چھ سال میں پہلی بار، کوہلی ٹاپ 10 سے باہر

0 560

پے در پے ناکامیوں نے بھارت کے ویراٹ کوہلی کو تقریباً چھ سال بعد دنیا کے ٹاپ 10 بلے بازوں کی فہرست سے باہر کر دیا ہے۔

انگلینڈ اور بھارت کے درمیان پٹودی ٹرافی کے آخری ٹیسٹ کے بعد جاری ہونے والی رینکنگ کے مطابق کوہلی تین درجے تنزلی کے ساتھ 13 ویں نمبر پر چلے گئے ہیں۔ یہ نومبر 2016ء کے بعد پہلا موقع ہے کہ کوہلی دنیا کے 10 بہترین ٹیسٹ بلے بازوں کی فہرست کا حصہ نہیں۔

ایجبسٹن، برمنگھم میں کھیلے گئے اس ٹیسٹ میں کوہلی دونوں اننگز میں کُل ملا کر 31 رنز ہی بنا پائے۔ لیکن یہ اُن کی مایوس کن کارکردگی کی صرف ایک جھلک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ گزشتہ تین سال سے ایک سنچری تک نہیں بنا پائے۔ 2022ء میں انہوں نے 7 اننگز میں 31.42 کے اوسط سے محض 220 رنز بنائے ہیں۔ 2020ء اور 2021ء میں بھی کارکردگی کوہلی کے شایانِ شان نہیں تھی، جس کا نتیجہ بہرحال یہی نکلنا تھا۔

ویراٹ کوہلی، سال بہ سال

سالمیچزرنزبہترین اننگزاوسط10050
‏2011ء52026322.4402
‏2012ء968911649.2133
‏2013ء861611956.0023
‏2014ء1084716944.5742
‏2015ء964014742.6622
‏2016ء12121523575.9342
‏2017ء10105924375.6451
‏2018ء13132215355.0855
‏2019ء8612254*68.0022
‏2020ء31167419.3301
‏2021ء115367228.2104
‏2022ء42207931.4201

دوسری جانب پے در پے سنچریاں جونی بیئرسٹو کو ٹاپ 10 بلے بازوں کی فہرست میں واپس لے آئی ہیں۔ تین ٹیسٹ میچز میں چار سنچریاں بنانے والے بیئرسٹو نے برمنگھم میں 114 رنز کی فاتحانہ اننگز کھیلی۔ جس کی بدولت وہ 11 درجے ترقی کے ساتھ ٹیسٹ بلے بازوں میں 10 واں مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

32 سالہ بیئرسٹو اس وقت اپنے کیریئر کی بہترین فارم میں ہیں۔ بھارت کے خلاف آخری ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریاں بنانے سے پہلے وہ نیوزی لینڈ کے خلاف بھی آخری دونوں ٹیسٹ میچز میں تہرے ہندسے کی اننگز کھیل چکے تھے۔ اِس سیریز سے پہلے وہ 541 پوائنٹس کے ساتھ 47 ویں نمبر پر تھے، لیکن چار میچز میں چار سنچریاں انہیں 2018ء کے بعد پہلی بار ٹاپ 10 میں لے آئی ہیں۔

دوسری جانب بھارت کے لیے عمدہ کارکردگی دِکھانے والے رشبھ پنت بھی ٹاپ 10 بلے بازوں میں آ گئے ہیں۔ انہوں نے برمنگھم میں پہلی اننگز میں 111 گیندوں پر 146 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ پھر دوسری اننگز میں مزید 57 رنز جوڑے۔ یوں وہ گزشتہ چھ ٹیسٹ میچز میں دو سنچریاں اور تین نصف سنچریاں بنا چکے ہیں، جن کی بدولت پنت چھ درجے پھلانگ کر نمبر پانچ پر آ گئے ہیں، جو اُن کے کیریئر کی بہترین پوزیشن ہے۔

پھر فاتحِ عالم جو روٹ ہیں، جن کی ایک اور فاتحانہ سنچری نے انہیں کیریئر بیسٹ ریٹنگ 923 پر پہنچا دیا ہے۔ برمنگھم میں ریکارڈ 'رن چَیز' میں انہوں نے 142 رنز ناٹ آؤٹ بنائے تھے۔ یوں روٹ نے نہ صرف اپنے قریبی ترین حریف آسٹریلیا کے مارنس لبوشین پر برتری میں مزید اضافہ کر لیا ہے، بلکہ وہ ریٹنگ پوائنٹس کے لحاظ سے کرکٹ تاریخ کے ٹاپ 20 بلے بازوں میں بھی شامل ہو گئے ہیں۔

مارنس لبوشین کے بعد تیسرے نمبر پر آسٹریلیا ہی کے اسٹیو اسمتھ ہیں جبکہ پاکستانی کپتان بابر اعظم چوتھے نمبر پر موجود ہیں۔

ٹیسٹ کی انفرادی عالمی درجہ بندی

بمطابق 6 جولائی 2022ء

درجہبلے بازپوائنٹس
1 جو روٹ923
2 مارنس لبوشین879
3 اسٹیو اسمتھ826
4 بابر اعظم815
5 رشبھ پنت801
6 کین ولیم سن786
7 عثمان خواجہ779
8 دیموتھ کرونارتنے760
9 روہت شرما746
10 جونی بیئرسٹو742
درجہگیند بازپوائنٹس
1 پیٹ کمنز900
2 روی چندر آشوِن 842
3 جسپریت بمراہ828
4 شاہین آفریدی827
5 کاگیسو رباڈا818
6 جیمز اینڈرسن811
7 کائل جیمیسن788
8 کیمار روچ756
9 نیل ویگنر747
10 جوش ہیزل ووڈ744