پی ایس ایل، کون سب سے آگے؟

0 1,191

پاکستان سپر لیگ کا تیسرا سیزن اس وقت اپنے عروج پر ہے۔ تمام ٹیموں نے ابتدائی مرحلے کے 10 میں سے 5 میچز کھیل لیے ہیں یعنی کہ آدھی منزل طے کرلی ہے۔ کوئی اب آگے کے لیے بہت پرامید ہے، کوئی سخت مایوس۔ ملتان سلطانز حیران کن طور پر سب سے نمایاں ہے حالانکہ یہ ٹیم کا پی ایس ایل میں پہلا سیزن ہے لیکن اس نے آتے ہی بڑے بڑوں کے چھکے چھڑا دیے ہیں۔ اس وقت عالم یہ ہے کہ نہ صرف ملتان خود پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست ہے بلکہ انفرادی سطح پر بھی انکے کھلاڑی پیش پیش نظر آ رہے ہیں۔ سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑیوں کو ہی دیکھ لیں۔ اس وقت ملتان کے کمار سنگاکارا پانچ مقابلوں کی چار اننگز میں 59 کے اوسط اور لگ بھگ 123 کے اسٹرائیک ریٹ سے 177 رنز بنا چکے ہیں۔ ان میں کسی بھی کھلاڑی کی سب سے زیادہ تین نصف سنچریاں بھی شامل ہیں۔

سنگا کے بعد دوسرا نام پشاور زلمی کے ڈیوین اسمتھ کا ہے جنہوں نے پانچ مقابلوں کی چار اننگز میں 148 رنز بنائے ہیں۔ ان کا اوسط 49 سے زیادہ اور اسٹرائیک ریٹ 135 سے زیادہ ہے۔ اسمتھ نے واحد نصف سنچری 71 رنز ناٹ آؤٹ کی صورت میں بنائی تھی۔ وہ الگ بات یہ کہ اننگز پشاور زلمی کو مقابلہ نہیں جتوا پائی۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے شین واٹسن 146 رنز کے ساتھ تیسرے جبکہ پشاور زلمی کے اوپنرز کامران اکمل اور تمیم اقبال چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہیں۔ یعنی ٹاپ 5 بلے بازوں میں ہمیں کراچی کنگز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کا کوئی کھلاڑی نظر نہیں آتا جو حیران کن ہے۔

پی ایس ایل 3 میں اب تک سنچری تو کوئی نہیں بنی البتہ نصف سنچریاں 13 بن چکی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی اننگز ڈیوین اسمتھ کی ہے جنہوں نے کراچی کے خلاف میچ میں ناٹ آؤٹ 71 رنز بنائے۔ اسلام آباد کے لیوک رونکی نے بھی کراچی کے خلاف 71 رنز کی اننگز کھیلی تھی البتہ وہ آؤٹ ہو گئے تھے۔ شین واٹسن اور کمار سنگاکارا نے لاہور قلندرز کے خلاف میچز میں بالترتیب 66 اور 63 رنز کی باریاں کھیلیں۔ ان کے علاوہ کوئی بیٹسمین 60 کا ہندسہ پار نہیں کر پایا۔

انفرادی سنچری سے ہٹ کر دیکھیں تو بلے بازوں نے تین سنچری شراکت داریاں ضرور کی ہیں۔ پشاور زلمی کے تمیم اقبال اور کامران اکمل نے لاہور قلندرز کے خلاف مقابلے میں 104 رنز کی ناٹ آؤٹ پارٹنرشپ بنائی تھی اور پشاور زلمی کو 10 وکٹوں کے بھاری مارجن سے میچ جتوایا تھا۔ اسلام آباد کے بیٹسمین نمایاں نظر تو نہیں آتے لیکن گزشتہ میچ میں لیوک رونکی اور جے پی دومنی نے کراچی کنگز کے خلاف 104 رنز کی اوپننگ پارٹنرشپ کی تھی جس کی وجہ سے کراچی کو سیزن میں پہلی شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ ویسے اسی مقابلے میں کراچی کے خرم منظور اور بابر اعظم نے بھی دوسری وکٹ پر 101 رنز بنائے تھے، وہ الگ بات کہ یہ شراکت داری کنگز کو جتوا نہیں پائی۔

بیٹنگ کے بعد باؤلنگ کو دیکھیں تو یہاں بھی سلطانوں کی سلطانی نظر آتی ہے، کیونکہ یہاں عمران طاہر سب سے آگے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے عمران طاہر نے سیزن میں ایک یادگار ہیٹ ٹرک سمیت کل 10 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ سیزن میں اب تک انہوں نے کل 14 اوورز پھینکے ہیں اور 10.20 کے اوسط سے 10 کھلاڑیوں کو شکار بنایا۔ صرف 19 رنز دے کر 3 وکٹیں ان کی بہترین باؤلنگ رہی۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کے محمد سمیع دوسرے نمبر پر ہیں جنہوں نے لاہور قلندرز کے خلاف مقابلے میں دو یادگار ترین اوورز پھینکے تھے۔ ایک لاہور کی اننگز کا آخری اوور اور دوسرا سپر اوور اور یوں یونائیٹڈ کو ایک تاریخی کامیابی دلائی۔ سمیع اب تک پانچ میچز میں 8 کھلاڑیوں کو آؤٹ کر چکے ہیں جن میں 21 رنز دے کر 3 وکٹیں ان کی بہترین باؤلنگ تھی۔ ملتان کے ایک اور باؤلر جنید خان نے بھی اس سیزن میں ہیٹ ٹرک کی ہے، جس کو ملا کر اب تک 7 کھلاڑیوں کو آؤٹ کر چکے ہیں۔ پشاور زلمی کے وہاب ریاض نے بھی 7 وکٹیں لی ہیں۔

فیلڈنگ کو دیکھیں تو اسلام آباد کے آصف علی سب سے آگے ہیں۔ لاہور قلندرز کے خلاف سنسنی خیز مقابلے میں آصف نے دو شاندار کیچز پکڑے تھے اور اسلام آباد کو مقابلے میں واپس لائے تھے۔ وہ اب تک پانچ میچز میں پانچ کیچز پکڑ چکے ہیں، جو کسی بھی دوسرے کھلاڑی سے زیادہ ہیں۔

ٹیموں کی مجموعی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو کسی بھی میچ میں سب سے زیادہ رنز ملتان سلطانز نے بنائے ہیں۔ لاہور قلندرز کے خلاف میچ میں ملتان نے 5 وکٹوں پر 179 رنز اسکور کیے تھے۔ ان کے علاوہ پشاور زلمی نے اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف مقابلے میں چھ وکٹوں پر 176 رنز بنائے تھے۔ ان دونوں کے علاوہ کوئی ٹیم 170 تو کجا 160 رنز کا ہندسہ بھی عبور نہیں کرپائی۔

سب سے بڑے مارجن سے کامیابی بھی ملتان کو ہی ملی ہے، جس نے لاہور قلندرز کو 180 رنز کا ہدف دیا اور مقابلہ 43 رنز سے جیتا۔ پشاور زلمی نے 177 رنز کا ہدف دے کر 34 رنز سے کامیابی حاصل کی جبکہ کراچی نے روایتی حریف لاہور قلندرز کو 27 رنز سے ہرایا۔

آج سے پی ایس ایل 3 کے میچز ایک مرتبہ پھر دبئی میں کھیلے جا رہے ہیں۔ یہ بہت اہم مرحلہ ہے کیونکہ یہ طے کرے گا کہ کون سی ٹیم باآسانی کوالیفائرز تک جائے گی اور کس کو سخت مشکلات کا سامنا ہوگا۔