[آج کا دن] محمد عامر، پاکستان کرکٹ کا فینکس

0 1,004

پاکستان میں کرکٹ دیکھنے والے کم عمر شائقین نے وسیم اکرم کو اپنے زمانے میں باؤلنگ کرواتے تو نہیں دیکھا ہوگا، لیکن کوئی غم نہیں کیونکہ انہوں نے محمد عامر کو ضرور دیکھا ہے۔ ایک ایسا باؤلر جسے دنیا 'نیا وسیم اکرم' کہتی تھی، جو صرف 17 سال کی عمر میں بین الاقوامی کرکٹ میں آیا اور آتے ہی چھا گیا۔ اس کی اڑان جتنی تیزی سے آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچی، اس سے کہیں زیادہ رفتار سے وہ زمین بوس بھی ہوا لیکن اسی خاک سے پھر پیدا ہوا، بالکل افسانوی پرندے ققنوس (فینکس) کی طرح۔

محمد عامر 1992ء میں آج کے دن یعنی 13 اپریل کو پیدا ہوئے تھے اور 2009ء میں صرف 17 سال کی عمر میں بین الاقوامی کرکٹ میں آئے۔ ان کا پہلا نمایاں ٹورنامنٹ 2009ء ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ تھا جس میں انہوں نے سب سے نمایاں کارکردگی فائنل میں دکھائی، اور مین اِن فارم تلکارتنے دلشان کو پہلے ہی اوور میں آؤٹ کر کے پاکستان کی فتح کی بنیاد رکھی۔

پھر نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے دورے کیے۔ ایسا لگتا تھا کہ دنیا اب عامر کے قدموں میں ہوگی۔ خاص طور پر2010ءکے دورۂ انگلینڈ میں تو وہ عروج پر تھے۔ جس دن انہوں نے سب سے کم عمر میں 50ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے کا عالمی ریکارڈ بنایا، اس کے اگلے ہی دن وہ منحوس خبر آ گئی۔ برطانیہ کے ایک اخبار کا کہنا تھا کہ محمد عامر اور محمد آصف نے ایک سٹے باز سے رقم لے کر انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میں جان بوجھ کر نو-بالز کروائی تھیں اور اِس میں اُس وقت کے کپتان سلمان بٹ بھی شامل تھے۔

خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی اور پھر تحقیقات کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے جرم ثابت ہونے پر نہ صرف عامر بلکہ آصف اور سلمان بٹ پر بھی پانچ، پانچ سال کی پابندی لگا دی۔

ایک اُبھرتے ہوئے باؤلر کے پر کاٹ دیے گئے اور وہ آسمان کی بلندیوں سے گرتے ہوئے ڈھیر ہو گیا۔

آصف اور سلمان کا کیریئر تو ہمیشہ کے لیے ختم ہی ہو گیا لیکن عامر کو اس لحاظ سے خوش قسمت کہا جا سکتا ہے کہ انہیں دوسرا موقع ملا لیکن ۔۔۔ ان کی صرف سزا ختم ہوئی تھی، امتحان نہیں۔ آنے سے پہلے انہیں کئی حلقوں کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، نہ صرف دوسرے ملکوں کے کھلاڑی بلکہ خود پاکستان کے کئی سابق اور موجودہ کرکٹرز نے عامر کی واپسی کی شدید مخالفت کی، کچھ علانیہ سامنے آئے، کچھ نے اپنی ناراضگی کو نجی محافل تک محدود رکھا لیکن یہ بات طے ہے کہ ان کی واپسی بہت بدمزگی کے ماحول میں ہوئی۔

ستمبر 2015ء میں پابندی ختم ہونے کے کچھ ہی عرصے میں عامر ایک مرتبہ پھر ایکشن میں نظر آئے۔ پہلے پہل انہوں نے بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں چٹاگانگ وائی کنگز کی نمائندگی کی اور اچھی کارکردگی دکھانے کی وجہ سے بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے بھی ان پر کھل گئے۔

لگ رہا تھا کہ سلسلہ جہاں سے ٹوٹا تھا، عامر نے بالکل وہیں سے جوڑ دیا ہے۔ واپسی کے بعد بھی انہوں نے پاکستان کے لیے کئی یادگار کارکردگیاں دکھائیں۔

سب سے پہلے نیوزی لینڈ کے دورے پر دو میچز میں 5 وکٹیں حاصل کیں، لیکن جس کارکردگی نے انہیں ایک مرتبہ پھر موضوعِ گفتگو بنا دیا، وہ پاکستان سپرلیگ کے پہلے سیزن میں تھی۔ فروری 2016ء میں انہوں نے کراچی کنگز کی جانب سے روایتی حریف لاہور کے خلاف اہم مقابلے میں ہیٹ ٹرک کی اور گویا اعلان کر دیا کہ شیر واپس آ چکا ہے!

بین الاقوامی سطح پر ان کی پہلی بہت ہی نمایاں اور مشہور کارکردگی مارچ 2016ء کے ایشیا کپ میں تھی۔ یہ روایتی حریف بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی مقابلہ تھا کہ جس میں پاکستان صرف 84 رنز کا دفاع کر رہا تھا۔ یہاں محمد عامر نے صرف 18 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کر کے سنسنی پھیلا دی تھی۔ پاکستان یہ میچ تو جیت نہیں پایا لیکن عامر کی ابتدائی وکٹوں نے جو ماحول باندھ دیا تھا، وہ سوچ کر آج بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

پھر جولائی 2016ء میں لارڈز کے اسی میدان پر جہاں 6 سال پہلے عامر کا کیریئر ختم ہوا تھا، انہوں نے آخری وکٹ حاصل کر کے پاکستان کو ایک یادگار کامیابی دلائی۔

اگلے سال یعنی 2017ء میں انگلینڈ ہی میں کھیلی گئی چیمپیئنز ٹرافی میں محمد عامر نے نمایاں کارکردگی دکھائی۔ فائنل میں انہوں نے روہت شرما، ویراٹ کوہلی اور شیکھر دھاون کی بڑی وکٹیں حاصل کر کے پاکستان کی کامیابی میں نمایاں کردار ادا کیا اور ثابت کیا کہ وہ بڑے میچز کے بڑے کھلاڑی ہیں۔

بظاہر سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے، لیکن حقیقتاً ایسا نہیں تھا۔ کچھ ذاتی مصروفیات، کچھ انجریز اور پھر پاکستان میں حکومت بدلتے ہی کرکٹ بورڈ میں آنے والا نیا سیٹ اپ، سب نے مل کر آہستہ آہستہ محمد عامر کو دیوار سے لگا دیا۔

پھر 2018ء میں دورۂ ویسٹ انڈیز میں یادگار کامیابی اور ورلڈ کپ 2019ء میں شاندار کارکردگی کے بعد جیسے ہی عامر نے ٹیسٹ سے ریٹائرمنٹ لی، سب ہتھے سے اکھڑ گئے اور کئی خاموش افراد کو زبان مل گئی۔ اس ایک فیصلے نے عامر کو بہت نقصان پہنچایا، اتنا زیادہ کہ ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والا باؤلر دورۂ نیوزی لینڈ کے لیے 35 رکنی اسکواڈ میں بھی شامل نہیں کیا گیا۔ یہاں تک کہ دورۂ زمبابوے سے بھی اخراج ہو گیا اور پھر 2020ء میں انہیں سینٹرل کانٹریکٹ سے بھی محروم کر دیا گیا۔ عامر نے اپنا آخری مقابلہ اگست 2020ء میں ایک ٹی ٹوئنٹی کی صورت میں کھیلا تھا جبکہ 2019ء کے بعد سے انہیں کسی ون ڈے میں نہیں کھلایا گیا یعنی وہ تقریباً تین سال سے باہر ہیں۔

محمد عامر کے کیریئر پر ایک نظر

فارمیٹمقابلےوکٹیںبہترین باؤلنگاوسط‏5 وکٹیں
ٹیسٹ361197/6430.47‏4 بار
ون ڈے انٹرنیشنل 61815/3029.62‏1 بار
ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل50594/1321.40‏0 بار
فرسٹ کلاس6726010/7222.50‏13 بار
لسٹ اے841235/3026.65‏2 بار
ٹی ٹوئنٹی2142416/1723.14‏2 بار

محمد عامر کی واپسی کا کوئی امکان نظر تو نہیں آتا لیکن گزشتہ چند دنوں سے ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ وہ ریٹائرمنٹ واپس لے رہے ہیں۔ وجہ غالباً پاکستان میں حکومت کی تبدیلی اور ممکنہ طور پر نئی انتظامیہ کی آمد ہوگی۔

محمد عامر نے جب ریٹائرمنٹ لی تھی تو نجم سیٹھی اور شاہد آفریدی کاخاص شکریہ ادا کیا تھا اور کہاں تھا کہ مصباح الحق اور وقار یونس کے جانے کے بعد وہ واپس آ سکتے ہیں لیکن ان کی بد قسمتی کہ تب رمیز راجا بورڈ کے چیئرمین بن گئے اور یوں عامر کی جلا وطنی کا زمانہ بڑھتا ہی گیا۔ اب دیکھتے ہیں کہ وہ واقعی واپس آ پاتے ہیں یا نہیں۔