آئرلینڈ میچ ہار گیا لیکن دل جیت گیا، ایک بار پھر

0 351

اردو کا ضرب المثل شعر ہے کہ

شکست و فتح میاں اتفاق ہے لیکن

مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا

یہ آئرلینڈ پر بالکل صادق آتا ہے۔ جو ایک، دو نہیں بلکہ ون ڈے سیریز کے تینوں میچز میں جیت کے بہت قریب پہنچا لیکن اسے پا نہیں سکا۔ تیسرے مقابلے میں تو وہ آخری گيند، آخری کھلاڑی اور آخری شاٹ تک پہنچا، لیکن صرف اور صرف 1 رن سے شکست کھا گیا۔

ملاہائیڈ میں کھیلے گئے اس شاندار مقابلے میں  کُل 719 رنز بنے، جس میں  آئرلینڈ 361 رنز کے ہمالیہ جیسے ہدف کے بہت قریب پہنچا، بس فاتحانہ ضرب نہ لگا سکا۔

نیوزی لینڈ کا دورۂ آئرلینڈ 2022ء - تیسرا ون ڈے انٹرنیشنل

آئرلینڈ بمقابلہ نیوزی لینڈ

‏15 جولائی 2022ء

دی ولیج، ملاہائیڈ، ڈبلن، آئرلینڈ

نیوزی لینڈ 1 رن سے کامیاب

نیوزی لینڈ سیریز ‏3-0 سے جیت گیا

نیوزی لینڈ 🏆360-6
مارٹن گپٹل115126
ہنری نکلس7954
آئرلینڈ باؤلنگامرو
جوش لٹل100842
کرٹس کیمفر70461

آئرلینڈ359-9
پال اسٹرلنگ120103
ہیری ٹیکٹر108106
نیوزی لینڈ باؤلنگامرو
میٹ ہنری100684
مچل سینٹنر100713

اس میچ کی خاص بات اُن بلے بازوں کا چلنا تھا،  جن  پر ایک بڑی اننگز ادھار تھی۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے مارٹن گپٹل نے سنچری بنائی جبکہ آئرلینڈ کے تجربہ کار پال اسٹرلنگ بھی بالآخر چل پڑے اور اپنی تیرہویں ون ڈے انٹرنیشنل سنچری بنا ڈالی۔ گو کہ آئرش اننگز میں ہیری ٹیکٹر نے بھی سنچری بنائی لیکن دو سنچریاں بھی آخر میں نیوزی لینڈ کو زیر کرنے کے لیے کافی ثابت نہ ہو سکیں۔

میچ میں ٹاس نیوزی لینڈ نے جیتا اور اس بار خود بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ مارٹن گپٹل کی 126 گیندوں پر 115 رنز کی اننگز اپنی جگہ لیکن 360 رنز کا بڑا ٹوٹل کھڑا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہنری نکلس اور گلین فلپس نے۔ نکلس نے 54 گیندوں پر 79 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ فلپس 30 گیندوں پر 47 رنز بنا گئے۔ جن کے بعد مائیکل بریسویل اور مچل سینٹنر نے اسکور کو 360 رنز تک پہنچا دیا۔

اب آئرلینڈ تھا اور 361 رنز کا ہدف تھا، بظاہر ناقابلِ عبور ، خاص طور پر آئرلینڈ کا ماضی دیکھیں تو۔ 'سبز طوفان' کبھی کسی ون ڈے اننگز میں اتنے رنز نہیں بنا پایا، یہ تو پھر ہدف کا تعاقب تھا۔ پھر آغاز ہی کچھ خاص ثابت نہیں ہوا۔ دوسرے ہی اوور میں کپتان اینڈی بالبرنی صفر پر آؤٹ ہو گئے۔ 10 اوورز مکمل ہونے سے پہلے ہی اینڈی میک برائن کی صورت میں دوسری وکٹ بھی گئی۔

یہاں پر میچ کا رخ بدلا پال اسٹرلنگ اور ہیری ٹیکٹر نے۔ دونوں نے تیسری وکٹ پر 179 رنز کی شراکت داری کی۔ اسٹرلنگ 103 گیندوں پر 120 رنز بنا کر اس وقت آؤٹ ہوئے جب میچ اپنے آخری 15 اوورز میں داخل ہونے والا تھا۔ خیر، یہاں سے آخر تک لے جانا اسٹرلنگ کی ذمہ داری تھی بھی نہیں، یہ کام تھا آنے والے بلے بازوں کا، جنہوں نے ہاتھ پیر تو بہت مارے، بس 'قسمت تو دیکھ ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند' والا معاملہ ہو گیا۔

در حقیقت میچ اُس وقت نیوزی لینڈ کے حق میں جھکنا شروع ہوا جب 39 ویں اوور میں گیرتھ ڈلینی آؤٹ ہوئے۔ ان کی 16 گیندوں پر 22 رنز کی اننگز اس وقت تمام ہوئی جب 70 گیندوں پر 90 رنز کی ضرورت تھی۔ ان کا ایک بھرپور شاٹ کور پر کھڑے مارٹن گپٹل نے ایک ہاتھ سے کیچ کر لیا۔ یہیں سے وکٹیں گرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہاں تک کہ آئرلینڈ صرف 86 رنز کے اضافے سے 6 وکٹوں سے محروم ہوا اور یوں ایک یقینی جیت سے بھی۔ کہاں 271 رنز پر صرف تین وکٹیں تھیں اور کہاں 359 پر 9 آؤٹ؟

ٹیکٹر نے 106 گیندوں پر 108 رنز بنا کر سیریز میں اپنی دوسری سنچری مکمل کی۔ جس کے بعد میچ جیسے جیسے آخری 10 اوورز کے مرحلے میں آیا، آئرلینڈ کے ہاتھ پیر پھولنے لگے۔ خود ٹیکٹر جو شاٹ کھیل کر آؤٹ ہوئے، وہ انتہائی مایوس کن تھا۔ 108 رنز کی بڑی اننگز کھیلنے کے بعد انہیں اس طرح سوئچ ہٹ کی کوشش کرتے ہوئے وکٹ نہیں دینی چاہیے تھی۔

آخری اوور میں آئرلینڈ کو 10 رنز کی ضرورت تھی، تب تیسری گیند پر ایک ڈراپ کیچ سے چوکا بن گیا۔ یہ خوشی کا آخری لمحہ ثابت ہوا کیونکہ اگلی گیند پر رن آؤٹ ہوا اور آئرلینڈ آخری گیند پر تین رنز نہیں بنا پایا۔ یوں شکست کھائی صرف اور صرف ایک رن سے۔

بہرحال، 359 رنز تک پہنچنا بھی کوئی کم بات نہیں۔ اگر آئرلینڈ ہدف حاصل کر لیتا تو یہ ون ڈے تاریخ کا تیسرا سب سے کامیاب رن چَیز ہوتا۔

البتہ فتح کے اتنا قریب پہنچ کر ہار جانا کسی کو اچھا نہیں لگتا۔ اور آئرلینڈ کے ساتھ تو ایسا ایک نہیں کئی بار ہوا ہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف پہلا میچ صرف ایک وکٹ سے، دوسرا محض تین وکٹوں سے ہارا،  اور اب یہ ایک رن کی شکست گویا زخموں پر نمک چھڑک گئی ہے۔ خیر، عمدہ کھیل کی تعریف تو بنتی ہے، بس finishing touch دینا سیکھ لیں۔

آخر میں مارٹن گپٹل کو میچ اور مائیکل بریسویل کو سیریز کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ ملا۔

ویسے آئرلینڈ کو ون ڈے سیریز میں شکست کا بدلہ لینے کا موقع ملے گا ٹی ٹوئنٹی سیریز میں۔ تین ٹی ٹوئنٹی میچز 18 سے 22 جولائی کے دوران بیلفاسٹ میں کھیلے جائیں گے۔