شین وارن کے خلاف سلیم ملک سے بہتر بیٹسمین نہیں دیکھا، مارک ٹیلر

0 359

انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان لارڈز ٹیسٹ کئی یادوں کے ساتھ رخصت ہو گیا، لیکن اس دوران ایک اہم پہلو جس پر بہت کم لوگوں کی توجہ گئی، وہ پاکستان کے سابق کپتان سلیم ملک کا ذکر تھا۔

میچ کے دوران ایک وقفے میں کمنٹیٹرز مائیک ایتھرٹن اور مارک ٹیلر کے درمیان گفتگو ہو رہی تھی، جس میں ایتھرٹن نے سوال کیا کہ کون سا بلے باز تھا جو شین وارن کو بخوبی کھیل لیتا تھا، وہ خود کہتے تھے کہ سچن تنڈولکر اور برائن لارا ایسے بیٹسمین تھے لیکن دوسرا کون سا ایسا بیٹسمین تھا؟

اس سوال پر مارک ٹیلر نے کہا کہ برائن لارا کا نام بلاشبہ ذہن میں آتا ہے، لیکن میں ایک اور کھلاڑی کا نام لوں گا، پاکستان کے سابق کپتان سلیم ملک۔ سلیم ملک نے 1994ء میں ہمارے دورۂ پاکستان میں شین وارن کو بہت عمدگی سے کھیلا۔ اس سیریز میں انہوں نے ہمارے خلاف 500 سے زیادہ رنز بنائے۔

یہ ان چند سیریز میں سے ایک تھی جس میں مجھے شین وارن کی باؤلنگ پر ڈیپ پوائنٹ پر فیلڈر کھڑا کرنا پڑا، کیونکہ سلیم ملک وارن کی لینتھ کو بخوبی سمجھ رہے تھے۔ میں نے دنیا میں دوسرا کوئی بیٹسمین نہیں دیکھا، جو وارن کے خلاف اتنی خوبی سے کٹ کھیل رہا ہو۔ گیند وارن ہاتھ سے نکلتی تھی اور ملک لینتھ سمجھ جاتے تھے۔

مارک ٹیلر نے جس دورۂ پاکستان کا ذکر کیا ہے، وہ 1994ء میں کیا گیا تھا اور بلاشبہ یہ دونوں ممالک کے درمیان کھیلی گئی یادگار ترین ٹیسٹ سیریز تھی۔ سلیم ملک پاکستان کے کپتان تھے جبکہ مارک ٹیلر آسٹریلیا کی قیادت کر رہے تھے۔ سیریز کا پہلا مقابلہ کراچی میں ہوا تھا، جس میں پاکستان نے صرف ایک وکٹ سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اسے تاریخ کے بہترین ٹیسٹ میچز میں شمار کیا جاتا ہے۔

سلیم ملک کی شاندار کارکردگی کی بدولت پاکستان اگلے دونوں ٹیسٹ برابر کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ شین وارن اور گلین میک گرا جیسے باؤلرز کے خلاف سلیم ملک نے ایک ڈبل سنچری بھی بنائی۔ صرف تین ٹیسٹ میچز میں انہوں نے دو سنچریوں اور ایک نصف سنچری کی مدد سے 557 رنز بنائے۔

ویسے یہی وہ سیریز تھی، جس کے حوالے سے شین وارن اور مارک واہ نے الزام لگایا تھا کہ اس دورے پر سلیم ملک نے انہیں پیسوں کے بدلے میچ فکس کرنے کی پیشکش کی تھی۔ سلیم ملک تو آج بھی کہتے ہیں کہ شین وارن برداشت نہیں کر پائے کہ کوئی بیٹسمین اس عمدگی سے ان کے خلاف کھیلے اور خفّت مٹانے کے لیے یہ الزام جڑ دیا۔

بہرحال، سلیم ملک نے پاکستان کے لیے 103 ٹیسٹ میچز کھیلے جن میں 15 سنچریوں اور 29 نصف سنچریوں کی مدد سے 5768 رنز بنائے۔ انہوں نے 283 ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں بھی ملک کی نمائندگی کی اور 7170 رنز اسکور کیے۔ ان میں پانچ سنچریاں اور 47 نصف سنچریاں بھی شامل تھیں۔ 12 ٹیسٹ اور 34 ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں انہوں نے پاکستان کی قیادت کے فرائض بھی انجام دیے۔

سلیم ملک کے کیریئر پر ایک نظر

فارمیٹمیچزرنزاوسطبہترین اننگزسنچریاںنصف سنچریاں
ٹیسٹ103576843.692371529
ون ڈے انٹرنیشنل283717032.88102547
فرسٹ کلاس2691658645.942374381
لسٹ اے4261185636.591381278