پاکستان اور 300 پلس کا ہدف، ایک دلچسپ تاریخ

0 415

پاکستان نے گال میں جو کامیابی حاصل کی ہے، اس کا سرور تو عرصے تک آتا رہے گا۔ اور آخر کیوں نہ آئے؟ ایک ایسی پچ پر جو پہلے دن ہی اسپنرز کی جنّت بنی ہوئی تھی، 342 رنز کا ہدف ناممکنات میں سے تھا۔ چند دن پہلے آسٹریلیا کا حال ہی دیکھ لیں، جو اسی میدان پر دوسری اننگز میں صرف 151 رنز پر ڈھیر ہو گیا تھا اور اننگز سے شکست کھائی تھی۔

لیکن پاکستان نے ناممکن کو ممکن بنایا عبد اللہ شفیق کی 160 رنز کی اننگز کی بدولت۔ 342 رنز نہ صرف گال کے میدان پر حاصل کیا گیا سب سے بڑا ہدف ہے بلکہ یہ سری لنکا کی سرزمین پر بھی دوسرا سب سے بڑا رن چَیز بن چکا ہے۔

آج سے پہلے پاکستان کرکٹ میں صرف تین مواقع ایسے آئے تھے، جن میں قومی ٹیم نے 300 سے زیادہ کا ہدف پایا۔ ایک تو 2015ء کا تاریخی پالی کیلے ٹیسٹ تھا، جس میں پاکستان نے 377 رنز کا ٹارگٹ عبور کیا تھا۔ یہ آج بھی سری لنکا کے کسی میدان پر حاصل کردہ سب سے بڑا ہدف ہے اور ساتھ ہی پاکستان کا سب سے کامیاب تعاقب بھی۔

ٹیسٹ: پاکستان کے سب سے بڑے کامیاب اہداف

ہدففتح کا مارجنبمقابلہبمقامبتاریخ
پاکستان 377‏7 وکٹ سری لنکاپالی کیلےجولائی 2015ء
پاکستان 342‏4 وکٹ سری لنکاگالجولائی 2022ء
پاکستان 314‏1 وکٹ آسٹریلیا کراچیستمبر 1994ء
پاکستان 302‏5 وکٹ سری لنکاشارجہجنوری 2014ء
پاکستان 274‏7 وکٹ نیوزی لینڈویلنگٹندسمبر 2003ء

جس طرح آج کے ہیرو عبد اللہ شفیق ہیں، اسی طرح سات سال پہلے اِس ٹیسٹ کے مردِ میدان تھے یونس خان۔ جنہوں نے ناٹ آؤٹ 171 رنز بنائے تھے اور پاکستان کی کامیابی کی منزل تک پہنچایا تھا۔

پھر نیشنل اسٹیڈیم، کراچی کا وہ یادگار ٹیسٹ آتا ہے، جسے آج بھی تاریخ کے بہترین میچز میں شمار کیا جاتا ہے۔ پاکستان 314 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 184 رنز پر ہی سات وکٹیں گنوا چکا تھا۔ جب نویں وکٹ گری تو اسکور بورڈ پر 258 رنز جمع تھے، یعنی فتح مزید 56 رنز دُور تھی۔ یہاں آخری سپاہی انضمام الحق اور ان کے آخری ساتھی مشتاق احمد نے تاریخ کا دھارا پلٹ دیا۔ انضمام 58 اور مشتاق 20 رنز کے ساتھ فاتحانہ میدان سے واپس آئے۔

اس میچ کا سب سے دلچسپ لمحہ آخری گیند پر آیا تھا، جس پر انضمام الحق فاتحانہ شاٹ کھیلنے کے لیے آگے بڑھے، گیند کو سمجھ نہ پائے، بِیٹ ہوئے لیکن گیند وکٹ کیپر این ہیلی کو بھی دھوکا دے گئی اور بائے کے 4 رنز کے ساتھ پاکستان میچ صرف ایک وکٹ سے جیت گیا۔ وہ کہتے ہیں نا کہ قسمت بھی بہادروں کا ساتھ دیتی ہے، انضمام یہاں تک لائے تھے تو فتح کے حقدار بھی وہی تھے۔  

کوئی ٹیسٹ جیتنے کے لیے 300 رنز کا ایک اور حیران کُن تعاقب 2014ء میں ہوا تھا۔ پاکستان اور سری لنکا شارجہ میں مد مقابل تھے جہاں پاکستان کو جیتنے کے لیے 302 رنز کا ہدف ملا تھا۔ اوورز بہت کم تھے اور پاکستان کو تیز کھیلنے کی ضرورت تھی۔ یہاں مصباح الیون نے 5.25 رنز فی اوور کے اوسط سے رنز بنائے اور 58 ویں اوور ہی میں ہدف کو جا لیا۔ 300 سے زیادہ رنز کا اس سے زیادہ تیزی سے تعاقب تب تک کسی نے نہیں کیا تھا۔ یعنی پاکستان نے اس وقت BazBall ایجاد کیا، جب کوئی اس حکمت عملی کو جانتا بھی نہیں تھا۔ پاکستان سیريز میں ‏1-0 سے خسارے میں تھا اور سیریز بچانے کے لیے یہ آخری ٹیسٹ لازماً جیتنا تھا۔

شارجہ کے اس ناقابلِ فراموش ٹیسٹ کی آخری اننگز میں اظہر علی 137 گیندوں پر 103 رنز کے ساتھ سب سے نمایاں رہے جبکہ سرفراز احمد نے 46 گیندوں پر 48 اور کپتان مصباح الحق نے 72 گیندوں پر 68 رنز بنا کر فتح میں اہم کردار ادا کیا۔  

اب 2022ء میں ایسا چوتھی بار ہوا کہ پاکستان نے 300 سے زیادہ کا ٹارگٹ چَیز کر لیا۔ 342 رنز پاکستان کی ٹیسٹ تاریخ کا دوسرا سب سے بڑا ہدف بھی ہے جبکہ پالی کیلے 2015ء اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔

ویسے کرکٹ تاریخ میں کامیابی سے حاصل کیا گیا سب سے بڑا ہدف ہے 418 رنز جو ویسٹ انڈیز نے 2003ء میں آسٹریلیا کے خلاف حاصل کیا تھا۔

ٹیسٹ میں سب سے بڑا ہدف تعاقب

ہدففتح کا مارجنبمقابلہبمقامبتاریخ
ویسٹ انڈیز418‏3 وکٹ آسٹریلیا اینٹیگامئی 2003ء
جنوبی افریقہ414‏6 وکٹ آسٹریلیا پرتھدسمبر 2008ء
آسٹریلیا 404‏7 وکٹ انگلینڈلیڈزجولائی 1948ء
بھارت403‏6 وکٹ ویسٹ انڈیزپورٹ آف اسپیناپریل 1976ء
ویسٹ انڈیز395‏3 وکٹ بنگلہ دیشچٹاگانگفروری 2021ء