہلے ٹیسٹ کو گزرے اب دو دن ہو چکے ہیں، لیکن اس سے جو ہنگامہ پیدا ہوا وہ اب بھی جاری ہے۔ اور آخر کیوں نہ ہو؟ اتنا بھیانک ڈرا تو کسی نے بھی عرصے سے نہیں دیکھا ہوگا۔ آسٹریلیا والوں نے تو آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے جبکہ پاکستان میں کل تک صرف چہ می گوئیاں ہی تھیں۔ پھر چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ رمیز راجا کا بیان آ گیا اور جو باتیں دبے دبے الفاظ میں ہو رہی تھیں، اب زبان زدِ عام ہیں۔ انہوں نے گزشتہ روز ایک وڈیو بیان جاری کیا جس کے بعد گویا آگ لگ گئی ہے بستی میں!

بیان تو آپ نے سن ہی لیا ہوگا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سی مجبوری تھی جس کی وجہ سے راجا صاحب کو یہ سب کہنا پڑا؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ایسے بیان کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔

آسٹریلیا کا ایک پرانا حربہ ہے کہ وہ صرف میدان میں نہیں کھیلتا بلکہ اُس سے باہر بھی حریف پر حاوی ہونے اور خبروں کے ذریعے مقابل پر نفسیاتی برتری حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی لیے ہمیں راولپنڈی ٹیسٹ کی پچ کو بنیاد بناتے ہوئے ایک باقاعدہ مہم نظر آئی ہے۔ مثلاً ایک آسٹریلوی اخبار نے تو اسے "صدی کی بد ترین پچ" قرار دیا۔ یعنی نہ اس نے آسٹریلیا کی باؤلنگ صلاحیت پر سوال اٹھایا اور نہ ہی پاکستان کی بیٹنگ قابلیت کو سراہا، بلکہ سارا الزام صرف اور صرف پچ پر تھوپ دیا؟

شاید اسی کو اردو میں کہتے ہیں ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا!

چلیں، پاکستانی میڈیا، صحافی اور سوشل میڈیا جغادری بچھائے گئے اِس جال میں پھنس جائیں تو سمجھ بھی آتا ہے کہ ان کا کام ہے ہر میچ کو تمام زاویوں اور پہلوؤں سے دیکھنا، لیکن خود چیئرمین صاحب آ کر وضاحتیں پیش کرنا شروع کر دیں؟ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آسٹریلیا نے پاکستان پر نفسیاتی دباؤ کے لیے جو حربہ کھیلا تھا، وہ کام کر گیا ہے۔

رمیز راجا کے بیان سے معاملہ بجائے سنورنے کے مزید بگڑ گیا ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو اپنی باؤلنگ صلاحیت پر اعتماد نہیں تھا اور وہ اپنی کنڈیشنز اور اپنے میدانوں پر بھی آسٹریلیا کے باؤلنگ اٹیک کو کہیں مضبوط سمجھتا ہے۔ اس نے جان بوجھ کر ایک ایسی وکٹ بنائی تاکہ آسٹریلیا کو حاصل مبینہ برتری ختم ہو جائے اور پاکستان شکست سے بچ جائے۔ یعنی جیت پاکستان کی حکمتِ عملی کا حصہ ہی نہیں تھی اور یہ بات بہت بُرا تاثر دے گی۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے اِس مردہ وکٹ پر اور اہم فاسٹ باؤلرز کے بغیر بھی اپنی باؤلنگ قابلیت کو ثابت کیا ہے۔ آسٹریلیا نے میچ میں جو واحد اننگز کھیلی، اس میں حریف کو آل آؤٹ کیا۔ مقابلے میں آسٹریلیا کی باؤلنگ کا حال یہ تھا کہ 728 رنز دے کر بھی وہ پاکستان کی صرف 4 وکٹیں لے سکی، ان میں سے بھی ایک رن آؤٹ تھا۔

تو پہلے ٹیسٹ کے بعد اصل میں آسٹریلیا کو پچھلے قدموں پر ہونا چاہیے تھا، بجائے اس کے کہ پاکستان وضاحتیں پیش کرتا نظر آئے اور خود کو دباؤ میں محسوس کرے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ پہلے ٹیسٹ کے مین آف دی میچ امام الحق پر اتنی تنقید ہوئی کہ انہیں یہ تک کہنا پڑا کہ پچ کیوریٹر نے وکٹ مجھ سے پوچھ کر نہیں بنائی تھی، نہ ہی وہ میرا رشتہ دار تھا۔

امام کا یہ کہنا دراصل پاکستانی کیمپ کی جھنجلاہٹ کو ظاہر کرتا ہے اور یہ بھی دِکھاتا ہے کہ آسٹریلیا اپنی چال میں کسی حد تک کامیاب ہو گیا ہے۔

بلاشبہ راولپنڈی کی پچ آئیڈیل نہیں تھی، وہ ویسی بھی نہیں تھی جیسی عام طور پر اس میدان پر ہوتی ہے۔ لیکن جو ہوا، سو ہوا۔ اب اس پچ کو ذہن پر سوار رکھنے کے بجائے آگے بڑھنے کا وقت ہے۔ چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کی ساکھ اس سے کہیں زیادہ ہے کہ وہ ایک چھوٹے سے معاملے پر آ کر وضاحتیں پیش کرتے پھریں اور نہ صرف وہ بلکہ اگلے میچ کے لیے کھلاڑی اور پچ کیوریٹر تک دباؤ میں نظر آئیں۔ اس سے پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ اگر پاکستان سیریز جیتنا چاہتا ہے تو اسے ہر پہلو پر توجہ کرنی ہوگی، مثبت ذہن کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا اور منفی پہلوؤں سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہوگی۔