اظہر علی نے ڈبل سنچری کا موقع گنوا دیا

اظہر آسٹریلیا کے خلاف ہوم اور اوے ڈبل سنچریاں رکھنے والے واحد بیٹسمین بن جاتے۔ لیکن۔۔۔!

0 444

راولپنڈی ٹیسٹ کے دوسرے روز جب امام الحق نے 150 کا ہندسہ عبور کیا تو سب کی نظریں اس پر تھیں کہ وہ اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری کو ہی ڈبل سنچری میں بدل پاتے ہیں یا نہیں۔ لیکن امام زیادہ دیر ٹھیر نہیں پائے اور 157 رنز پر آؤٹ ہو گئے۔ البتہ دوسرے اینڈ سے اظہر علی بہت جم کر کھیل رہے تھے اور سنچری مکمل کرنے کے بعد تو انہوں نے رنز کی رفتار کو بھی کافی تیز کر لیا تھا۔ لیکن عین اس موقع پر جب لگ رہا تھا کہ وہ آسٹریلیا کے خلاف ایک اور ڈبل سنچری بنا لیں گے، ایک ناقص شاٹ نے ساری محنت پر پانی پھیر دیا۔ کم از کم 185 رنز بنانے کے بعد انہیں ایسا شاٹ نہیں کھیلنا چاہیے تھا۔

یہ مارنس لبوشین کی ایک گیند تھی جس پر اظہر نے ریورس سوئپ کھیلنے کا فیصلہ کیا لیکن وہ شاٹ کیچ میں بدل گیا۔ یوں 361 گیندوں پر 15 چوکوں اور 3 چھکوں سے مزین اننگز ڈبل سنچری سے محروم رہ گئی اور اس سنگِ میل سے صرف 15 رنز کی دُوری پر تمام ہوئی۔ اگر اظہر 200 کا ہندسہ عبور کر لیتے تو یہ آسٹریلیا کے خلاف کسی بھی پاکستانی بلے باز کی چھٹی ڈبل سنچری ہوتی۔

اظہر علی سے پہلے چار پاکستانی بلے باز ایسے ہیں جو آسٹریلیا کے خلاف ڈبل سنچری بنا چکے ہیں۔ یہ کارنامہ انجام دینے والے پہلے پاکستانی بیٹسمین وکٹ کیپر تسلیم عارف تھے۔

آسٹریلیا کے خلاف مارچ 1980ء میں کھیلے گئے فیصل آباد ٹیسٹ میں انہوں نے 210 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی تھی۔ 379 گیندوں پر 20 چوکوں سے سجی یہ اننگز کسی بھی پاکستانی بلے باز کی آسٹریلیا کے خلاف اوّلین ڈبل سنچری تھی۔

اس کے آٹھ سال بعد جاوید میانداد نے یہ کارنامہ انجام دیا۔ آسٹریلیا کے دورۂ پاکستان 1988ء کے کراچی ٹیسٹ میں انہوں نے 211 رنز بنائے تھے۔ میانداد تب میدان میں آئے تھے جب پاکستان کے 21 رنز پر دونوں اوپنرز آؤٹ ہو چکے تھے۔ لیکن ان کی 441 گیندوں پر محیط اننگز کی بدولت پاکستان 469 رنز تک پہنچا اور بعد میں اقبال قاسم کی باؤلنگ کی بدولت ایک اننگز اور 188 رنز سے جیتا بھی۔

پھر وہ اننگز آتی ہے جسے پاکستان کرکٹ تاریخ کی بہترین باریوں میں شمار کرنا چاہیے۔ اکتوبر 1994ء میں آسٹریلیا کے خلاف راولپنڈی ٹیسٹ میں سلیم ملک نے اُس وقت 237 رنز کی شاندار باری کھیلی جب پاکستان آسٹریلیا کے 521 رنز کے جواب میں فالو آن کا شکار ہو چکا تھا۔ پہلی اننگز میں 261 کے خسارے کے بعد سلیم ملک کے یہ 237 رنز پاکستان کے لیے میچ بچانے میں بہت کارآمد ثابت ہوئے۔

آسٹریلیا کا دورۂ پاکستان، تاریخ پر ایک نظر

اس کے بعد 20 سال تک پاکستان کا کوئی بیٹسمین آسٹریلیا کے خلاف ڈبل سنچری نہیں بنا سکا۔ یہاں تک کہ 2014ء میں ابو ظبی ٹیسٹ میں یونس خان نے یہ کارنامہ انجام دیا۔ انہوں نے 349 گیندوں پر 213 رنز بنائے تھے اور پاکستان یہ میچ 356 رنز کے بھاری مارجن سے جیتا تھا۔

ویسے اظہر علی آسٹریلیا کے خلاف ایک ڈبل سنچری رکھتے ہیں اور یہ اس لیے سب سے منفرد اور سب سے جدا ہے کیونکہ یہ آسٹریلیا میں بنائی گئی تھی۔ یہ 2016ء کے دورۂ آسٹریلیا کا میلبرن ٹیسٹ تھا جس میں اظہر علی نے 364 گیندوں پر 205 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز کھیلی تھی۔

لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان پہلی اننگز 443 رنز پر ڈکلیئر کرنے کے باوجود آخر میں یہ میچ ایک اننگز اور 18 رنز سے بُری طرح ہارا۔

اگر اظہر آج سنچری بنا لیتے تو واحد بیٹسمین بن جاتے جو آسٹریلیا کے خلاف ہوم اور اوے دونوں ڈبل سنچریاں رکھتے۔ بہرحال، آج ان کی قسمت میں ڈبل سنچری نہیں تھی۔

آسٹریلیا کے خلاف ڈبل سنچری بنانے والے پاکستانی بیٹسمین

رنز گیندیں چوکے/چھکے بمقام بتاریخ
تسلیم عارف 210* 379 ‏20/0 فیصل آباد مارچ 1980ء
جاوید میانداد 211 441 ‏29/1 کراچی ستمبر 1988ء
سلیم ملک 237 328 ‏34/0 راولپنڈی اکتوبر 1994ء
یونس خان 213 349 ‏15/2 ابو ظبی اکتوبر 2014ء
اظہر علی 205* 364 ‏20/0 میلبرن دسمبر 2016ء

اگر ہم پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو 22 بلے باز 44 ڈبل سنچریاں اسکور کر چکے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ 6 ڈبل سنچریاں جاوید میانداد اور یونس خان کی ہیں۔ محمد یوسف اور ظہیر عباس نے 4،4 اور اظہر علی نے 3 ڈبل سنچریاں بنا رکھی ہیں۔

حنیف محمد، قاسم عمر، شعیب محمد اور انضمام الحق نے اپنے کیریئر میں دو، دو ڈبل سنچریاں اسکور کیں جبکہ محمد حفیظ، عامر سہیل، عابد علی، اعجاز احمد، امتیاز احمد، محسن خان، مدثر نذر، مشتاق محمد، سلیم ملک، شعیب ملک، تسلیم عارف، توفیق عمر اور وسیم اکرم بھی ایک مرتبہ یہ کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔

[کچھ یادیں، کچھ باتیں] وسیم اکرم کی ڈبل سنچری

امتیاز احمد وہ پہلے بلے باز تھے جنہوں نے پاکستان کے لیے سب سے پہلے ڈبل سنچری بنائی تھی۔ انہوں نے اکتوبر 1955ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف لاہور ٹیسٹ میں 209 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔

ان 44 ڈبل سنچری اننگز میں سے صرف 4 ایسی تھیں جو 300 رنز کا ہندسہ بھی عبور کر گئیں یعنی ٹرپل سنچریاں بنیں۔ یہ چار بلے باز ہیں حنیف محمد، انضمام الحق، یونس خان اور اظہر علی۔ جی ہاں! اظہر کے ریکارڈ پر ٹرپل سنچری بھی ہے۔ اظہر علی اس وقت اپنا 92 واں ٹیسٹ کھیل رہے ہیں، جن میں 19 سنریوں اور 34 نصف سنچریوں کے ساتھ 6906 رنز ان کے ریکارڈ پر موجود ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ راولپنڈی ٹیسٹ ہی میں اپنے 7 ہزار رنز بھی مکمل کر لیں؟