اینڈریو سائمنڈز کی چند یادگار ترین اننگز

0 860

آسٹریلیا اور 1999ء کا ورلڈ کپ، اس بارے میں دیکھیں، سُنیں یا پڑھیں لگتا ہے یہ ایک دیومالائی داستان ہے۔ نیوزی لینڈ اور پاکستان کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد مسلسل کامیابیاں، یہاں تک کہ تاریخ کا عظیم ترین ون ڈے کھیلنے کے بعد فائنل تک رسائی۔ ہر مقابلے کی ایک، ایک گیند ایسی ہے کہ اس پر کئی صفحے لکھے جا سکتے ہیں، لیکن اصل داستان شروع ہوتی ہے اس ورلڈ کپ کے بعد: آسٹریلیا کا وہ عروج کہ جسے سوچ کر آج بھی حریف کانپ جاتے ہیں۔

آسٹریلیا نے ورلڈ کپ 1999ء کے بعد 2003ء اور 2007ء کے ورلڈ کپ بھی جیتے، بلکہ ایسے جیتے کہ شاید ہی کبھی کوئی اس غالب انداز میں ورلڈ چیمپیئن بنا ہو۔ شروع سے لے کر آخر تک تمام مقابلوں میں فتوحات اور کوئی دُور دُور تک ان کا مقابل نظر نہیں آتا تھا۔ آسٹریلیا کو اس مقامِ بلند تک پہنچانے میں جن کھلاڑیوں کا ہاتھ تھا، ان میں ایک نمایاں کردار اینڈریو سائمنڈز کا تھا۔ وہی سائمنڈز جو آج اچانک ایک حادثے میں چل بسے اور دنیائے کرکٹ کو افسردہ چھوڑ گئے۔

کرکٹ تاریخ میں بہت کم ایسے آل راؤنڈر آئے ہیں کہ جنہیں ہم سائمنڈز کے ہم پلّا کہہ سکتے ہیں۔ جب میچ کے اہم مراحل پر حریف بلے باز کی وکٹ حاصل کرنی ہو تو انہیں گیند تھمائی جاتی، بیٹنگ کے دوران فیصلہ کن موقع پر دھواں دار بلّے بازی کی ضرورت پڑتی تو انہیں بھیجا جاتا بلکہ اگر میدان میں کسی اہم جگہ پر بہت تگڑا فیلڈر کھڑا کرنا ہو تو بھی نظرِ انتخاب سائمنڈز پر ہی ٹھیرتی تھی۔

منفرد انداز رکھنے والے سائمنڈز نے نومبر 1998ء میں اپنے انٹرنیشنل کیریئر کا آغاز کیا، لاہور کے تاریخی قذافی اسٹیڈیم پر اور اسی پاکستان کے خلاف 2009ء میں اپنا آخری بین الاقوامی مقابلہ بھی کھیلا۔ اس تقریباً 11 سالہ کیریئر میں سائمنڈز نے کئی ایسی اننگز کھیلیں جو انہیں امر رکھیں گی۔

‏143* رنز بمقابلہ پاکستان ورلڈ کپ 2003ء

یہ ورلڈ کپ 2003ء تھا، میدان تھا جوہانسبرگ اور مدِ مقابل تھے پاکستان اور آسٹریلیا۔ پاکستان ورلڈ کپ 1999ء کے فائنل میں شکست کا زخم کھائے بیٹھا تھا اور یہ موقع تھا اس بد ترین ہار کا بدلہ لینے کا۔ جب صرف 86 رنز پر آسٹریلیا کی چار وکٹیں گریں تو لگتا تھا آسٹریلیا آج وسیم اکرم، وقار یونس اور شعیب اختر کے سامنے ٹک نہیں پائے گا۔ تب اینڈریو سائمنڈز میدان میں اترے اور وہ اننگز کھیلی جسے تاریخ کی بہترین ورلڈ کپ اننگز میں شمار کرنا چاہیے۔ صرف 125 گیندیں، 18 چوکے، 2 چھکے اور 143 رنز ناٹ آؤٹ۔ اس دھواں دار بیٹنگ کی بدولت آسٹریلیا 310 رنز بنانے میں کامیاب ہوا اور پاکستان کو 82 رنز کی کراری شکست دی۔ یہ مقابلہ اینڈریو سائمنڈز کے عروج کا نقطہ آغاز ثابت ہوا کیونکہ یہ ان کی پہلی ون ڈے سنچری تھی۔ پاکستان کے لیے یہ ایسا دھچکا تھا کہ وہ پھر سنبھل نہیں پایا اور پہلے ہی مرحلے میں ورلڈ کپ سے باہر ہو گیا۔

‏156 رنز بمقابلہ نیوزی لینڈ 2005ء

یہ آسٹریلیا کے دورۂ نیوزی لینڈ کا دوسرا ون ڈے انٹرنیشنل تھا کہ جس میں آسٹریلیا 50 رنز پر تین وکٹوں سے محروم ہو چکا تھا۔ تب آسٹریلیا نے بوتل سے اینڈریو سائمنڈز نامی جن باہر نکالا۔ انہوں نے 127 گیندوں پر 12 چوکوں اور 8 چھکوں کی مدد سے 156 رنز کی ایک طوفانی اننگز کھیلی۔ مائیکل کلارک کے ساتھ پانچویں وکٹ پر 220 رنز کی شراکت داری کی اور نیوزی لینڈ کو دیا 323 رنز کا ہدف۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ میچ سنسنی خیز مرحلے تک پہنچا اور آسٹریلیا صرف 2 رنز سے جیتا۔ مردِ میدان کون کہلایا؟ جی ہاں! اینڈریو سائمنڈز۔

‏156 رنز بمقابلہ انگلینڈ 2006ء

یہ انگلینڈ کے دورۂ آسٹریلیا کا چوتھا ٹیسٹ تھا، میلبرن کا روایتی باکسنگ ڈے ٹیسٹ۔ انگلینڈ پہلی اننگز میں صرف 159 رنز پر آل آؤٹ ہو گیا تھا۔ آسٹریلیا کے حوصلے بلند تھے لیکن جیسے ہی جوابی اننگز میں صرف 84 رنز پر اپنی پانچ وکٹیں گر گئیں، سارا جوش جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ یہاں اینڈریو سائمنڈز آئے اور میتھیو ہیڈن کے ساتھ مل کر وہ کارنامہ انجام دیا، جو عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔

اس جوڑی نے چھٹی وکٹ پر 279 رنز کی رفاقت قائم کی، جس میں سائمنڈز کا حصہ 220 گیندوں پر 156 رنز کا تھا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ وہ صرف محدود اوورز کی کرکٹ کے کھلاڑی نہیں بلکہ ٹیسٹ میں بھی اتنے ہی کارآمد ہیں۔ انگلینڈ سے یہ وار برداشت نہیں ہوا اور وہ دوسری اننگز میں صرف 161 رنز پر آؤٹ ہو کر میچ اننگز اور 99 رنز سے ہار گیا۔

‏70* اور 79 بمقابلہ ویسٹ انڈیز 2008ء

یہ 2008ء میں آسٹریلیا کے دورۂ ویسٹ انڈیز کا پہلا ٹیسٹ تھا۔ کنگسٹن، جمیکا میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور 5 وکٹوں پر ہی 326 رنز بنا لیے۔ یہاں 'فنشر' کا کام کی ااینڈریو سائمنڈز نے اور 115 گیندوں پر 70 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل کر آسٹریلیا کو 431 رنز تک پہنچا دیا۔ لیکن ان کی اصل ضرورت تب پڑی جب دوسری اننگز میں آسٹریلیا صرف 70 رنز پر چھ وکٹیں گنوا چکا تھا۔ اب ان سے میچ بچاؤ اننگز درکار تھی اور سائمنڈز نے ایسا کر دکھایا۔ انہوں نے دوسری اننگز میں بھی 79 رنز بنا ڈالے۔ ایک ایسے وقت میں جب کوئی دوسرا بیٹسمین 27 رنز سے آگے نہیں بڑھ پایا بلکہ آسٹریلیا کے ٹاپ 5 بلے بازوں کی اننگز تو دہرے ہندسے میں بھی داخل نہیں ہو پائی تھی۔ آسٹریلیا دوسری اننگز میں صرف 167 رنز بنا سکا لیکن پہلی اننگز کی برتری کام آئی اور ویسٹ انڈیز کو 287 رنز کا ہدف ملا، جو 191 رنز تک پہنچتے پہنچتے دم توڑ گیا۔ یوں دونوں اننگز میں سائمنڈز کی باریاں کام آئیں اور آسٹریلیا 95 رنز سے جیت گیا۔

‏162* + 61 اور 3/51 بمقابلہ بھارت 2008ء

‏2008ء میں بھارت کا دورۂ آسٹریلیا تاریخ کے ہنگامہ خیز ترین دوروں میں سے ایک ہوگا، بلکہ اس میں جو خاص مقام سڈنی ٹیسٹ کا ہے، وہ بہت کم مقابلوں کو حاصل ہوگا۔ اس بدنامِ زمانہ ٹیسٹ میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور 134 رنز پر چھ وکٹیں گنوانے کے بعد پہلے بلے بازی پر افسوس کر رہا ہوگا۔

لیکن یہاں اینڈریو سائمنڈز آئے اور اپنی زندگی کی یادگار ترین ٹیسٹ اننگز کھیلی۔ انہوں نے 226 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 162 رنز بنائے اور اس دوران بریڈ ہوگ کے ساتھ 173، بریٹ لی کے ساتھ 114 اور آخری دو وکٹوں پر مزید 42 رنز کا اضافہ کر کے آسٹریلیا کو 463 رنز تک پہنچا دیا۔ کہاں 134 اور کہاں 463؟

خیر، بھارت نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا اور پہلی اننگز میں 532 رنز بنا کر آسٹریلیا پر برتری حاصل کر لی۔ دوسری اننگز میں سائمنڈز نے مائیکل ہسی کے ساتھ مل کر پانچویں وکٹ پر 128 رنز بنائے اور میچ بھارت کی پہنچ سے کہیں دُور لے گئے۔ سائمنڈز نے 100 گیندوں پر 61 رنز بنائے جبکہ مائیکل ہسی 145 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔ بھارت کو 333 رنز کا ہدف ملا اور وہ صرف 210 رنز پر آل آؤٹ ہو گیا۔

اس میں بھی سائمنڈز کا نمایاں کردار تھا کہ جنہوں نے راہل ڈریوڈ، یووراج سنگھ اور مہندر سنگھ دھونی کی قیمتی وکٹیں حاصل کیں اور میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا۔ یعنی میچ میں 162* اور 61 رنز کی اننگز اور تین وکٹیں بھی! ایسی آل راؤنڈ پرفارمنس اب کہاں دیکھنے کو ملتی ہے؟